پچھتاوّا

پچھتاوّا

انابیہ خان "ماں میں تھک گیا ہوں آپکی روز کی دوائیاں لاتے لاتے ، میرے پاس قارون کا خزانہ نہیں ہے ، جو آپ پر لٹاتا رہوں ، آخر میں
بنت حوا

بنت حوا

انابیہ خان "میں کہاں سے لاوّں اور پیسے ، جو بھی تھے آپ کے حوالے کر دیے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ عاجزی سے بولی تھی ۔۔۔"مجھے کچھ نہیں سننا مجھے 80
ظالم سسرال

ظالم سسرال

ازقلم انابیہ خان" نورین کہاں مر گئی ہو تم ، سات بج چکے ہیں ، ابھی تک تم نے ناشتہ بھی نہیں بنایا ، تم جانتی بھی ہو ، میں

تقویٰ

بقلم انابیہ خان " بس میں نے کہہ دیا ہے ، اس بار میں پنک رنگ کا بکرا لے کے رہوں گی "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو

شاعری

میں سمجھتاتھا کہ وہ شخص مرا سب کچھ ہےپھر اُسی شخص نے کچھ بھی نہیں چھوڑا میراشہزاد سلیم
Everywhere

Everywhere

I searched you everywhereBut found you no whereI went to different placesI went to OceansideI went to dessertsI went to the hillsEven I reached to SkiesAnd there were many hindrancesStill
Don’t want

Don’t want

Some days I just don't want to.I don't want to go, go outsideI don't want to sleep at nightI don't want to readI don't want to teachI don't want to
نشر مکرر

نشر مکرر

تصوراتی نثر پارہ ٹیرس میرے دل کے آنگن پر اتری اک بے نیاز سی شام۔۔ جب دل طلوع مہتاب کے وقت فرحت و سرور سے بہرہ مند ہوتا ہےتواسی لمحے