Umro aur phool shahzadi
عمرو عیار اور پھول شہزادی کی یہ دلچسپ داستان آپ کو جادو اور مہم جوئی کی ایک نئی دنیا میں لے جائے گی۔ جانیے کہ کس طرح عمرو عیار نے اپنی ذہانت سے مشکل حالات کا سامنا کیا۔ بہترین اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں۔"

عمرو اور پھول شہزادی / Umro aur phool shahzadi

مصنف : ظہیر احمد

عمرو عیار سو کر اٹھا ہی تھا کہ شاہی خادم اس کے کمرے میں داخل ہوا اور اس نے جھک کر عمرو کو سلام کیا۔
“خواجہ عمرو عیار! نہا دھو کر نیا لباس پہن لیں اور ناشتہ کر لیں۔ کچھ ہی دیر میں بادشاہ سلامت آپ سے ملنے کے لیے یہاں آنے والے ہیں۔” خادم نے مؤدبانہ لہجے میں کہا تو عمرو عیار چونک پڑا۔
“بادشاہ سلامت مجھ سے ملنے یہاں آ رہے ہیں؟” عمرو نے چونکتے ہوئے کہا۔
“جی ہاں! ان کے ہمراہ ملکہ عالیہ بھی یہاں آئیں گی۔” خادم نے کہا۔
“ارے باپ رے! پھر تو مجھے واقعی جلد سے جلد نہا کر نیا لباس پہن لینا چاہیے۔” عمرو نے کہا۔

“جی بالکل۔” خادم نے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ تم میرے لیے ناشتے کا بندوبست کرو اتنی دیر میں، میں نہا دھو کر نیا لباس پہن لیتا ہوں۔”
عمرو نے بستر سے اترتے ہوئے کہا تو خادم نے اثبات میں سر ہلا دیا اور سلام کرتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔
عمرو فوراً کمرے سے ملحق غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ ملک تامن کے شاہی مہمان خانے میں تھا۔ ملک تامن کے بادشاہ نے عمرو عیار کو شاہی ایلچی بھیج کر خاص طور پر وہاں بلایا تھا۔
بادشاہ سلامت نے شاہی ایلچی کے ہاتھ سردار امیر حمزہ کو ایک خط بھیجا تھا جس میں بادشاہ سلامت نے سردار امیر حمزہ سے درخواست کی تھی کہ وہ خواجہ عمرو عیار کو ملک تامن بھیج دیں کیونکہ انہیں عمرو عیار کی مدد کی ضرورت ہے۔ خط میں بادشاہ سلامت نے یہ نہیں لکھا تھا کہ انہیں کس سلسلے میں عمرو عیار کی ضرورت ہے۔ سردار امیر حمزہ چونکہ ملک تامن کے بادشاہ کے دوست تھے اس لیے انہوں نے عمرو عیار کو…

اپنے پاس بلایا اور اسے خط دکھا کر فوراً ملک تامن جانے کا حکم دے دیا۔
سردار امیر حمزہ کا حکم بھلا عمرو عیار کیسے ٹال سکتا تھا۔ وہ شاہی ایلچی کے ہمراہ ملک تامن روانہ ہو گیا۔ اس نے راستے میں کئی بار شاہی ایلچی سے پوچھا کہ ملک تامن کے بادشاہ نے اسے کیوں بلایا ہے لیکن شاہی ایلچی نے اسے کچھ نہ بتایا۔ دو دن اور دو راتوں کے سفر کے بعد جب عمرو ملک تامن پہنچا تو رات ہو رہی تھی۔ عمرو کو فوراً شاہی مہمان خانے میں پہنچا دیا گیا۔ شاہی مہمان خانے میں عمرو عیار کو انواع و اقسام کے کھانے پیش کیے گئے اور عمرو کو وہاں آرام کرنے کے لیے کہا گیا۔
بادشاہ سلامت نے عمرو کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ چونکہ طویل سفر کر کے تھکا ہوا ہے اس لیے آرام کر لے وہ کل صبح اس سے ملاقات کریں گے۔ عمرو عیار واقعی مسلسل سفر کر کے تھک گیا تھا۔ اس نے کھانا کھایا اور پھر آرام دہ بستر پر دراز ہو گیا۔

اب وہ صبح جاگا تو شاہی خادم نے اسے آ کر بتایا تھا کہ بادشاہ…
سلامت اور ملکہ عالیہ اس سے ملنے کے لیے شاہی مہمان خانے میں ہی آ رہے ہیں تو عمرو فوراً غسل خانے میں گھس گیا۔ نہا دھو کر اور نیا لباس پہن کر جب وہ غسل خانے سے نکلا تو خادم اس کے لیے وہاں بہترین ناشتہ لے آیا۔
عمرو نے ڈٹ کر ناشتہ کیا اور پھر وہ بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ وہاں آگئے تو انہیں دیکھ کر عمرو ان کے احترام میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ عمرو نے دیکھا بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کے چہروں پر بے پناہ غم اور پریشانی کے تاثرات دکھائی دے رہے تھے۔ ملکہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے وہ ساری رات جاگتی رہی ہوں یا پھر روتی رہی ہوں۔ عمرو نے انہیں مؤدبانہ انداز میں سلام کیا۔ بادشاہ سلامت نے اس کے سلام کا جواب دیا اور پھر وہ دونوں سامنے پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
“بیٹھو عمرو عیار۔” بادشاہ سلامت نے جیسے تھکے تھکے انداز میں عمرو عیار سے مخاطب ہو کر کہا تو عمرو شکریہ…


عمرو اور پھول شہزادی/Umro aur phool shahzadi


ادا کر کے ان کے سامنے الگ کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ غور سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ بادشاہ سلامت اور ملکہ کے چہروں پر غم کے سائے اسے صاف دکھائی دے رہے تھے۔
“کیا بات ہے بادشاہ سلامت! میں آپ کے اور ملکہ عالیہ کے چہرے پر غم اور دکھ کے سائے دیکھ رہا ہوں۔ سب خیریت تو ہے نا؟” عمرو نے کہا۔
“خیریت! اگر خیریت ہوتی تو ہم تمہیں یہاں کیوں بلاتے عمرو عیار۔” بادشاہ سلامت نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
“خدا خیر کرے۔ کیا ہوا ہے بادشاہ سلامت؟” عمرو نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ وہ ملک تامن میں سردار امیر حمزہ کے کہنے پر اکثر آتا جاتا رہتا تھا اس لیے وہ بادشاہ سلامت اور ملکہ کو اور وہ دونوں اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام شہزادی پھول تھا۔ شہزادی پھول بھی عمرو عیار کو جانتی تھی۔ عمرو اکثر اس سے ملتا رہتا تھا اور اسے اپنے کارناموں کے بارے میں بتاتا رہتا تھا جنہیں سن کر شہزادی…
پھول بے حد خوش ہوتی تھی۔
شہزادی پھول بے حد معصوم اور حسین شہزادی تھی جو عمرو عیار کی بے حد عزت کرتی تھی۔ عمرو بھی اسے بے حد پسند کرتا تھا اور اس سے مل کر وہ بے حد خوش ہوتا تھا۔ بادشاہ اور ملکہ کو اس قدر غمزدہ دیکھ کر اسے خیال گزرا کہ خدا نخواستہ کہیں شہزادی پھول کو تو کچھ نہیں ہو گیا اس لیے وہ بھی پریشان ہو گیا۔
“عمرو! ہماری بیٹی شہزادی پھول۔” بادشاہ سلامت نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔ شہزادی پھول کا نام لیتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی تھی جبکہ ان کے منہ سے شہزادی پھول کا سن کر عمرو بے اختیار اچھل پڑا۔
“شہزادی پھول! کیا ہوا ہے شہزادی پھول کو؟ وہ خیریت سے تو ہے نا؟ کہاں ہے وہ؟” عمرو نے تیز تیز لہجے میں کہا۔ اسے اپنے دل کی دھڑکنیں رکتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ شہزادی پھول کا جب بادشاہ سلامت نے نام لیا تو ملکہ کی آنکھوں میں یکلخت آنسو آ گئے اور وہ سسک سسک کر رونے لگیں۔ یہ دیکھ کر عمرو عیار کا دل اور زیادہ ڈوب گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ آخر…

وہی ہوا ہے جس کا اسے خدشہ تھا۔ ضرور شہزادی پھول کے ساتھ کچھ ہوا ہے جس کی وجہ سے بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کی ایسی حالت ہو رہی تھی۔ بادشاہ سلامت نے عمرو کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ ان کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے تھے جس سے عمرو عیار تڑپ کر رہ گیا۔
“بادشاہ سلامت! ملکہ عالیہ مجھے بتائیں۔ کیا ہوا ہے شہزادی پھول کو؟ وہ میری چھوٹی بہن ہے۔ آپ کا انداز میرا دل دہلا رہا ہے۔” عمرو نے لرزتے ہوئے لہجے میں کہا۔
“شہزادی پھول کو ایک جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے عمرو عیار۔” بادشاہ سلامت نے خود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے؟” عمرو نے بری طرح سے اچھلتے ہوئے کہا۔
“ہاں! وہ سیاہ رنگ کا ایک بدشکل اور بوڑھا جادوگر ہے۔ اس کا نام بھکشو جادوگر ہے۔” بادشاہ سلامت نے کہا تو عمرو عیار اپنی جگہ جیسے ساکت ہو کر…



رہ گیا۔ ملکہ عالیہ بدستور ہچکیاں لے لے کر روئے جا رہی تھیں۔
“اوہ! کون ہے یہ بھکشو جادوگر اور وہ شہزادی پھول کو کہاں اور کیوں لے گیا ہے؟” عمرو نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ یہ جان کر کہ شہزادی پھول کو بھکشو جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔
“ہم نہیں جانتے وہ جادوگر کون ہے اور وہ کہاں سے آیا تھا اور شہزادی کو کیوں لے گیا ہے۔” بادشاہ سلامت نے کہا۔
“آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ شہزادی پھول کو جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے اور اس کا نام بھکشو جادوگر ہے؟” عمرو نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔
“چند روز پہلے کی بات ہے کہ شہزادی پھول کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ اسے بخار تھا۔ اس کا علاج شاہی حکیموں نے کیا تو وہ تندرست ہو گئی لیکن وہ چونکہ بیمار رہنے کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی اس لیے اپنے کمرے میں اکیلی سونے سے ڈرتی تھی۔ وہ پچھلے کئی روز…

سے ملکہ کے ساتھ سو رہی تھی۔ رات کو میں بھی دیر تک ان کے پاس رہتا تھا اور پھر اپنے کمرے میں آ جاتا تھا۔ اس روز میں اور ملکہ شہزادی سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کمرے میں تیز روشنی سی چمکی اور وہاں ایک سیاہ رنگ کا انتہائی بدشکل اور خوفناک انسان نمودار ہوا۔
اس انسان نے سیاہ رنگ کا ہی لبادہ نما لباس پہن رکھا تھا اور اس کے سر اور داڑھی مونچھوں کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے۔ سیاہ انسان کی آنکھیں بڑی بڑی اور انگاروں کی طرح سرخ تھیں۔ اس انسان کو اس طرح اچانک کمرے میں نمودار ہوتے دیکھ کر ہم بری طرح سے چونک ا ٹھے۔ خوف کے مارے شہزادی پھول کی تو چیخ ہی نکل گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں اس سیاہ انسان سے پوچھتا کہ وہ کون ہے اور اس طرح اس نے اس کمرے میں داخل ہونے کی گستاخی کیوں کی ہے۔ اس نے اچانک اپنا بایاں ہاتھ اونچا کر کے ہماری طرف جھٹک دیا۔
اس کی انگلیوں سے بجلی کی لہریں سی نکل کر ہم پر…

پڑیں اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے یکلخت جان نکل گئی ہو۔ میں دیکھ سکتا تھا، سن سکتا تھا مگر نہ میں بول سکتا تھا اور نہ ہی اپنی جگہ سے حرکت کر سکتا تھا۔ یہی حال شہزادی پھول اور ملکہ کا ہوا تھا۔ وہ بھی یکلخت ساکت ہو گئی تھیں۔ ہمیں ساکت کر کے وہ سیاہ فام بدشکل انسان ہمارے قریب آ گیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:
‘سنو! میرا نام بھکشو جادوگر ہے۔ میں تمہاری بیٹی شہزادی پھول کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ میں بہت جلد اس سے شادی کر لوں گا اس لیے میں اسے اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔’ یہ کہہ کر اس نے شہزادی پھول کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر اسی طرح غائب ہو گیا جس طرح سے وہ ظاہر ہوا تھا۔ اس کے اور شہزادی پھول کے غائب ہونے کے تھوڑی دیر بعد میرے جسم میں جیسے دوبارہ جان آ گئی۔ ملکہ کی حالت بھی ٹھیک ہو گئی تھی۔ ٹھیک ہوتے ہی انہوں نے بری طرح سے چیخنا اور رونا شروع کر دیا۔ میں نے فوراً محافظوں کو بلایا اور ان سے کہہ کر وزیراعظم اور سپہ سالار کو بلا…

لیا۔
انہیں صورتحال بتا کر میں نے انہیں ہر جگہ شہزادی پھول اور بھکشو جادوگر کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی میں نے انہیں ہدایات دی تھیں کہ وہ کسی کو شہزادی پھول کے غائب ہونے کے بارے میں نہ بتائیں۔ اصل میں شہزادی پھول کا ہمسایہ ملک کاران کے شہزادے ادریس سے رشتہ طے ہو چکا تھا اور اگلے چند ماہ بعد ان کی شادی ہونے والی تھی اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ شہزادہ ادریس اور کسی اور کو یہ معلوم ہو کہ شہزادی پھول کو کوئی جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے۔
وزیراعظم اور سپہ سالار نے ہر جگہ شہزادی پھول اور بھکشو جادوگر کو تلاش کیا مگر ان دونوں کا کہیں کچھ پتہ نہ چلا۔ شہزادی کے غم میں ملکہ نڈھال ہو رہی تھیں۔ میں بھی حد سے زیادہ پریشان تھا۔ میں، وزیراعظم اور سپہ سالار صلاح و مشورے کر رہے تھے کہ آخر شہزادی پھول اور اس بدبخت بھکشو جادوگر کے بارے میں کہاں سے معلوم کیا جائے تو وزیراعظم نے…

مجھے مشورہ دیا کہ مجھے اس سلسلے میں تمہاری خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔
تم عموماً جادوگروں اور جادوگرنیوں کے خلاف کام کرتے رہتے ہو اور تمہاری وجہ سے بے شمار ملکوں کی شہزادیاں خطرناک اور طاقتور جادوگروں کے چنگل سے آزاد ہو چکی ہیں۔ اگر تم کوشش کرو تو بھکشو جادوگر اور شہزادی پھول کا پتہ چل سکتا ہے۔ مجھے وزیراعظم کا مشورہ پسند آیا اور میں نے فوراً تمہارے لیے سردار امیر حمزہ کو خط لکھ دیا۔ یہ تمہارا احسان ہے کہ تم یہاں چلے آئے۔
عمرو عیار! شہزادی پھول پچھلے دس روز سے لاپتہ ہے۔

بھکشو جادوگر اسے نجانے کہاں لے گیا ہے اور وہ کس حال میں ہے۔ اس کی ہمیں کچھ خبر نہیں ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے بعد تم ہی ہماری امید کے آخری سہارے ہو۔ اب تم ہی یہ معلوم کر سکتے ہو کہ بھکشو جادوگر ہماری بیٹی کو کہاں لے گیا ہے اور وہ کس حال میں ہے۔” بادشاہ سلامت نے عمرو عیار کو ساری تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ آخر میں ان کا لہجہ رندھ گیا…

تھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ ملکہ بھی مسلسل روئے جا رہی تھیں۔
“آپ نے مجھے یہاں بلا کر بہت اچھا کیا ہے بادشاہ سلامت۔ شہزادی پھول میری چھوٹی بہن ہے اور بھکشو جادوگر نے میری بہن کو اغوا کر کے میری غیرت اور میرے غصے کو للکارا ہے۔ وہ شہزادی پھول کو لے کر اگر پاتال میں بھی چلا گیا ہو گا تو میں اسے کسی بے ضرر کیڑے کی طرح کھینچ کر باہر نکال لوں گا اور اس کا اس قدر بھیانک حشر کروں گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکے گا۔” عمرو نے غصے سے کہا۔
“اللہ تمہیں خوش رکھے عمرو عیار۔ یہ سب کہہ کر تم نے ہماری ڈھارس بندھا دی ہے ورنہ بیٹی کے غم میں تو ہمارا سینہ پھٹا جا رہا تھا۔” بادشاہ سلامت نے کہا۔
“آپ بے فکر رہیں بادشاہ سلامت۔ بس دعا کریں کہ شہزادی پھول خیریت سے ہو۔ اسے زندہ سلامت لانا میری ذمہ داری ہے اور میں اپنی ذمہ داری پوری کرنا بخوبی جانتا ہوں۔” عمرو نے کہا اور اٹھ کر کھڑا ہو

“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم میری بیٹی کو تلاش کر لو گے اور اسے بخیریت یہاں واپس لے آؤ گے؟” ملکہ نے عمرو کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“انشاء اللہ۔ میں شہزادی پھول کے لیے اپنی جان لڑا دوں گا ملکہ عالیہ۔” عمرو نے پرعزم لہجے میں کہا۔
“ہم تمہارے شکر گزار ہیں عمرو عیار۔ تم نے سچ مچ ہمارے جسموں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ تم ہماری بیٹی کو لاؤ گے تو ہم اپنا آدھا شاہی خزانہ تمہیں انعام میں دے دیں گے۔” بادشاہ سلامت نے کہا۔
“نہیں بادشاہ سلامت۔ شہزادی پھول کو واپس لانے کے لیے مجھے کوئی انعام نہیں چاہیے۔ وہ میری بہن ہے اور بہنوں کی حفاظت کے لیے بھائی کوئی کام انعام کی غرض سے نہیں کرتے۔” عمرو نے کہا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ عمرو عیار انعام نہ لینے کا کہہ رہا تھا ورنہ وہ جو کام بھی کرتا تھا انعام کے حصول کے لیے کرتا تھا…

اور نیک شگون کے تحت بھی وہ کچھ نہ کچھ اینٹھ لیتا تھا یہاں تک کہ وہ سردار امیر حمزہ سے بھی جب تک نیک شگون کے طور پر کچھ نہ کچھ لے نہ لیتا اسے سکون نہ آتا تھا۔ لیکن وہ چونکہ شہزادی پھول کو واقعی اپنی چھوٹی بہن کہتا تھا اس لیے اس نے بادشاہ سلامت سے انعام لینے سے انکار کر دیا تھا۔
عمرو عیار نے بادشاہ اور ملکہ سے اجازت لی اور کمرے سے نکلتا چلا گیا۔

وہ شہزادی پھول اور بھکشو جادوگر کو آج ہی تلاش کرنا چاہتا تھا۔ بادشاہ سلامت نے اسے بتایا تھا کہ شہزادی پھول پچھلے دس روز سے غائب ہے۔ عمرو دل ہی دل میں دعا مانگ رہا تھا کہ شہزادی پھول خیریت سے ہو۔ دس روز میں بھکشو جادوگر شہزادی پھول کو نقصان بھی پہنچا سکتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر بھکشو جادوگر نے شہزادی پھول کو ذرا بھی نقصان پہنچایا ہو گا تو وہ بھکشو جادوگر کا اس قدر برا حشر کرے گا کہ مرنے کے بعد اس کی روح صدیوں تک بلبلاتی رہے گی۔
شہزادی پھول کو تلاش کرنے کے لیے اسے اگر آگ…

کے دریا میں بھی کودنا پڑتا یا اسے سخت سے سخت ترین جادوئی مرحلوں سے بھی گزرنا پڑے گا تو وہ ہر حال میں یہ کام بھی کر گزرے گا۔ شہزادی پھول کو بچانے اور واپس ملک تامن لانے کا عمرو عزم کر کے نکلا تھا اور عمرو ایک بار جو عزم کر لیتا تھا اس کو پورا کر کے ہی دم لیتا تھا۔

شہزادی پھول کا رنگ سرسوں کے پھول کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ وہ بے حد لاغر اور بیمار بیمار سی نظر آ رہی تھی۔ بھکشو جادوگر اسے جس دن سے اس کے محل سے اپنے محل میں لایا تھا اس نے شہزادی پھول کو ایک کمرے کے ستون کے ساتھ زنجیروں سے باندھ رکھا تھا۔ کمرہ خاصا بڑا تھا اور ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود تھی لیکن شہزادی پھول ہر وقت ستون کے ساتھ بندھی رہتی تھی۔
کمرے میں چار جادوئی پتلے ہاتھوں میں تلواریں لئے اس کی حفاظت کرتے تھے۔ بھکشو جادوگر کمرے میں آ کر شہزادی پھول کو بے حد ڈراتا دھمکاتا تھا۔ بھوکا پیاسا رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ شہزادی پھول پر طرح…

Umro aur phool shahzadi

طرح کے ظلم بھی کرتا تھا۔ کبھی وہ شہزادی پھول کو بری طرح سے تھپڑ مارتا کبھی اسے کوڑوں سے پیٹتا تھا اور کبھی وہ گرم سلاخوں سے شہزادی پھول کے ہاتھوں اور پیروں کو داغتا تھا جس سے شہزادی پھول کا تکلیف کی شدت سے برا حال ہو جاتا تھا۔ وہ حلق کے بل چیختی مگر وہاں بھلا اس کی چیخیں سننے والا کون تھا۔
بھوک پیاس اور بھکشو جادوگر کی خوفناک اذیتیں جھیل جھیل کر شہزادی پھول حد سے زیادہ کمزور ہو گئی تھی۔ اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا اور اس کی آنکھوں کی چمک بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ آج شہزادی پھول کو ستون کے ساتھ اس کمرے میں جکڑے ہوئے دس روز ہو چکے تھے اور شہزادی پھول کا یہ حال تھا کہ وہ مرنے کے قریب ہو رہی تھی۔ کمرے میں چار خوفناک شکلوں والے سیاہ پتلے ہاتھوں میں تلواریں لئے موجود تھے اور ان کی خوفناک نظریں شہزادی پھول پر جمی ہوئی تھیں۔
شہزادی پھول کا سر ڈھکا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر جلنے کے واضح…

نشان نظر آ رہے تھے اور کوڑے کھا کھا کر اس کا لباس بھی جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا جہاں سے گہرے زخموں کے نشان بھی صاف دکھائی دے رہے تھے۔ اچانک قدموں کی آواز سن کر شہزادی پھول نے آنکھیں کھول دیں اور آہستہ آہستہ سر اٹھا کر سامنے دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔ دروازے سے سیاہ بدشکل بوڑھے بھکشو جادوگر کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر اس کا چہرہ نفرت اور غصے سے بگڑ گیا اور اس کی آنکھوں میں بے پناہ نفرت پھیل گئی۔


بھکشو جادوگر کے سر کے بال اور داڑھی مونچھیں بے حد بڑھی ہوئی تھیں۔ وہ بے حد بھیانک اور خوفناک نظر آ رہا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی تلوار نظر آ رہی تھی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا شہزادی پھول کے سامنے آ کر رک گیا۔ اسے اپنے سامنے دیکھ کر شہزادی پھول نے نفرت سے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔
“آج تمہیں یہاں آئے ہوئے دس روز ہو گئے ہیں شہزادی۔ میں روز روز تمہیں اذیت دینے اور تم سے…

پوچھ پوچھ کر تھک چکا ہوں۔ آج میں تم سے آخری مرتبہ پوچھنے کے لیے آیا ہوں۔ بتاؤ! کیا تم مجھ سے شادی کرو گی یا نہیں۔ یہ سن لو کہ اگر آج بھی تمہارا جواب انکار میں ہوا تو میں تمہارا کوئی لحاظ نہیں کروں گا اور آج میں اس تلوار سے تمہارے کئی ٹکڑے کر دوں گا۔” بھکشو جادوگر نے شہزادی پھول سے مخاطب ہو کر نہایت غضبناک لہجے میں کہا۔
“کیا کہا تم نے۔ اگر میں نے آج بھی تم سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تو تم مجھے ہلاک کر دو گے۔” شہزادی پھول نے چونک کر کہا۔
“ہاں! دس روز بہت ہوتے ہیں۔ اب میں تمہیں مزید مہلت نہیں دے سکتا۔” بھکشو جادوگر نے کہا۔
“تو ٹھیک ہے۔ کرو مجھے ہلاک۔ میرے ہزاروں ٹکڑے کر دو۔ تم جیسے بدشکل اور بدبخت جادوگر سے شادی کرنے سے یہی بہتر ہو گا کہ میں ہلاک ہو جاؤں۔” شہزادی پھول نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
“کیا؟ یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔” بھکشو جادوگر نے غرا کر کہا۔

عمرو اور پھول شہزادی/Umro aur phool shahzadi


“ہاں۔ قطعی آخری۔” شہزادی پھول نے اسی انداز میں کہا۔
“تو ٹھیک ہے۔ مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ تمہیں ہلاک کر کے میں کسی دوسرے ملک کی شہزادی کو یہاں لے آؤں گا۔ میرے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ میں تم سے ہی شادی کروں۔ میں کسی بھی ملک کی شہزادی سے شادی کر سکتا ہوں۔ بس میرے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ کوئی بھی شہزادی مجھے میرے اصل حال میں دیکھ کر اپنے منہ سے یہ اقرار کر لے کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے اور مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔” بھکشو جادوگر نے کہا۔
“تم جیسے بدشکل جادوگر سے کوئی لڑکی شادی نہیں کرے گی بھکشو جادوگر۔ تم سے شادی کرنے کی بجائے ہر لڑکی میری طرح موت کو ترجیح دے گی۔” شہزادی پھول نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
“ہونہہ۔ دیکھ لوں گا۔” بھکشو جادوگر نے غصیلے لہجے میں کہا۔ اس نے تلوار والا ہاتھ اوپر کیا۔ جیسے وہ ایک ہی وار میں شہزادی پھول کا سر اڑا دے گا۔ یہ…

دیکھ کر شہزادی پھول نے آنکھیں بند کر لیں۔ پہلی بار اس کے ہونٹوں پر سکون بھری مسکراہٹ ابھری تھی جیسے وہ خود بھی اس ظالم جادوگر کے ظلموں سے تنگ آ چکی ہو اور اب اس کے ہاتھوں ہلاک ہو کر اسے سکون آ جائے گا۔
“رک جاؤ بھکشو جادوگر۔ یہ تم کیا کر رہے ہو۔” اس سے پہلے کہ بھکشو جادوگر تلوار والا ہاتھ مار کر شہزادی پھول کا سر کاٹتا کمرے میں ایک تیز چیختی ہوئی آواز سنائی دی تو بھکشو جادوگر کا ہاتھ اٹھنے کا اٹھا رہ گیا۔ اس نے سر گھما کر دیکھا تو اس کے دائیں طرف ایک بڑھیا کھڑی تھی۔ اس بڑھیا کا رنگ بھی بھکشو جادوگر کی طرح سیاہ تھا۔ بڑھیا کا سارا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔

بڑھیا نے نیلے رنگ کا لبادہ پہن رکھا تھا اور اس کی کمر جھکی ہوئی تھی۔ اس نے سیاہ رنگ کی ایک لکڑی پکڑ رکھی تھی جس کے سہارے وہ کھڑی تھی۔
“کالی جادوگرنی تم یہاں۔” بھکشو جادوگر نے اس بڑھیا کو دیکھ کر حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
“ہاں۔ اچھا ہوا کہ میں وقت پر یہاں آگئی ورنہ تم شہزادی کو ہلاک کر دیتے اور اس شہزادی کے ہلاک ہوتے ہی تم خود بھی ہلاک ہو جاتے۔” بڑھیا نے کہا۔
“میں بھی ہلاک ہو جاتا۔ کیا مطلب۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہو کالی جادوگرنی۔” بھکشو جادوگر نے بری طرح سے چونکتے ہوئے کہا۔
“میں ٹھیک کہہ رہی ہوں بھکشو جادوگر۔ تم اب تک اس جادو محل میں نو ملکوں کی شہزادیوں کو لا کر قتل کر چکے ہو۔ یہ دسویں شہزادی ہے۔ تم شاید بھول رہے ہو کہ میں نے تم سے کیا کہا تھا۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔
“تم نے کہا تھا کہ میں یہاں جس ملک کی شہزادی کو اغوا کر کے لاؤں

اسے دس دنوں تک اپنے پاس قید رکھوں اور جیسے بھی ہو اس شہزادی کو اس بات کے لئے راضی کروں کہ وہ ہنسی خوشی مجھ سے شادی کر لے۔ اگر کسی ملک کی شہزادی مجھ سے ہنسی خوشی شادی کر لے گی تو اس سے نہ صرف میری عمر ایک ہزار سال بڑھ جائے گی بلکہ میں جادوگروں کے شہنشاہ…
صفحہ 26
افراسیاب جیسی طاقتوں کا بھی مالک بن جاؤں گا۔” بھکشو جادوگر نے جلدی سے کہا۔
“ہاں۔ اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ تم اس محل میں صرف دس ملکوں کی شہزادیاں لاؤ گے۔ اگر دسویں شہزادی نے بھی تم سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور تم نے غصے میں آ کر اس کو بھی قتل کر دیا تو اس کے ساتھ تم بھی ہلاک ہو جاؤ گے۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔


“اوہ۔ ہاں۔ ہاں۔ مجھے یاد آگیا۔ تم نے یہی کہا تھا۔ اوہ۔ یہ میں کیا کرنے لگا تھا۔ اگر میں اس شہزادی کو ہلاک کر دیتا تو میں بھی ہلاک ہو جاتا۔” بھکشو جادوگر نے بری طرح سے بوکھلاتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔ تمہاری قسمت اچھی ہے بھکشو جادوگر جو میں وقت پر یہاں آگئی ہوں ورنہ اب تک تم بھی زندہ نہ ہوتے۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔
“اوہ۔ میں تمہارا احسان مند ہوں کالی جادوگرنی۔ تم نے واقعی عین وقت پر آ کر میری جان بچا لی ہے۔” بھکشو جادوگر نے کہا اور اس نے ہاتھ میں پکڑی…

ہوئی تلوار فضا میں اچھال دی جو ہوا میں اچھلتے ہی جھماکے سے غائب ہو گئی۔ شہزادی پھول حیرت سے ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ کالی جادوگرنی کا بدصورت چہرہ دیکھ کر اس کے چہرے پر اور زیادہ نفرت پھیل گئی تھی۔
“بہر حال۔ میں تم سے ایک نہایت ضروری بات کرنے کے لئے آئی ہوں۔ میرے ساتھ آؤ۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔
“اوہ۔ ضرور۔ کیوں نہیں۔” بھکشو جادوگر نے جلدی سے کہا۔ اس نے آگے بڑھ کر کالی جادوگرنی کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں دروازے کی طرف مڑ گئے۔
“رک جاؤ بھکشو جادوگر۔ کہاں جا رہے ہو۔ مجھے ہلاک کر دو بھکشو جادوگر۔ میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گی۔ میری بات سنو بھکشو جادوگر۔” شہزادی پھول نے بھکشو جادوگر کو دروازے کی طرف جاتے دیکھ کر بری طرح سے چیختے ہوئے کہا۔ بھکشو جادوگر نے پلٹ کر اس کی طرف قہر بھری نظروں سے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر کالی جادوگرنی کے ساتھ کمرے سے…

نکلتا چلا گیا۔ شہزادی پھول اسے مسلسل آوازیں دے رہی تھی۔ بھکشو جادوگر، کالی جادوگرنی کو لے کر اپنے کمرہ خاص میں آگیا۔ اس نے کالی جادوگرنی کو کمرے میں موجود ایک مسند پر بٹھایا اور اس کے سامنے مؤدبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا۔
“یاد رکھو بھکشو جادوگر۔ تمہیں اس شہزادی سے ہر حال میں شادی کرنی ہے۔ اب تم اس شہزادی کو ہلاک نہیں کر سکتے۔ اگر تم نے اس شہزادی کو ہلاک کر دیا یا وہ خود تمہارے محل سے بھاگ نکلی تو تم بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ یہ میرا نہیں جادوگروں کے جادوگر سامری جادوگر کا فیصلہ ہے جس کی میں پجارن ہوں۔” کالی جادوگرنی نے بھکشو جادوگر سے مخاطب ہو کر کہا۔
“میں کیا کروں کالی جادوگرنی۔ پہلی شہزادیوں کی طرح یہ شہزادی بھی بے حد ضدی اور خودسر ہے۔ میں نے اسے بھی دوسری شہزادیوں کی طرح شدید اذیتوں سے دوچار کیا ہے لیکن اس نے بھی مرنا قبول کر لیا تھا مجھ سے شادی کرنے کی حامی نہیں بھری تھی۔” بھکشو جادوگر نے مایوسی سے کہا۔



“مان جائے گی۔ یہ شہزادی مان جائے گی۔ تم اپنی کوشش جاری رکھو۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔
“اور کتنی کوششیں کروں۔ آج دس روز ہو گئے ہیں۔ اگر اس نے بھی سورج غروب ہونے تک حامی نہ بھری تو۔” بھکشو جادوگر نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
“یہ آخری شہزادی ہے بھکشو جادوگر۔ اس شہزادی کے لئے میں تم پر سے دس دنوں کی مہلت ختم کر دیتی ہوں۔ تم اگلے دس دن تک اور کوشش کر سکتے ہو۔ جیسے بھی ہو اس شہزادی کو راضی کرو کہ یہ خود ہی تم سے شادی کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ مزید دس دنوں سے زیادہ میں تمہیں اور وقت نہیں دے سکوں گی۔” کالی جادوگرنی نے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ میں کوشش کروں گا اور ان دس دنوں میں اب میں شہزادی پھول پر دوسرے حربے استعمال کروں گا۔ میں اسے کسی پہاڑی وادی میں لے جا کر چھوڑ دوں گا۔ وہاں وہ بھوکی پیاسی رہے گی تو…

اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ اس وادی میں ہر طرف میں جادوئی بلائیں پھیلا دوں گا جو ہر وقت شہزادی کو ڈراتی رہیں گی۔ میں شہزادی پھول سے کہوں گا کہ وہ ان بلاؤں سے صرف اسی صورت میں بچ سکتی ہے جب وہ مجھ سے شادی کی حامی بھر لے گی ورنہ وہ خوفناک بلائیں اس پر عذاب برساتی رہیں گی۔” بھکشو جادوگر نے کہا۔
“ہاں۔ یہ ٹھیک ہے۔ شہزادی مزید دس روز بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکے گی اور اس کے ارد گرد جب ہر طرف بلائیں نازل ہوں گی تو ان کے خوف سے وہ یقیناً حوصلہ چھوڑ دے گی اور پھر وہ یقیناً تم سے شادی کرنے کا اقرار کر لے گی۔” کالی جادوگرنی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“تم بتاؤ کالی جادوگرنی۔ تم یہاں کس لئے آئی ہو۔” بھکشو جادوگر نے پوچھا۔
“اوہ ہاں۔ میں تمہیں آقا سامری جادوگر کا پیغام دینے آئی ہوں۔ آقا نے کہا ہے کہ جادوگروں کا دشمن عمرو عیار تمہاری راہ پر لگ گیا ہے۔ وہ تمہیں ہلاک…


کرنے کے لئے آ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں آ جائے تم اپنی حفاظت کا بندوبست کر لو اور اپنے اور اپنے جادو محل کے گرد طلسمات کا جال پھیلا دو تاکہ وہ کسی طرح تم تک نہ پہنچ سکے۔ کالی جادوگرنی نے کہا۔

عمرو عیار یہ کون ہے اور وہ مجھے کیوں ہلاک کرنے آ رہا ہے۔ بھکشو جادوگر نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔

کیا تم عمرو عیار کو نہیں جانتے ۔ کالی جادو گرنی نے چونک کر کہا۔

نہیں۔ بالکل نہیں۔ یہ نام میں تمہاری زبان -سن رہا ہوں۔ کیا یہ مجھ سے بھی بڑا جادوگر ہے ۔ بھکشو جادوگر نے کہا۔

نہیں۔ وہ جادوگر نہیں ہے۔ میں نے تمہیں بتایا تو ہے کہ وہ جادوگروں کا دشمن ہے۔ ٹھہرو میں تمہیں عمرو عیار کے بارے میں تفصیل بتا دیتی ہوں۔ پھر تم خود ہی جان لو گے کہ وہ کون ہے ۔ کالی جادو گرنی نے کہا اور پھر وہ بھکشو جادوگر کو عمرو عیار کے بارے میں
بتانے لگی جس کی تفصیل سنتے ہوئے بھکشو جادوگر کا سے پکڑتا جا رہا تھا۔ چہرہ حیرت سے

اوہ اس قدر خطر ناک ہے یہ انسان – ساری تفصیل سن کر بھکشو جادوگر نے حیرت سے کہا۔

ہاں۔ وہ واقعی بہت خطرناک انسان ہے اس لئے تو آقا سامری جادوگر نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم اپنی حفاظت کا فوراً اور تعاطر خواہ بندو بست کر

سکو ۔ کالی جادو گرنی نے کہا۔

اگر میں اس عمرو عیار کو ہلاک کر دوں تو ۔ بھکشو جادوگر نے کچھ سوچ کر کہا۔

کر سکتے ہو تو کر دو۔ مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا

ہے ۔ کالی جادو گرنی نے کہا۔

ٹھیک ہے۔ میں اپنی کالی طاقتوں کو بلاتا ہوں اور انہیں عمرو عیار کی ہلاکت کے لئے روانہ کر دیتا

ہوں۔ عمرو عیار جس قدر مرضی خطرناک ہو وہ میری کالی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور میری کالی طاقتیں اسے فوراً ہلاک کر دیں گی ۔ بھکشو جادو گر نے کہا۔

اسے ہلاک کرنے کے لئے تم جو مرضی کرنا۔ مجھے مجھوک گئی ہے۔ میرے ہے۔ میرے لئے کہیں سے دو بکروں کا خون منگواؤ – کالی جادو گرنی نے کہا۔

اوہ ہاں۔ تم یہاں ٹھہرو میں تمہارے لئے بکروں کے خون کا بندو بست کرتا ہوں۔ بھکشو جادوگر نے کہا تو کالی جادو گرنی نے اثبات میں سر ہلا دیا اور بھکشو جادوگر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔

عمرو عیار کو بھکشو جادوگر پر بے پناہ غصہ آ رہا تھا جو اس کی معصوم بہن کو اٹھا کر لے گیا تھا۔ بادشاہ سلامت نے اسے جو کچھ بتایا تھا اسے سن کر عمرو عیار کا غصہ عروج پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ فوراً بھکشو جادوگر تک پہنچ جاتا اور اس کے ٹکڑے کر کے اس سے شہزادی پھول کو چھڑا کر لے آتا۔ بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کو تسلیاں دے کر

عمرو شاہی محل سے نکل آیا۔ اس نے شاہی اصطبل سے اپنا گھوڑا نکلوایا اور اس پر سوار ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ گھوڑے پر سوار شہر سے باہر جانے والے راستے پر دوڑا چلا جا رہا تھا۔

ملک تامان کی سرحد سے نکل کر وہ ایک جنگل میں ے میں

آگیا۔ یہ عام سا جنگل تھا۔ اس جنگل میں خطرناک جانور نہیں تھے۔ جنگل کے وسط میں ایک قدرتی جھیل تھی۔ عمرو عیار گھوڑا دوڑاتا ہوا اس جھیل کے پاس آ گیا۔ جھیل کے قریب آکر اس نے گھوڑا روکا اور نیچے اتر آیا۔ اس نے گھوڑے کو پانی پینے اور گھاس چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا اور خود جھیل کے کنارے پڑے ہوئے ایک بڑے سے پتھر کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ وہ پتھر پر بیٹھ گیا اور اس نے زنبیل سے سنہری تختی نکال لی۔

سنہری تختی۔ مجھے بھکشو جادوگر کے بارے میں بتایا جائے۔ عمرو نے سنہری سختی سے مخاطب ہو کر کہا تو سنہری تختی یکبارگی چکی اور اس پر سیاہ حروف

عمرو عیار کو بتایا جاتا ہے کہ بھکشو جادوگر شیطان جادوگر سامری کا پجاری ہے۔ بھکشو جادو گر اپنی زندگی لمبی کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے سامری جادوگر کی بڑی پجارن کالی جادو گرنی نے بھکشو جادوگر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی ملک کی شہزادی کو اپنے جادو محل میں


لائے اور کسی طرح اسے مجبور کر دے کہ وہ اپنی مرضی سے بھکشو جادوگر سے شادی کرنے کے لئے راضی ہو جائے۔ بھکشو جادو گر چونکہ بے حد سیاہ اور بد شکل جادوگر ہے اس لئے کالی جادو گرنی نے بھکشو جادوگر سے کہا تھا کہ وہ جس شہزادی کو اپنے جادو محل میں لائے اسے ہر حال میں دس روز تک راضی کرے۔ اگر وہ نہ مانے تو بھکشو جادوگر اس شہزادی کو قتل کر دے۔ اس کے لئے کالی جادو گرنی نے بھکشو جادور کو دس شہزادیاں محل میں لانے کی اجازت دی

تھی اور کہا تھا کہ اگر دس کی دس شہزادیوں نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھکشو جادوگر کے ہاتھوں قتل ہو گئیں تو بھکشو جادوگر بھی زندہ نہیں بچنے گا اس لئے وہ خاص طور پر دسویں شہزادی کو ہر حال میں راضی کرلے۔

شہزادی پھول دسویں شہزادی ہے۔ بھکشو جادوگر اسے راضی کرنے کے لئے اس پر طرح طرح کے مظالم کر رہا ہے لیکن شہزادی پھول نے دوسری شہزادیوں کی طرح بھکشو جادوگر سے شادی کرنے سے انکار کر دیا

ہے۔ جس پر کالی جادو گرنی نے بھکشو جادوگر کو مزید دس روز اور دے دیئے ہیں۔ اگر اگلے دس روز میں بھکشو جادوگر شہزادی پھول کو شادی کے لئے راضی نہ کر سکا تو وہ شہزادی پھول کو بھی قتل کر دے گا اور خود بھی ہلاک ہو جائے گا۔۔ سنہری تختی پر لکھتے ہوئے حروف پڑھ کر عمرو نے بے اختیار ہونٹ بھینچ لئے ۔

بھکشو جادوگر کہاں رہتا ہے اور اس کا جادو محل کہاں ہے ۔ عمرو نے پوچھا تو سنہری سختی سے پہلے حروف غائب ہوئے اور ان کی جگہ نئے حروف ابجر آئے۔

عمرو عیار کو بتایا جاتا ہے کہ بھکشو جادوگر یہاں سے ہزاروں میل دور کالے پہاڑوں کی کالی وادی میں رہتا ہے۔ اس کا جادو محل ایک بڑے کالے پہاڑ کے اندر ہے۔ اس محل کی حفاظت کے لئے بھکشو جادوگر نے کئی طلسمات قائم کر رکھتے ہیں۔ سنہری تختی پر

نئے الفاظ ابھرے۔

اس جادوگر تک پہنچنے اور اسے ہلاک کرنے کے لئے مجھے کیا کرنا ہو گا۔ عمرو نے الفاظ پڑھ کر دوبارہ

سنہری سختی سے پوچھا۔


عمرو عیار نے چونکہ اس بار لالچ سے کام نہیں لیا

اور نیکی کے طور پر بھکشو جادوگر کو ہلاک کرنے کا عزم

کیا ہے اس لئے عمرو عیار کی مدد کے لئے زنبیل کا محافظ

ہونا باہر آئے گا اور وہ عمرو عیار کی مدد کرے گا۔۔ سنہری سختی سے پہلے حروف غائب ہوئے اور ان کی جگہ نئے حروف آئے تو عمرو نے انہیں پڑھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے سنہری تختی زنبیل میں رکھ دی۔ جیسے ہی اس نے سنہری سختی زنبیل میں رکھی زنبیل سے اس کا ہمشکل محافظ ہونا اچھل کر باہر آگیا۔

میں حاضر ہوں آقا محافظ ہونے نے عمرو عیار کو جھک کر سلام کرتے ہوئے نہایت مؤدبانہ لہجے میں کہا۔

محافظ ہونے میں بھٹکو جادوگر کو ہلاک کر کے اس کی قید سے اپنی منہ بولی بہن شہزادی پھول کو آزاد کرانا چاہتا ہوں۔ عمرو نے محافظ ہونے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ضرور آتا۔ کیوں نہیں۔ میں آپ کے ساتھ

ہوں۔ زنبیل کے محافظ ہونے نے اسی طرح مؤدبانہ لیے میں کہا۔

اب بتاؤ مجھے کیا کرنا ہے۔ عمرو نے کہا۔

آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائیں آتا۔ میں آپ کو کالے پہاڑوں کی کالی وادی تک لے چلتا ہوں ۔۔ محافظ بونے نے کہا تو عمرو عیار نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ پتھر سے اترا اور اس طرف چل پڑا جہاں اس نے گھوڑا چھوڑا تھا۔ گھوڑا ایک جگہ گھاس چر رہا تھا۔ عمرو نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگامیں پکڑ لیں اور اچک کر اس پر سوار ہو گیا۔

ٹھہریں آتا۔ میں آپ کے گھوڑے کو اڑنے والا گھوڑا بنا دیتا ہوں تاکہ آپ جلد سے جلد کالے پہاڑوں کی کالی وادی میں پہنچ سکیں۔ محافظ ہونے نے کہا جو اڑتا ہوا اس کے ساتھ وہاں آگیا تھا۔ پھر محافظ ہونے نے اپنا ایک ہاتھ گھوڑے کی طرف کر کے جھٹکا تو اچانک عمرو عیار کے گھوڑے کے پہلوؤں میں دو بڑے بڑے پر نظر آنے لگے ۔ پر بے حد بڑے تھے۔ رنگ برنگے اور انتہائی خوبصورت عمرو نے یہ دیکھ کر

اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا اور زنبیل سے ظلم شکن انگوٹھی نکال کر دائیں ہاتھ کی انگلی میں پہن لی۔ پھر اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تو گھوڑا بھاگنے لگا۔

گھوڑا جنگل میں دوڑتا ہوا جب دوسری طرف آیا تو اس نے اچانک ایک اونچی چھلانگ لگائی اور پر ہلاتا ہوا ہایت تیزی سے فضا میں بلند ہوتا چلا گیا۔ کافی بلندی پر پہنچ کر گھوڑے نے منایت تیزی سے کسی پرندے کی طرح ایک طرف اڑنا شروع کر دیا۔ زنبیل کا محافظ ہونا عمرو عیار کے سر پر تیرنے والے انداز میں اڑ رہا تھا۔ ابھی عمرو عیار کو اڑتے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی ہو گی کہ اچانک عمرو عیار کی نظر دور آسمان پر تین سیاہ دھبوں پر پڑی۔ دھبے فضا میں تیرتے ہوئے تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ہوشیار آقا ۔ بھکشو جادوگر کو آپ کی آمد کا علم ہو گیا ہے۔ وہ آپ کو بلاک کرنے کے لئے اپنی جادوئی طاقتیں بھیج رہا ہے ۔ محافظ ہونے نے بیچ کر عمرو عیار کو بتاتے ہوئے کہا۔

یہ تو مجھے تین سیاہ جن معلوم ہوتے ہیں۔ عمرو

نے واضح ہوتے ہوئے سیاہ دھبوں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں آتا۔ یہ سیاہ جن ہی ہیں۔ بھکشو جادوگر کی سب سے بڑی طاقتیں۔ آپ فورا زنبیل سے کمان اور تین تیر نکال لیں ۔ محافظ ہونے نے کہا تو عمرو نے زنبیل سے ایک کمان اور تین تیر نکال لئے ۔

اب ان تینوں تیروں کو کمان پر اس طرحچر سائیں کہ ایک تیر سیدھا، ایک قدرے دائیں طرف اور تیسرا بائیں طرف ہو۔ محافظ ہونے نے کہا تو عمرو نے تینوں تیروں کو کمان پر چڑھا لیا۔ ایک تیر سیدھا تھا جبکہ دو تیر ترچھے تھے ۔

اسم اعظم پڑھ کر ان تینوں تیروں کو ایک ساتھ ان سیاہ جنوں پر مار دیں آقا محافظ ہونے نے کہا تو عمرو نے فورا اسم اعظم پڑھا اور پھر اس نے تیروں کا رخ سامنے آنے والے جنوں کی طرف کر دیا جو بے حد خوفناک تھے۔ جن اڑتے ہوئے نزدیک آگئے تھے اور

ہنایت تیزی سے عمرو عیار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ عمرو نے فوراً ان پر تیر چھوڑ دیئے ۔ کمان سے تینوں تیر


ایک ساتھ نکلے۔ ایک تیر سیدھا جبکہ دو تیر دائیں بائیں آنے والے سیاہ جنوں کی طرف بڑھتے چلے گئے ۔ ان تینوں جنوں نے تیروں سے بچنے کی کوشش کی مگر بیچ نہ سکے۔ ایک ایک تیر ان تینوں جنوں کو جا لگا۔ دوسرے لمحے فضا ان تینوں جنوں کی خوفناک چنگھاڑوں سے گونج اٹھی۔ جیسے ہی تیر ان جنوں کو لگے ان کے جسموں میں آگ لگ گئی اور وہ آگ کے بڑے بڑے شعلے بنے فضا میں بری طرح سے ناچنے لگے۔ وہ اپنے جسموں پر لگی ہوئی آگ بجھانے کی کوشش

کر رہے تھے مگر آگ نے فورا ان کے جسموں کو اپنی

پیٹ میں لے لیا اور تینوں جن بری طرح سے چھٹتے

ہوئے نیچے گرتے چلے گئے ۔ اس دوران گھوڑا بالکل بھی نہ دبکا تھا۔ وہ مسلسل پر ہلاتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ان تینوں جنوں کو فنا ہوتے دیکھ کر عمرو عیار نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کمان زنبیل میں ڈال لی۔

گھوڑا ایک بار پھر عمرو کو لئے پر ہلاتا ہوا تیزی سے اڑا جا رہا تھا۔ دور دور تک آسمان پر بادل پھیلے ہوئے

تھے۔ عمرو عیار کا اڑن گھوڑا ان بادلوں سے گزرتا جا رہا تھا جبکہ زنبیل کا محافظ ہونا بدستور عمرو عیار کے ساتھ اس کے سر پر تیرنے والے انداز میں اڑ رہا تھا اور پھر اچانک محافظ بونا بری طرح سے چونک پڑا۔

رک جائیں آقا ۔ اچانک زنبیل کے محافظ ہونے نے چھتے ہوئے کہا تو عمرو نے لگا میں کھینچ کر گھوڑے کو روک لیا۔

کیا ہوا ہے۔ عمرو نے زنبیل کے محافظ ہونے کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو پریشانی سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔

ٹھہریں۔ ابھی بتاتا ہوں۔ جب تک میں نہ آؤں آپ یہیں رکے رہیں ۔ زنبیل کے محافظ ہونے نے کہا۔ اس سے پہلے کہ عمرو اس سے مزید کوئی بات کرتا محافظ ہونا بجلی کی سی تیزی سے دائیں طرف بادلوں میں گھستا چلا گیا۔

ہونہہ ۔ اب اسے کیا ہو گیا ہے۔ کہاں چلا گیا ہے ہے۔ عمرو نے زنبیل کے محافظ ہونے کو اس طرحغائب ہوتے دیکھ کر منہ بناتے ہوئے کہا اور پھر


تھوڑی دیر بعد محافظ ہونا واپس آگیا۔

کیا ہوا۔ کہاں گئے تھے تم۔ عمرو نے اسے واپس

آتے دیکھ کر تیز لہجے میں پوچھا۔

مجھے یہاں شدید خطرہ محسوس ہو رہا ہے آقا ۔ زنبیل کے محافظ ہونے نے جواب دیا تو عمرو چونک بڑا ۔

خطرہ۔ کیسا خطرہ ۔ عمرو نے پوچھا۔

آتا۔ میں بھی دیکھنے گیا تھا لیکن دور دور تک

بادل تعالی ہیں۔ بظاہر تو یہاں کچھ نہیں ہے لیکن میرا دل چیخ چیخ کر کسی بڑے اور خوفناک خطرے سے مجھے آگاہ کر رہا ہے ۔ ۔ زنبیل کے محافظ ہونے نے کہا۔

تمہارا وہم ہو گا۔ جب تمہیں دور دور تک کچھ نظر نہیں آیا تو پھر کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ عمرو نے منہ

بناتے ہوئے کہا۔

آقا زنبیل سے تلوار حیدری نکال لیں۔ جلدی کریں۔ محافظ ہونے نے چیتے ہوئے کہا تو عمرو بری

طرح سے چونک پڑا۔

اور عمرہ کے منہ سے نکلا اور اسی لمحے اس کے

ارد گرد بے شمار جھماکے ہوئے اور وہاں بے شمار سیاہ رنگ کے ہونے آگئے ۔ ان بونوں کے چھوٹے چھوٹے پر تھے۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی تلواریں نظر آ رہی تھیں۔ بونوں کے چہرے بے حد خوفناک تھے۔ ان کی آنکھیں گول اور انگاروں کی طرح سرخ تھیں۔ اس قدر سیاہ بونوں کو دیکھ کر عمرو عیار بوکھلا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ زنبیل سے تلوار حیدری نکالتا سیاه خوفناک ہونے بھلی کی سی تیزی سے اس پر جھپٹ پڑے۔


خوفناک سیاہ ہونے ہنایت غضبناک انداز میں عمرو عیار پر چھٹے تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ عمرو عیار تک پہنچتے اچانک آگ کا ایک الاؤ سا بھڑکا اور عمرو عیار گھوڑے سمیت جیسے اس آگ میں چھپ گیا۔ اس آگ میں عمرو عیار اور اس کے گھوڑے کو تو کچھ نہیں ہوا تھا البتہ عمرہ پر جو خوفناک سیاہ ہونے جھپٹے تھے وہ اس آگ میں آنا فانا جل کر راکھ ہو گئے ۔ پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا اور آگ کے الاؤ سے چنگاریاں سی نکلیں اور وہاں موجود خوفناک سیاہ بونوں پر اڑتی ہوئی جا گریں۔ خوفناک سیاہ ہونے یکلخت جل کر راکھ بن گئے ۔ جیسے ہی خوفناک سیاہ ہونے جل کر راکھ ہوئے عمرو اور اس کے گھوڑے کے گرد پھیلی ہوئی آگ

یکنت غائب ہو گئی۔

یہ کیا ہوا تھا محافظ ہونے۔ وہ خوفناک ہونے اور آگ۔ عمرو نے حیرت زدہ نظروں سے محافظ ہونے سے پوچھا۔

آقا ۔ خوفناک سیاہ ہونے بے حد خطر ناک تھے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی تلواروں پر سیاہ ناگوں کا زہر لگا ہوا تھا۔ اگر ان کی ایک تلوار بھی آپ کو چھو جاتی تو آپ ایک لمحے میں ہلاک ہو جاتے۔ آپ نے تلوار حیدری نکالنے میں چونکہ دیر کر دی تھی اس لئے ان خوفناک سیاه بونوں پر مجھے حملہ کرنا پڑا۔ میں نے ان تمام بونوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ مجھے شدت سے ان بونوں کے خطرے کا احساس ہوا تھا اس لئے میں انہیں بادلوں میں ڈھونڈنے گیا تھا۔۔ محافظ بونے نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

اوہ تم نے میری جان بچا کر مجھ پر احسان کیا ہے محافظ ہونے۔ میں تم سے بہت خوش ہوں۔ عمرو نے کہا۔

اس میں احسان کی کیا بات ہے آقا۔ آپ میرے


آقا ہیں اور اپنے آقا کی جان بچانا میرا فرض ہے ۔

محافظ ہونے کہا۔

بھکشو جادوگر تو بے حد خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ مجھ پر ایک سے بڑھ کر ایک حملے کر رہا ہے۔ آخر وہ چاہتا کیا ہے ۔ عمرو نے کہا۔

کو ہلاک کرنا چاہتا ہے آقا تاکہ آ وہ آپ کو Σ تاکہ آپ اس کی سیاہ وادی میں داخل نہ ہو سکیں۔ محافظ ہونے

نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

کیوں۔ کیا وہ مجھے سے ڈرتا ہے ۔ عمرو نے کہا۔ ہاں آقا۔ کالی جادو گرنی نے اسے آپ کے بارے

میں ساری تفصیل بتا دی ہے۔ بھکشو جادو گر آپ پر جادوئی حملے کر رہا ہے تاکہ آپ اس کی کالی وادی تیک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جائیں۔ محافظ بونے نے

کہا۔

ہونہہ ۔ کیا وہ میرا راستہ روک لے گا۔ عمرو نے

مند بناتے ہوئے کہا۔

آقا – آپ تلواری حیدری ہاتھ میں لے لیں۔ تلوار حیدری کی وجہ سے بھکشو جادو گر آپ پر کوئی جادوئی دار

نہیں کر سکے گا۔ اس نے اگر اس طرف مزید کالی طاقتوں کو بھیجا تو وہ تلوار حیدری کو دیکھ کر فوراً بھاگ جائیں گی۔ محافظ ہونے نے کہا تو عمرو نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے زنبیل سے تلوار حیدری نکال لی۔

کالے پہاڑوں کی کالی وادی ابھی کتنی دور ہے محافظ ہونے۔ عمرو نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد محافظ ہونے سے پوچھا۔

بس آقا۔ تھوڑی دیر اور ہم جلد ہی وہاں پہینچ جائیں گے۔ محافظ ہونے نے کہا تو عمرو نے سر ہلا دیا۔ اس نے محافظ ہونے کے کہنے پر گھوڑے کو ایڑ لگائی تو گھوڑا ایک بار پھر پر ہلاتا ہوا اڑنے لگا۔ گھوڑا پر ہلاتا ہوا انتہائی برق رفتاری سے اڑا جا رہا تھا۔ پھر گھوڑے نے نیچے کی طرف جھکتے ہوئے اڑنا شروع کر دیا۔ عمرو عیار نے چونک کر دیکھا اس کا گھوڑا بادلوں سے گزرتا ہوا واقعی نیچے جا رہا تھا۔

ہم بھکشو جادوگر کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں آتا۔ آپ تلوار حیدری اسی طرح اپنے ہاتھ میں رہیں۔ بھکشو جادوگر نے اپنے علاقے میں جو طلسمات قائم کر


رکھے ہیں اور جو بلائیں پھیلا رکھی ہیں اس تلوار حیدری کی وجہ سے نہ صرف طلسمات ختم ہو جائیں گے بلکہ وہ بلائیں بھی بھاگ جائیں گی۔ محافظ بونے نے عمرو عیار سے مخاطب ہو کر کہا تو عمرو نے اثبات میں سر ہلا

دیا۔

گھوڑا بادلوں سے نکل آیا تھا اور ہایت تیزی سے نیچے جا رہا تھا۔ نیچے دور دور تک اونچے اونچے پہاڑوں کا طویل سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ گھوڑا انہی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا۔ جب گھوڑا کافی نیچے آگیا تو عمرو عیار کو ایک

سیاہ وادی دکھائی دی۔ سیاہ وادی میں اسے ایک جگہ شہزادی پھول دکھائی دی جو بڑے خوفزدہ انداز میں کھڑی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے قریب ایک ہایت بھیانک شکل والا بوڑھا جادوگر کھڑا تھا جس نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی تلوار تھی جسے اس نے شہزادی

پھول کی طرف کر رکھا تھا۔ شہزادی پھول کے چہرے

پر سبز رنگ کا باریک سا نقاب تھا لیکن اس کے

باوجود عمرو نے اسے آسانی سے پہچان لیا تھا۔

اوہ شہزادی پھول یہاں کیا کر رہی ہے اور یہ بوڑھا کون ہے ۔ عمرو نے محافظ ہونے سے مخاطب ہو کر پوچھا۔

یہ بوڑھا بھکشو جادوگر ہے آتا۔ یہ شہزادی پھول کو یر غمال بنا کر جادو محل سے باہر لایا ہے ۔ محافظ بونے کہا۔

کہا۔ یر غمال بنا کر ۔ مگر کیوں ۔ عمرو نے حیران ہو کر

آپ نے مجھکشو جادوگر کی چند کالی طاقتوں کو فنا جو کر دیا تھا اور پھر آپ کے ہاتھ میں تلوار حیدری ہے جس سے اس وادی میں موجود طلسمات ختم ہو گئے ہیں اور بلائیں بھاگ گئی ہیں۔ بھکشو جادوگر چونکہ تلوار حیدری کی وجہ سے آپ پر کوئی جادوئی وار نہیں کر سکتا اس لئے وہ شہزادی پھول کو یر غمال بنا کر محل سے باہر لے آیا ہے تاکہ یہ آپ کو اپنے جادو محل میں داخل ہونے سے روک سکے۔ محافظ ہونے کہا۔

ادہ تو یہ بات ہے ۔ عمرو عیار نے کہا۔ گھوڑا پر ہلاتا ہوا محاصا نیچے آگیا تھا اور بھکشو جادو گر ہنایت

خوفناک نظروں سے عمرو عیار کو دیکھ رہا تھا۔ – عمرو عیار اڑنے والے گھوڑے کو لے کر نیچے آ

جاؤ ورنہ میں شہزادی پھول کو ہلاک کر دوں گا۔ میں جانتا ہوں تم یہاں شہزادی پھول کے لئے آئے ہو۔ بھکشو جادوگر نے عمرو عیار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

اس کی بات سن کر عمرو عیار بے اختیار مسکرا دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بھکشو جادو گر صرف اسے دھمکی دے رہا ہے۔ شہزادی پھول کو وہ ہلاک نہیں کر سکتا تھا۔ اگر وہ شہزادی پھول کو ہلاک کرتا تو وہ خود بھی ہلاک ہو جاتا۔

نہیں۔ نہیں۔ شہزادی پھول کو کچھ مت کہنا۔ میں نیچے آ رہا ہوں بھکشو جادو گر ۔ عمرو نے موقع کی مناسبت سے کہا۔ اس نے گھوڑے کی لگامیں موڑ دیں اور گھوڑا پر ہلاتا ہوا نیچے آگیا اور پھر جیسے ہی گھوڑے کے پاؤں زمین پر لگے اس نے تیزی سے دوڑنا شروع کر دیا اور دوڑتا ہوا بھکشو جادوگر اور شہزادی پھول سے کچھ فاصلے پر آکر رک گیا۔

جیسے ہی گھوڑا رکا عمرو عیار چھلانگ لگا کر نیچے آگیا۔

گھوڑا پالنا اور نہایت تیزی سے ایک طرف بھاگتا چلا گیا۔

اپنی یہ کراماتی تلوار نیچے پھینک دو عمرو عیار بھکشو جادوگر نے اپنی تلوار شہزادی پھول کی گردن پر رکھتے ہوئے کہا۔ عمرو عیار کو دیکھ کر شہزادی پھول کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔

نہیں بھکشو جادوگر ۔ اب میں اس تلوار کو نہیں پھینکوں گا۔ تم اس تلوار سے ڈرتے ہو۔ مجھے معلوم ہے اس تلوار کی وجہ سے تم مجھ پر اپنا کوئی جادو نہیں چلا سکتے اور نہ ہی اپنی مدد کے لئے تم یہاں اپنی کسی جادوئی طاقت کو بلا سکتے ہو۔ عمرو نے تلوار حیدری


اس کی طرف کرتے ہوئے کہا۔

  • مخبردار – رک جاؤ پھینک دو تلوار ورنہ میں بیچ بیچ شہزادی کو ہلاک کر دوں گا۔ بھکشو جادوگر نے خوفزدہ لیجے میں کہا۔

تم شہزادی پھول کو بھی ہلاک نہیں کر سکتے بھکشو جادو گر — عمرو نے مسکراتے ہوئے کہا۔

کیوں نہیں ہلاک کر سکتا ۔ بھکشو جادوگر نے فوراً

کہا۔ اس کے لیجے میں بدستور خوف نمایاں تھا۔

مجھے یہ بھی معلوم ہے بھکشو جادوگر کہ اگر تم نے شہزادی پھول کو ہلاک کر دیا تو تم خود بھی زندہ نہیں بچو گے۔ عمرو نے کہا تو بھکشو جادوگر کا رنگ زرد ہو گیا۔

  • تم۔ تم یہ سب کیسے جانتے ہو ۔ بھکشو جادو گر نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔

میں عیار زمان، موت جادوگراں ہوں۔ تم جیسے ظالم، سفاک اور بے رحم جادوگروں کے بارے میں مجھے سب کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ اپنی خیریت چاہتے ہو تو شہزادی پھول کو چھوڑ دو ورنہ میں تمہارے ٹکڑے کر

دوں گا ۔ عمرو نے کہا۔

تم ۔ تم بھکشو جادوگر کو دھمکا رہے ہو۔ تمہاری یہ جرات میں شہزادی پھول کو تو نہیں ہلاک کر سکتا لیکن تمہیں تو کر سکتا ہوں ۔ آؤ میرا مقابلہ کرو پھر دیکھو میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں۔ بھکشو جادو گر نے عمرو کی بات سن کر غصے میں آتے ہوئے کہا۔

بہت خوب۔ یہ ہوئی نا بات۔ آؤ۔ عمرو نے اس کے سامنے تلوار لہراتے ہوئے کہا۔ بھکشو جادو گر نے شہزادی پھول کا کاندھا پکڑ کر اسے پیچھے دھکیل دیا اور اپنی تلوار لے کر لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا عمرو عیار کے سامنے آگیا۔

  • میرے بازوؤں میں بے پناہ طاقت ہے عمر و عیار تم میرا مقابلہ نہیں کر سکو گے ۔ بھکشو جادو گر نے غراتے ہوئے کہا۔

کوئی بات نہیں۔ میں تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر تم تو کر سکتے ہو۔ آؤ ۔ عمرو نے اس کا مذاق اڑانے والے انداز میں کہا تو بھکشو جادوگر کے حلق سے خوفناک فراہت نکلی اور وہ یکت تلوار اٹھا کر عمرو خیار

پر حملہ آور ہو گیا۔ اس نے تلوار کا بھر پور وار کیا تھا جیسے وہ ایک ہی وار سے عمرو عیار کی گردن کاٹ دینا چاہتا ہو مگر عمرو عیار بھی عمرو عیار تھا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار حیدری تھی جس کا مقابلہ کم از کم کسی جادوگر کی تلوار نہیں کر سکتی تھی۔

عمرو نے اس کی تلوار اپنی تلوار پر روکی اور اچھل کر بھکشو جادوگر کے دائیں طرف آگیا۔ بھکشو جادوگر نے ہاتھ بڑھا کر عمرو عیار کا گریبان پکڑنے کی کوشش کی مگر اچانک عمرو نے اچھل کر اس کے پہلو میں زور دار لات مار دی ۔ بھکشو جادوگر چیختا ہوا نیچے جا گرا۔

عمرو اس کی طرف بڑھا ہی تھا کہ بھکشو جادوگر زمین پر کروٹیں بدلتا ہوا تیزی سے پیچھے ہٹا اور فورا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

بہت خوب خاصے تیز ہو”۔ عمرو نے اس کی پھرتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ بھکشو جادوگر ایک بار پھر غرایا اور اچھل کر ایک بار پھر عمرو عیار کے مقابلے پر آگیا اور پھر ان دونوں کے درمیان خوفناک جنگ چھڑ گئی ۔ بھکشو جادوگر اچھل اچھل کر عمرو عیار پر

حملے کر رہا تھا۔ عمرو عیار خود کو اس کے حملوں سے بچاتا ہوا اس پر جوابی وار بھی کر رہا تھا۔ بھکشو جادوگر بھی تلوار بازی میں ماہر معلوم ہوتا تھا۔ وہ جس تیزی سے پینترے بدل بدل کر عمرو عیار پر حملے کر رہا تھا عمرو عیار کو خود اس کے حملوں سے بچانا واقعی مشکل ہو رہا تھا۔


پھر اچانک بھکشو جادوگر پر عمرو نے تلوار مارنی چاہی مگر بھکشو جادوگر بھی خاصا تیز طرار تھا۔ اس نے بھی دائیں طرف چھلانگ لگا کر عمرو کے وار سے خود کو بچا لیا۔

ہونہہ ۔ تم میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکو گے بھکشو جادوگر۔ میں یہاں تمہاری موت بن کر آیا ہوں۔ عمرو نے غراتے ہوئے کہا۔

بھکشو جادوگر کو ہلاک کرنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے عمرو عیار۔ میں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ بھکشو جادوگر نے بھی جواباً غراتے ہوئے کہا اور وہ دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے اور فضا تلواروں کی تیز چھنکار کی آوازوں سے گونج

اٹھی۔

شہزادی پھول ایک طرف کھڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ان دونوں کو لڑتے دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں واقعی ایک دوسرے پر موت بن کر ٹوٹ پڑے تھے۔ ان دونوں کے لڑنے کے انداز سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ان میں سے کوئی ایک ہلاک نہیں ہو جاتا۔

یکبارگی بھکشو جادوگر نے جھک کر جو تلوار عمر و عیار کی ٹانگوں پر مارنے کی کوشش کی تو عمرو عیار فوراً اچھلا اور بھکشو جادوگر کی تلوار اس کے پیروں کے نیچے سے

نکل گئی۔ اگر عمر و عیار عقل مندی کا مظاہرہ کر کے فورا نہ اچھلتا تو بھکشو جادوگر کی تلوار سے یقیناً اس کی ٹانگیں کٹ جاتیں۔ بھکشو جادوگر اپنا وار خالی جاتے دیکھ کر سیدھا ہوا ہی تھی کہ اچانک عمرو عیار اپنے پیروں پر کھونا اور اس کی تلوار والا ہاتھ پوری قوت سے بھکشو جادوگر کی گردن پر پڑا۔ کھیچ کی آواز کے ساتھ ہی بھکشو جادوگر کا سر اس کی گردن سے جدا ہو کر دور جا گرا۔

بھکشو جادوگر کا بے سر کا دھڑ خون کے فوارے اڑاتا ہوا رجب سے نیچے گر گیا اور چند لمحے تھوپنے کے بعد ساکت ہو گیا۔ شہزادی پھول جو ایک طرف کھڑی حیرت اور خوف سے عمرو اور بھکشو جادوگر کو لڑتے دیکھ رہی تھی اس نے جو بھکشو جادوگر کو ہلاک ہوتے دیکھا تو عمرو بھائی کہتی ہوئی بے اختیار عمرو کی طرف دوڑ پڑی اور آکر عمرو سے لپٹ گئی۔ اسی لمحے اچانک ہر طرف گہری تاریکی چھا گئی اور ہر طرف سے رونے پیٹنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔

افسوس – مارا مجھے عمرو عیار نے۔ میرا نام بھکشو جادوگر تھا۔ اچانک بھکشو جادوگر کی روتی ہوئی آواز سنائی دی اور پھر جیسے ہی یہ آواز ختم ہوئی وہاں سے تاریکی چھٹ گئی۔ وادی میں عمرو عیار، شہزادی پھول اور عمرو کا پروں والا گھوڑا موجود تھا۔ عمرو عیار بڑے لاڈ سے شہزادی پھول کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا جو عمرو کو دیکھ کر بے حد خوش ہو رہی تھی۔

میں آگیا ہوں آقا – عمرو کو اچانک زنبیل کے محافظ ہونے کی آواز سنائی دی تو عمرو نے چونک کر


دیکھنا محافظ ہونا عین اس کے سر پر تھا۔

آگیا ہوں سے تمہاری کیا مراد ہے۔ تم میرے ساتھ ہی تو تھے ۔ عمرو نے حیرانی سے کہا۔

نہیں آتا۔ جب آپ بھکشو جادوگر سے لڑ رہے تھے تو میں اس کے جادو محل میں چلا گیا تھا۔ محافظ ہونے نے کہا۔

جادو محل میں۔ کیوں۔ تم اس کے جادو محل میں کیا کرنے گئے تھے ۔۔ عمرو نے پوچھا۔

بھکشو جادوگر کے محل میں ایک بہت بڑا خزانہ

موجود تھا آتا۔ آپ نے چونکہ اس بار نیک دلی سے یہ مہم حاصل کی تھی اس لئے میں نے سوچا کہ آپ کو

اس نیک دلی کے بدلے میں بھکشو جادوگر کا خزانہ دے دوں ۔ محافظ ہونے نے مسکراتے ہوئے کہا تو عمرو عیار اچھل پڑا۔ اس کی آنکھوں میں یکنت بے پناہ

چمک ابھر آئی تھی۔

اوہ کہاں ہے وہ خزانہ ۔ عمرو عیار نے ادھر

ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

آپ کی زنبیل میں۔ خزانہ دس بادشاہوں کے

خزانوں سے بڑا ہے آقا جسے دیکھ کر آپ کی طبیعت خوش ہو جائے گی۔ محافظ بونے نے کہا تو عمرو کا چہرہ مسرت سے کھل اٹھا اور محافظ بونا واپس اس کی زنبیل میں چلا گیا۔ وہ خوش تھا کہ ایک تو وہ اپنی منہ بولی بہن کو ظالم جادوگر سے بچا کر لے آیا تھا اور دوسرا زنبیل کے محافظ ہونے نے بن مانگے اسے دس بادشاہوں کے خزانوں سے بڑا خزانہ بھی انعام میں دے دیا تھا۔

ختم شد

عمرو عیار کا اگلا سفر چڑیلوں کی وادی میں

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *