ازار شاد حسین
عمرو عیار اور دیونگر مشہور کہانی : شام کا وقت تھا عمر و عیار سردار امیر حمزہ سے ملنے کے بعد ٹہلنے کی غرض سے لشکر سے ذرا دور آ گیا تھا۔ یہ ایک ویران جگہ تھی دور دور تک کوئی انسان نہیں تھا عمر و اپنی مستی میں گم آگے بڑھ رہا تھا کہ اسے تیز ہنسی کی آواز سنائی دی تو اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور اس نے آواز کی سمت دیکھا آواز کی سمت دیکھ کر عمرو کے ہوش اڑ گئے ۔
عمرو نے دیکھا کہ پہاڑ جیسی جسامت رکھنے والے دو د یو نس رہے تھے ان دیوؤں کے سر گنجے تھے اور سروں پر بڑے بڑے مڑے ہوئے دو دو سینگ تھے ان کے کان تو بہت ہی بڑے تھے جب کہ ان
Umro aur deonagar fantasy Journey
کی مونچھیں بھی بہت گھنی تھیں ان میں سے ایک دیو کا جسم گلابی تھا اور دوسرے دیو کا سنہری تھا۔
دونوں دیوؤں نے پاؤں میں کڑے بھی پہنچے ہوئے تھے۔
آدم زاد کون ہو تم ۔ اچانک ان دیوؤں کی نظر عمر و پر پڑی تو ایک دیو نے جھک کر اس سے پوچھا۔
میرا نام خواجہ عمرو عیار ہے۔ تم کون ہو۔ عمرو نے پہلے اپنا نام بتایا اور پھر ان سے پوچھا۔
ہم دیو ہیں۔ میرا نام گلابی دیو ہے اس کا نام سنہری دیو ہے ہمارے یہ بڑے بڑے دانت دیکھ رہے ہو یہ اس بات کی نشانی ہیں کہ ہم آدم خور ہیں لیکن چونکہ اس وقت ہمارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اور ہم حد
سے زیادہ خوش ہیں اس لئے ہم تمہیں چھوڑ رہے ہیں جاؤ کیا یاد کرو گے کہ کیسے اچھے دیوؤں سے پالا پڑا تھا۔ گلابی دیو نے کہا۔
شام کا وقت تھا عمر و عیار سردار امیر حمزہ سے ملنے کے بعد ٹہلنے کی غرض سے لشکر سے ذرا دور آ گیا تھا۔ یہ ایک ویران جگہ تھی دور دور تک کوئی انسان نہیں تھا عمر و اپنی مستی میں گم آگے بڑھ رہا تھا کہ اسے تیز ہنسی کی آواز سنائی دی تو اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور اس نے آواز کی سمت دیکھا آواز کی سمت دیکھ کر عمرو کے ہوش اڑ گئے ۔
عمرو نے دیکھا کہ پہاڑ جیسی جسامت رکھنے والے دو د یو نس رہے تھے ان دیوؤں کے سر گنجے تھے اور سروں پر بڑے بڑے مڑے ہوئے دو دو سینگ تھے ان کے کان تو بہت ہی بڑے تھے جب کہ ان
کی مونچھیں بھی بہت گھنی تھیں ان میں سے ایک دیو کا جسم گلابی تھا اور دوسرے دیو کا سنہری تھا۔
دونوں دیوؤں نے پاؤں میں کڑے بھی پہنچے ہوئے تھے۔
آدم زاد کون ہو تم ۔ اچانک ان دیوؤں کی نظر عمر و پر پڑی تو ایک دیو نے جھک کر اس سے پوچھا۔
میرا نام خواجہ عمرو عیار ہے۔ تم کون ہو۔ عمرو نے پہلے اپنا نام بتایا اور پھر ان سے پوچھا۔ ww
ہم دیو ہیں۔ میرا نام گلابی دیو ہے اس کا نام سنہری دیو ہے ہمارے یہ بڑے بڑے دانت دیکھ رہے ہو یہ اس بات کی نشانی ہیں کہ ہم آدم خور ہیں لیکن چونکہ اس وقت ہمارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اور ہم حد
سے زیادہ خوش ہیں اس لئے ہم تمہیں چھوڑ رہے ہیں جاؤ کیا یاد کرو گے کہ کیسے اچھے دیوؤں سے پالا پڑا تھا۔ گلابی دیو نے کہا۔
بڑی مہربانی جناب ۔ آپ واقعی بہت اچھے دیو ہیں میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر یا درکھوں گا۔ عمرو نے مسکین سی صورت بناتے ہوئے کہا۔
جاؤ ۔ اب فوراً بھاگ جاؤ کہیں ہمیں بھوک ہی نہ لگ جائے اس مرتبہ سنہری دیو نے کہا۔
اب اتنی بھی کیا جلدی ہے جناب میں ہی گئے ہیں تو چند باتیں کر لیتے ہیں عمر و عیار نے کہا۔
تو تم بہت بہادر انسان ہو ہمیں دیکھ کر ذرا بھی نہیں ڈرے الٹا ہم سے گپ شپ کرنا چاہتے ہو۔ گلابی دیو نے کہا۔
تم دونوں کی شکلیں آپس میں ملتی ہیں کیا تم دونوں بھائی ہو عمرو نے پوچھا۔
ہاں ہم بھائی ہیں سنہری دیو نے عمر و عیار کی بات کا جواب دیتے
ہوئے کہا۔
اب یہ بتاؤ کہ تم دونوں اتنے خوش کیوں ہوا اور ہم انسانوں کی دنیا میں کیا کر رہے ہو عمر و عیار نے ان سے خوشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے
عمر و کو غور سے دیکھا اور زور زور سے ہننے لگے۔
سنہری بھائی ۔ گلابی دیو نے سنہری دیو سے کہا۔
کہو گلابی دیو ۔ کیا کہنا چاہتے ہو نہ ہی دیو نے پوچھا۔
یہ آدم کچھ زیادہ پھیل نہیں رہا گلابی دیو نے کہا۔
ہاں۔ گلابی بھائی ۔ اس آدم زاد کو میں سمجھ نہیں پارہا یہ کیا چیز ہے سنہری دیو نے کہا۔
میرا خیال ہے کہ بھوک ہو نہ ہو ہم اسے ہڑپ کر ہی جائیں گلابی دیو نے کہا۔
ارے نہیں ۔ ایسا غضب مت کرنا میں تو تم سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔
عمر و عیار نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ دونوں دیو اس کے اس انداز پر ہنس پڑے۔
دوستی ۔ آدم زاد اور دیو میں دوستی، یعنی چڑیا اور باز میں دوستی آگ اور پائین میں دوستی گھوڑے اور گھاس میں دوستی ۔ واہ ۔ واہ۔ آدم زاد۔
کیا بات کی ہے تم نے دل چاہتا ہے تمہارا منہ چوم لوں مگر تمہارا منہ ہے کہاں سنہری دیو نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اچھا بھائی۔ دوستی نہیں کرنی تو نہ کرو۔ ناراض کیوں ہوتے ہو عمر و عیار نے کہا۔
گلابی بھائی ۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے اب ہمیں چلنا چاہیے سنہری دیو نے کہا۔
ہاں چلو ۔ یہ آدم زاد جائے جہنم میں ہمیں اس سے کیا گلابی دیو نے کہا۔
ہم سے بچ جانے کی خوشی میں تم گھر جا کر خوشی مناؤ سنہری دیو نے عمرو سے کہا اور پھر وہ یک دم او پر اٹھے اور شمال کی سمت میں اڑنے لگے
عمرو کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں غائب ہو گئے ۔
عجیب دیو تھے، عمر و عیار نے کہا اور پھر وہ واپس اپنے خیمے میں آگیا۔
عمر و عیار اپنے خیمے میں بیٹھا اپنے خزانوں کا حساب کر رہا تھا کہ اس کا دربان اندر داخل ہوا۔
آتا۔ سردار کا خادم آپ کے لئے پیغام لایا ہے دربان نے کہا۔
بھیج دو اسے عمرو نے دربان سے کہا تو وہ واپس چلا گیا اور اگلے لمحے سردار امیر حمزہ کا خادم اندر آ گیا۔
خواجہ عمر و عیار آپ کو سر دار امیر حمزہ بلا رہے ہیں خادم نے کہا۔
اچھا ۔ تم چلو میں آتا ہوں عمر و عیار نے خادم سے کہا تو وہ چلا گیا، عمر و نے لباس تبدیل کیا اور سردار امیر حمزہ کے خیمے میں پہنچ گیا اس نے سردار امیر حمزہ کو سلام کیا اور پھر خیمے کا جائزہ لینے لگا۔ خیمے میں سردار امیر حمزہ کے علاوہ ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا عمر و عیا ر اس کو غور سے دیکھتے ہوئے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
سردار ۔ آپ نے مجھے یاد کیا ہے عمر و عیار نے سردار امیر حمزہ سے کہا۔
ہاں۔ ان سے ملو یہ شہنشاہ افضال کے شاہی ایلچی ہیں سردار امیر حمزہ نے اس شخص کا تعارف کراتے ہوئے کہا تو اس شخص نے سر کے اشارے سے عمر و عیار کو سلام کیا۔
شہنشاہ افضال ملک آریان کے بادشاہ تھے اور ان دنوں سردار امیر حمزہ کے لشکر نے ملک آریان کی سرحد کے قریب پڑاؤ ڈالا ہوا تھا شہنشاہ افضال سردار امیر حمزہ کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور سردار امیر
حمزہ کی بہت عزت کرتے تھے۔
شہنشاہ افضال نے تمہیں بلوایا ہے انہیں تم سے کوئی خاص کام ہے سردار امیر حمزہ نے عمرو سے مخاطب ہو کر کہا۔
آپ کا حکم سر آنکھوں پر سردار عمرو نے نہایت ادب سے کہا۔ نیک شگون کے طور پر یہ ہارلو۔ باقی انعام واپس آکر لینا۔ عمرو کے کہنے سے پہلے ہی سردار امیر حمزہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتار کر عمرو کی طرف بڑھا دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اب عمرو نے نیک
شگون کی بات کی ہے عمرو نے ہار فوراً جھپٹ لیا۔
آپ کا نیک شگون میرے ساتھ ہو تو میں ہر مہم میں کامیاب رہتا ہوں سردار عمرو عیار نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر وہ شاہی ایچی کے ساتھ سردار امیر حمزہ کے خیمے سے باہر آ گیا شاہی ایلچی کا گھوڑ الشکر کے اصطبل میں بندھا ہوا تھا اس نے گھوڑا کھولا جب کہ عمرو نے بھی
اپنا گھوڑا بجلی کھولا اور پھر وہ ملک آریان کی طرف بڑھنے لگے۔
چونکہ وہ آریان کی سرحدوں کے قریب ہی تھے اس لئے کچھ یہ دیر بعد وہ آریان کی حدود میں داخل ہو گئے شاہی ایلچی عمرو کو ساتھ لے کر شاہی محل میں آگیا ، اسے فوراً ہی شہنشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا
عمرو نے شاہی آداب کے مطابق جھک کر شہنشاہ افضال کو سلام کیا اور شہنشاہ کے قریب رکھی ہوئی زرنگار کرسی پر بیٹھ گیا۔
حکم کریں شہنشاہ۔ یہ غلام آپ کے کس کام آسکتا ہے عمرو نے نہایت ادب سے کہا۔
صرف آپ ہی ہمارا یہ کام کر سکتے ہیں اور کسی کے بس کا کام نہیں ہے شہنشاہ افضال نے کہا۔
آپ کے کام کے لئے میں اپنی جان لڑا دوں گا شہنشاہ افضال عمر و نے مودبانہ لہجے میں کہا۔
آپ ہماری بیٹی شہزادی فروزاں سے تو ملے ہوئے ہیں شہنشاہ افضال نے کہا۔
جی ہاں۔ شہزادی فروازں میری بہنوں جیسی ہے۔ میں کئی باران سے مل چکا ہوں عمر و عیار نے کہا وہ حیران ہورہا تھا کہ شہنشاہ افضال اس سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں۔
خواجه عمرو عیار شہزادی فروزان کو کلی شام دو دیو اٹھا کر لے گئے ہیں شہنشاہ افضال نے غمگین لہجے میں کہا تو عمر و اچھل پڑا۔
آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ شہزادی کو دیو اغوا کر کے لے گئے ہیں عمر و عیار نے کہا۔
کل شام ملکہ اور شہزادی کے ساتھ ہم محل کی چھت پر کھڑے تھے اور دو پہاڑیوں کا نظارہ کر رہے تھے کہ اچانک دو دیواڑتے ہوئے دکھائی دیئے وہ ہماری چھت پر اتر آئے اور ہمارے سنبھلنے سے پہلے ہی
انہوں نے شہزادی فروازں کو اٹھایا اور جدھر سے اڑتے ہوئے آئے تھے ادھر چلے گئے۔
ہم نے فوراً سپاہیوں کو ان کی تلاش میں بھیجا سپاہی ساری رات انہیں تلاش کرتے رہے لیکن ان دیوؤں کا یا شہزادی کا کچھ پتہ نہ چل سکا اور ہم جانتے ہیں کہ ہم ساری عمر بھی انہیں تلاش کرتے رہیں تو وہ نہیں ملیں گے صرف تم ہی انہیں تلاش کر سکتے ہو اور شہزادی فروزاں کو واپس لا سکتے ہو، شہنشاہ افضال نے انتہائی غمگین لہجے میں شہزادی فروزاں کے اغواء کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
ان دونوں دیوؤں کے حلئے کیسے تھے عمر و عیار نے شہنشاہ افضال سے پوچھا۔
ایک دیو کا جسم گلابی اور دوسرے کا سنہری تھا۔
شہنشاہ افضال نے کہا تو عمرو نے اثبات میں سر ہلا دیا اسے پہلے ہی
اندازہ ہو گیا تھا کہ کل اسے جو دو د یو ملے تھے یہ کام انہی دیوؤں کا ہے کل وہ اسی لئے خوش تھے کہ وہ شہزادی کو اغواء کرنے کے لئے آرہے تھے۔
شہنشاہ افضال ۔ یہ دونوں دیو کل شام مجھے ملے تھے ان کے نام بھی ان کے رنگوں کے مطابق ہیں یعنی گلابی دیو اور سنہری دیو یہ دونوں بھائی ہیں مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ شہمہادی فروزاں کو اغواء کرنے کے
لئے جارہے ہیں ورنہ میں ان کا وہیں کام تمام کر دیتا ، اب بھی آپ فکر نہ کریں ہم بہت جلد انہیں تلاش کر کے لے آئیں گے اور شہزادی فروزاں کو واپس لے آؤں گا عمرو نے کہا۔
اوہ۔ یہ دیو کل شام تم سے ملے تھے شہنشاہ افضال نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
جی ہاں۔ میری ان سے بہت دیر تک باتیں بھی ہوتی رہیں تھیں عمرو عیار نے کہا۔
خواجه عمر و عیا را گر تم شہزادی فروزاں کو واپس لے آئے تو یہ نہ صرف تمہارا ہم پر بہت بڑا احسان ہوگا بلکہ ہم اپنے خزانے کا منہ بھی تمہارے لئے کھول دیں گے تم اس میں سے جتنا خزانہ لے جا سکتے ہو
تمہیں اجازت ہو گی شہنشاہ افضال نے عمرو سے کہا تو عمرو کی باچھیں کھل گئیں وہ تو شہنشاہ افضال کا سارا اتمندانہ ایک لمحے میں اپنی زنبیل میں منتقل کر سکتا تھا۔
آپ فکر نہ کریں شہنشاہ معظم ، صرف میرے لئے دعا کریں میں بہت جلد شہزادی فروزاں کو واپس لے آؤں گا یہ دیو کیا چیز ہیں میں نے تو بڑے بڑے جادو گروں کو فنا کر دیا ہے میں جادوگروں کی دنیا میں موت جادوگر کے نام سے مشہور ہوں میں ظالموں کا دشمن اور مظلوموں کا دوست ہوں عمر و عیار نے اپنی تعریف خود ہی کرتے

ہوئے کہا۔
بے شک ۔ ہم نے تمہاری بہت زیادہ تعریف سنی ہے اسی لئے تو ہم نے تم سے استدعا کی ہے ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کام صرف تم ہی کر سکتے ہو شہنشاہ افضال نے عمرو سے کہا۔
تو پھر مجھے اجازت دیجئے اب ہماری ملاقات اس وقت ہوگی جب میرے ساتھ شہزادی صاحبہ ہوں گی عمر و یار نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا پھر وہ شاہی محل سے باہر آگیا شاہی محل سے باہر آ کر وہ پیدل ہی ایک طرف بڑھنے لگا۔
کافی دیر تک پیدل چلنے کے بعد عمر و عیار ایک ویران کی جگہ پر آگیا یہاں آکر اس نے زنبیل سے سنہری تختی نکال لی۔
سنہری تختی مجھے بتایا جائے کہ دیوش مرادی فروزاں کو اغواء کر کے کہاں لے گئے ہیں عمرو عیار نے سنہری سختی کو حکم دیتے ہوئے کہا۔
Umro aur deonagar
عمر و عیار کو بتایا جاتا ہے کہ دیوشیمرادی فروزاں کو اغوا کر کے اپنے ملک دیو نگر لے گئے ہیں ان میں سے سنہری دیو شہزادی فروزاں سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن ظاہری بات ہے شہزادی فروزاں اس سے شادی نہیں کر سکتی اس لئے انہوں نے شہزادی فروزاں کو اپنے قید خانے میں ڈال دیا ہے۔ سنہری دیو اور گلابی دیو ملک دیونگر کے شہزادے ہیں سنبری سختی روشن ہوئی اور اس پر حروف ابھرتے رہے جب عمرو نے عبارت پڑھ لی تو حروف خود بخود مٹ گئے۔
سنہری سختی۔ مجھے بتایا جائے کہ شہزادی کو واپس لانے کے لئے مجھے کیا کرتا ہوگا عمرو عیار نے علم کی بنتی ہے پوچھا۔ویونگر میں جادو کا استعمال نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی وہاں کوئی جارونی
ہتھیار کام کر سکتا ہے اس لئے عمرو کو اپنی عقل سے کام لینا ہو گا اپنی عیاری اور چالا کی کی بدولت ہی وہ شہزادی فروزاں کو واپس لاسکتا ہے اگر عمر و دونوں دیو بھائیوں کو آپس میں لڑادے تو اس کا کام آسان ہو جائے گا عمرو نے عبارت پڑھنے کے بعد سنہری سختی واپس زنبیل میں رکھ لی۔
اس کے بعد عمرو نے زنبیل سے سنہری چپلیں نکالیں اور پاؤں میں پہن لیں جب کہ عام جو تھے اس نے زنبیل میں رکھ لئے تھے۔ سنہری چپلو مجھے دیو نگر میں پہنچایا جائے عمرو نے اتنا کہا ہی تھا کہ وہ یک دم او پر اٹھنے لگا اور پھر وہ ایک طرف اڑنے لگا کافی دیر تک
umro aur deonagar
اڑتے رہنے کے بعد عمروز مین پر اتر آیا اس نے چپلوں کو اتار کر واپس زنبیل میں رکھا اور عام جوتے زنبیل میں سے نکال کر پہن لئے اسے کافی فاصلے پر ایک شہر کی فصیل دکھائی دے رہی تھی اس فصیل پر
بڑے بڑے دیو پہرہ دے رہے تھے جس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا
کہ وہ ملک دیو نگر کی سرحد کے قریب کھڑا ہے ابھی وہ آگے بڑھے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک پہاڑ جتنا بڑا د یو دھب دھب کرتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
آدم زاد۔ دیونگر کے قریب آدم زاد دیو نے عمر و عیار کو دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے کہا۔
میں شاہی مہمان ہوں میں گلابی دیو اور سنہری دیو سے ملنے آیا ہوں وہ میرے دوست میں عمر و عیار نے رعب بھرے لہجے میں اس دیوے کہا تو دیو کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
(عمرو اور دیونگر کی ملاقات )
میں ان کے چا کا بین سیاہ دیویوں اور ان کا سب سے بڑا رشن بھی میں ہوں جب میں انہیں بتاہوں گا کہ میں نے ان کے دوست کو ہڑپ کر لیا ہے تو انہیں خوب غصہ آئے گا اور جب انہیں میری کسی بات پر غصہ آتا ہے تو مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے سیاہ دیو نے کہا۔
عمرو کا تو خیال تھا کہ شاہی مہمان کا سن کر یہ دیو اس کے رعب میں آ جائے گا لیکن اس کی بات کا تو الٹا ہی اثر ہو گیا تھا یہ سیاہ دیو تو گلابی اور سنہری دیوؤں کا دشمن تھا۔
جب گلابی اور سنہری دیوؤں کو پتہ چلے گا کہ تم نے ان کے مہمان کو نقصان پہنچایا ہے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے عمر و عیار نے سیاہ دیو کو ھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
میں بھی شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے سیاہ دیو نے کہا۔
سوچ لو۔ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں عمر و عیار نے کہا۔
یہ سوچنے کا کام آدم زاد کرتے ہیں ہم دیو نہیں سیاہ دیو نے کہا اور پھر وہ عمر و کو پکڑنے کے لئے جھکا تو عمرو نے چھلانگ لگائی اور اچھل کر اس سے دور ہو گیا۔ پھر اس نے زنبیل سے تلوار حیدری نکال لی اس کے
ہاتھ میں تلوار دیکھ کر دیو نے ایک زور دار قبقبہ لگایا۔
ہا۔ ہا۔ ہا۔ تم میر ا مقابلہ کرو گے۔ یعنی آدم ز اور یو کا مقابلہ کرے گا۔
سیاہ دیو نے قبضہ لگاتے ہوئے کہا اور پھر اس سے پہلے کہ ان دونوں میں مزید کوئی بات ہوتی یک دم وہاں آٹھ وی دیو آ گئے جن کے ہاتھوں میں گرز اور بڑی بڑی تلوار میں تھیں انہوں نے سیاہ دیو اور عمرو کو گھیر لیا۔
(عمرو اور دیونگر کا مقابلہ )
یہ کیا ہو رہا ہے ایک دیو نے گرجتے ہوئے سیاہ دیو سے پوچھا۔
اندھے ہو۔ دیکھتے نہیں کہ یہ آدم زاد ہے یہ میر اشکار ہے اور میں اسے پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں سیاہ دیو نے کہا آنے والے دیو نگر کے محافظ دیو تھے۔
نہیں نہیں۔ میں اس کا نہیں ہوں میں تو شاہی مہمان ہوں دیو نگر کے شہزادے سنہری دیو اور گلابی ویو میز اللہ ہم بہت میں انہوں نے
مجھے دیونگر آنے کی دعوت دی تھی میں تو ان سے ملنے کے لئے آیا ہوں اگر یقین نہیں آتا تو مجھے ان کے پاس لے چلو۔ عمر و عیار نے بھی اسی دیو سے کہا جو باقی محافظ دیوؤں کا سردار لگ رہا تھا اس نے عمرو کی بات سن کر سوچنا شروع کر دیا۔
ہم تمہیں بادشاہ سلامت کے سامنے پیش کر دیتے ہیں تم یہ بات انہیں بتانا، کچھ دیر تک سوچنے کے بعد محافظ دیو نے عمر و عیار سے کہا اور پھر وہ
اسے اور سیاہ دیو کو لے کر دیو نگر کے بادشاہ کے سامنے پہنچ گئے انہوں نے عمرو کی کہی ہوئی باتیں بادشاہ سلامت سے کہہ دیں دیو بادشاہ نے فوراً گلابی دیو اور سنہری دیو کو بلا لیا۔
ارے تم اور یہاں ۔ دونوں دیوؤں نے عمرو کو دیکھا تو ایک لمحے میں ہی پہچان کر حیرت سے پوچھا۔
ہاں دیکھو۔ میں تم سے ملنے کے لئے آیا ہوں اور انہوں نے مجھے
گرفتار کر لیا ہے اور سیاہ دیو کو دیکھو۔ یہ کہ رہا تھا کہ میں گلابی دیو اور سنہری دیو کے مہمان کو ہڑپ کر کے انہیں خوب ذلیل کروں گا عمرو عیار نے دو ہائی دینے والے لہجے میں گلابی دیو اور سنہری دیو سے کہا۔
یہ ہمیں کیا ذلیل کرے گا، یہ تو خود کئی مرتبہ ہمارے ہاتھوں ذلیل ہو چکا ہے گلابی دیو نے نفرت بھرے لہجے میں سیاہ دیو کو دیکھتے ہوئے کہا عمرو کا پہلا تیر ٹھیک نشانے پر لگا تھا اس لئے عمر و دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا سیاہ دیو نے بھی نفرت بھرے انداز میں گلابی دیو اور سنہری دیو کی طرف دیکھا۔
یہ ہمارا مہمان ہے ہم دیکھیں گے کہ اسے کون ہاتھ لگاتا ہے۔ سنہری دیو نے کہا۔
ابا حضور ۔ یہ ہمارا مہمان ہے اور یہ ہمارے شاہی محل میں رہے گا اور دیونگر میں جہاں چاہے گا جائے گا ، آپ اعلان کرادیں اگر کسی نے
اس کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو امر اس کی آنکھیں نکال دیں گے، گلابی دیو نے اپنے والد با دشاہ سے کہا تو اس نے وزیر کو ہدایت کردی۔
آؤ خواجه عمر عیار – نام شاہی مہمان خانے میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دیں ، گلابی دیو نے عمر و عیار سے کہا اور پھر اسے ساتھ لے کر ایک کرے میں آگئے یہ کمرہ دیوؤں کے مطابق نہایت خوبصورت انداز میں سجا ہوا تھا۔
اب بتاؤ۔ تم یہاں کیسے پہنچے جب کہ آدم زادوں کی دنیا سے یہاں تک پہنچانے میں تیر رفتار گھوڑے پر بھی آدم زاد کو کئی مہینے لگ سکتے میں جب کہ تم دوسرے ہی دن یہاں پہنچ گئے ہو۔ سنہری دیو نے کہا۔
مجھے دیوؤں اور جنوں کے دوستی کرنے کا بہت شوق ہے میری کئی جنوں سے دوستی ہے تم سے ملاقات ہوئی تھی میں نے چاہا کہ تم سے بھی دوستی ہو جائے مگر تم تو میر انذاق اڑا کر چلے گئے لیکن میں نے بھی پکا ارادہ کر لیا تھا کہ میں تم سے دوستی ضرور کروں گا، میں نے اپنے ایک جن دوست کو بلایا اور اسے تمہارے بارے میں بتایا اس نے اپنی
طاقت سے تمہارے بارے میں معلومات حاصل کیں اور مجھے تمہارے ملک کی سرحد تک پہنچا دیا، عمر و عیار نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
اوہ ۔ تم نے ہماری دوستی کی خاطر اتنا بڑا خطرہ مول لیا ہے سنہری دیو نے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
ہاں دوست ۔ کیا اب تم مجھے اپنا دوست مانتے ہو عمر و عیار نے ان سے پوچھا۔
ہاں۔ یقینا آج سے تم ہمارے گہرے دوست ہو ۔ کیوں گلابی بھائی سنہری دیو نے پہلے عمرو سے اور پھر گلابی سے کہا۔
ہاں۔ ہاں ۔ خواجہ عمر و عیار ہمارا گہرا دوست ہے گلابی دیو نے سنہری دیو کی تائید کرتے ہوئے کہا۔
شکریہ ۔ تم دونوں دیو بھائیوں کا تم بہت اچھے ہو اور وہ تمہارا دشمن سیاہ دیو۔ وہ تو بہت ہی برا ہے عمرو نے خوشامد بھرے لہجے میں کہا اور اپنی
تعریف سن کر دونوں دیو خوش ہو گئے ۔ خواجہ عمرو عیار آج تم آرام کروں کی ہم تمہیں دیونگر کی سیر کرائیں گے
گلابی دیو نے عمرو سے کہا اور پھر دونوں وہاں سے چلے گئے اگلے دن
گلابی دیو نے عمرو کود یونگر کی سیر کرائی عمرو د یو نگر کی سیر کر کے بہت خوش
ہوا آج عمرو کو دیو نگر میں چوتھا روز تھا عمر و کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا کہ گلابی دیو آ گیا۔
خواجہ عمر و عیار کیا کر رہے ہو۔ گلابی دیو نے کمرے میں داخل ہوتے
سنہری دیو کے بارے میں سوچ رہا ہوں وہ کسی شہزادی کے چکر میں ہے وہ کہہ رہا تھا کہ اگر اس شہزادی سے اس کی شادی ہو گئی تو وہ دیونگر کا بادشاہ بن جائے گا نہ صرف دیو نگر کا بلکہ ہمسایہ ملک کوہ قاف بھی فتحکرلے گا اور کوہ قاف کا بھی بادشاہ بن جائے گا اس شہزادی سے شادی کرنے کے بعد وہ اتنا طاقتور ہو جائے گا کہ سینکڑوں دیوؤں سے اکیلائر سکے گا
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ شہزادی سے شادی کرنے کے بعد وہ ہمیشہ جوان رہے گا اور اسے بڑھاپا آئے گا ہی نہیں، یہ سب باتیں اسے کسی بزرگ اور علم والے دیو نے بتائی ہیں عمر و عیار نے گلابی دیو سے کہا۔ اوہ۔ تو سنہری دیو اسلئے شہزادی فروزاں کو اٹھا کر لایا ہے اس نے یہ سب باتیں مجھے نہیں بتائی وہ مستقبل کا بادشاہ بننا چاہتا ہے جب کہ ولی عہد میں ہوں میں ایسا نہیں ہونے دوں گا گلابی دیو نے غصیلے لہجے میں کہا عمرو کا چلایا ہوا تیر ٹھیک
نشانے پر لگا تھا اور پھر گلابی دیو وہاں نہ رکا اس کے جانے کے بعد سنہری دیو عمر و عیار کے پاس آگیا۔
خواجہ عمر و عیار کیا کر رہے ہو۔ سنہری دیو نے کمرے میں داخل ہو کر عمرو سے پوچھا۔
گلابی دیو کے بارے میں سوچ رہا ہوں وہ آج کل کسی شہزادی فروزاں کے چکر میں ہے وہ مجھے بتا رہا تھا کہ اگر اس کی شادی شہزادی فروزاں سے ہو گئی تو وہ نہ صرف دیو نگر بلکہ کوہ قاف کا بھی بادشاہ بن جائے گا اسے کسی بزرگ اور علم والے دیو نے بتایا ہے کہ اگر وہ شہزادی فروزاں سے شادی کرلے تو وہ تاحیات جوان بھی رہے گا اور وہ اتنا طاقتور ہو جائے گا کہ سینکڑوں دیو مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ بتا رہا تھا کہ شہزادی فروزاں اور اس کی شادی کے راستے میں ایک دیوار ہے۔ اور وہ اس دیوار کو کسی طرح گرانے کا سوچ رہا ہے یار :
سنہری دیو یہ شہزادی فروزاں کیا تمہاری رشتے دار ہے اور یہ دیوار کون سی ہے یار تم اس کی شادی کرا دو شہزادی فروزاں سے بے چارہ کتنا بے چین ہے اس سے شادی کرنے کے لئے عمر و عیار نے سنہری دیو سے کہا۔
ہرگز نہیں۔ میں اس کی بوٹی بوٹی کر دوں گا۔ اس کی یہ مجال سنہری دیو نے غصے سے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا عمر و عیار نے اپنی عیاری سے جو منصوبہ بنایا تھا وہ کامیاب رہا تھا عمر و کو یقین تھا کہ اب یہ دونوں بھائی آپس میں لڑ لڑ کر مر جائیں گے کچھ دیر بعد عمر و کمرے سے باہر نکل کر ان دیوؤں کے شاہی باغ میں آگیا ، اس نے دیکھا کہ سنہری دیو اور گلابی دیو آپس میں الجھ رہے تھے۔
شہزادی فروزاں سے شادی میں کروں گا گلابی دیو نے گرجتے ہوئے کہا۔
ہر گز نہیں۔ شہزادی فروزاں کو میں اپنے لئے اغواء کر کے لایا ہوں اسکی شادی ہو گی تو صرف مجھ سے ہو گی سنہری دیو نے بھی گرجتے ہوئے کہا۔
اب ایسا نہیں ہو گا ، اب شہزادی کی شادی مجھ سے ہو گی گلابی دیو نے کہا۔
تم میرے ہاتھوں مارے جاؤ گے سنہری دیو نے گلابی دیو کی طرف دیکھ کر نفرت سے کہا۔
میں تم سے کمزور نہیں ہوں شہزادی کا فیصلہ ہم میدان میں کر لیتے ہیں جو جیت گیا وہ شہزادی فروزاں سے شادی کرے گا گلابی دیو نے جواب میں نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
آج شام ہی یہ مقابلہ ہوگا ۔ بولو منظور ہے۔ سنہری دیو نے گلابی دیو سے کہا۔
صراحی الٹی کی تو اس میں سے پانی نکلنے لگا گلابی دیو نے اسے ایک ٹانگ سے پکڑنے کے بعد او پر اٹھانا چاہا اس لمحے سنہری دیو نے صراحی سے نکلتا ہوا پانی گلابی دیو کے جسم پر پھینکا تو گلابی دیو کے جسم کو آگ لگ گئی گلابی دیو کا منہ بار بار کھل رہا تھا جیسے وہ چیخیں مار رہا ہو لیکن اسکے منہ سے چیخوں کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں
گلابی دیو جل کر راکھ ہو گیا
اس کی چیخوں کی آواز کیوں نہیں آرہی تھی جب کہ یہ شیخ تو بہت رہا تھا۔ عمرو نے سنہری دیو سے پوچھا۔
یہ جادو کی صراحی ہے اور اس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے آؤ اب میں تمہیں شہزادی فروزاں سے ملواؤں سنہری دیو نے عمرو سے کہا اور اسے ساتھ لے کر ایک قید خانے میں آگیا عمرو نے شہزادی فروزاں کو دیکھا۔
سنہری دیو نے قید خانے کا سلاخوں والا دروازہ کھولا تو شہزادی عمر و کو
دیکھ کر حیران رہ گئی عمرو نے انگلی ہونٹوں پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ دیو شہزادی کی طرف متوجہ تھا اس لئے وہ عمرو کا اشارہ نہ دیکھ سکا۔
چل زنبیل میں عمر و عیار نے جلدی سے زنبیل کا منہ کھول کر شہزادی سے کہا تو شہزادی فروزاں کو ایک جھٹکا سا لگا اور پھر وہ اچھل کر زنبیل میں آگئی۔ کیا ہوا شہزادی کہاں گئی شہری دیو نے حیران ہوتے ہوئے
کہا۔ اس لمحے عمرو نے زنبیل سے تلوار حیدری نکالی اور اچھل کر سنہری دیو کی گردن پر وار کر دیا تلوار حیدری کے وار سے بچنا کسی کے بس کا کام نہیں تھا۔ سنہری دیو کا بھی سرکٹ کر نیچے جا گرا۔ اس کے مرنے کے بعد عمرو نے زنبیل سے چادر سلیمانی نکال کر کندھوں پر ڈالی اور سنہری چپلیں نکال کر پہن لیں اور پھر انہیں ملک آریان چلنے کا حکم دے دیا۔
اور یہاں تک تھا عمرو اور دیونگر کا سفر
ختم شد

