تنہائی

تنہائی

آنکھوں سے ہٹ جائے تو منظر واضح دیکھتے ہیںلوگ بہت پرانے جو ہوں وہی لوگ نئے وہ لگتے ہیں نظر آئے جو شخص وہ ویسا نہیں ہوتاکچھ نقاب ہوتے ہیں
سحر

سحر

سحر شب تمناؤں کا ڈیرہ ہےتم نے کیا کوئی پہاڑ ادھیڑا ہے مزدور مرگئے تمہاری تعمیر میںتم پر تو کسی آسیب کا پہرا ہے میں ڈھل بھی جاؤں تو جلتا
میں پا کے چوغہ عشق دا

میں پا کے چوغہ عشق دا

میں پا کے چوغہ عشق دامیرا کللا ساوے رنگ دا ہے میں رنگاں وچوں رنگ ہاںمیں نچ دا شوق ملنگ ہاں میرا بیری تھلے مکان وےمیں کالے پکے رنگ دا
دل کی تو بہار ہے

دل کی تو بہار ہے

یہ راہ منزل قرار ہے میرے دل کی تو بہار ہےتیری جستجو ہے میرا فیصلہ میرا ہر حرف تیرا پیار ہے میری بستی سے تو گزر کہ دیکھتیرے چرچوں کا
راکھ یا آتش فشاں

راکھ یا آتش فشاں

وقت سے کیوں ڈراتی ہوعشق میرا سچا ہےاداسیوں کے یہ قصےدیوانے کو سناتی ہواداسیاں جھیل آنکھوں سےمیں ہی نوچ پھینکوں گاخواب سچی دنیا کےان آنکھوں میں پرو دوں گاکس کا
یاد

یاد

بت کوئی اور دلِ زار میں آباد کریںجو ہمیں چھوڑ گیا ہے اسے کیا یاد کریں شہزاد سلیم
آہ

آہ

آہ بن کر دل مضطر سے نکل آیا ہوںدیکھ اب میں ترے منظر سے نکل آیا ہوں شہزاد سلیم
تمھارے بِن

تمھارے بِن

اور اب یہ سُوچ کے خود پر بڑا ہی ہنستا ہوںکبھی بُھلانا تجھے کتنا تھا کِٹھن مجھ کو کبھی نہ کٹتا تھا دن اور نہ شام ہوتی تھیپہ جینا آ
آخر

آخر

دل کی دیوار گرا دی آخرتوُ نے اوقات دکھا دی آخر دیکھ اب کمرہِ دل سے میں نےتیری تصویر ہٹا دی آخر شہزاد سلیم
موت دا قیدی

موت دا قیدی

او ٹریا تاں اوں دی یاد کوںایویں سینے لائیمجیویں چھیکڑی رات اپڑاں کوںکوئی موت دا قیدیول ول سینے لیندئے شہزاد سلیم