Umro aur kaboos jinn

Umro aur kaboos jinn /عمرو اور کابوس جن

عمرو عیار سردار امیر حمزہ کے لشکر جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ پچھلے دنوں سردار امیر حمزہ نے اسے ایک جادوگر کی ہلاکت کی خوشی میں بے شمار سرخ مہر والی اشرفیاں دی تھیں۔ سردار امیر حمزہ نے عمرو عیار کو دس بڑی بڑی تھیلیاں دی تھیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں سرخ مہر والی اشرفیاں تھیں۔ عمرو عیار ان تھیلیوں کو کھول کر ان میں موجود اشرفیوں کی تعداد معلوم کرنا چاہتا تھا۔

umro aur kaboos jinn ki kahani ka aghaz

پچھلے دنوں چونکہ وہ مصروف تھا اس لئے اسے اشرفیاں گنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ اب جبکہ وہ فارغ تھا تو اس نے سوچا کہ کسی اکیلی اور خاموش جگہ پر جا کر اسے ان اللہ اشرفیوں کو گن لینا چاہئے اس لئے وہ صبح کا ناشتہ کر کے اس جنگل کی طرف نکل گیا تھا۔ جنگل خاصا بڑا اور مخاموش تھا۔ یہاں درخت منڈ

منڈے تھے اور اس جنگل میں چونکہ کوئی درندہ نہ تھا اس لئے عمرو عیار اپنی دولت کا حساب کرنے کے لئے اس جنگل میں آ جاتا تھا۔ جنگل میں داخل ہو کر وہ دور تک آگے بڑھتا چلا گیا۔ آگے ایک چھوٹی سی جھیل تھی۔ عمرو عیار اس جھیل کے کنارے پر آگیا اور جھیل کے کنارے پر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر دور نزدیک کسی کو نہ پا کر نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔

جھیل کا نیلا پانی بہار دکھا رہا تھا۔ جھیل میں راج ہنس، خوبصورت بطخیں اور دوسرے پرندے تیر رہے تھے۔ اس کے علاوہ جھیل کے شفاف پانی میں خوبصورت رنگ برنگی مچھلیاں بھی تیرتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ عمرو عیار وہاں بیٹھ کر پرندوں اور مچھلیوں کا خوبصورت نظارہ دیکھنے میں اس قدر محو ہو گیا تھا کہ وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ یہاں کسی کام کے لئے آیا ہے۔

کیا تم عمرو عیار ہو ۔ اچانک ایک پیٹتی ہوئی آواز
سنائی دی تو عمر و عیار بری طرح سے اچھل پڑا۔کک کون کون ہے ۔ اس نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا اور پلٹ کر دیکھا مگر اسے وہاں کوئی دکھائی نہ دیا۔

میں ملکہ کا شیلا ہوں۔ تم بتاؤ تم عمرو عیار ہی ہو۔ وہی چیختی ہوئی آواز سنائی دی تو عمرو عیار اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ اس بار آواز اسے بالکل قریب سے سنائی دے رہی تھی مگر بولنے والی اسے واقعی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

ملکہ کا شیلا ۔ مگر تم ہو کہاں۔ ہو کہاں۔ تم مجھے دکھائی کیوں نہیں دے رہیں۔ عمرو عیار نے حیرت اور قدرے خوف بھرے لہجے میں کہا۔

پہلے تم میری بات کا جواب دو پھر میں تمہارے سامنے آؤں گی ۔ ملکہ کا شیلا نے کہا۔

کس بات کا جواب – عمرو عیار نے چونک کر پوچھا

تمہارا نام عمرو عیار ہے نا۔ ملکہ کا شیلا کی آواز سنائی دی۔

ہاں۔ میں عمرو عیار ہوں۔ خواجہ عمرو عیار – عمرو عیار نے فورا کہا۔

اوہ اچھا ہوا تم یہاں آگئے ہو۔ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ ملکہ کا شیلا نے جیسے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی ایک جھماکا سا ہوا اور اچانک عمرو عیار کے سامنے ایک انتہائی خوفناک اور بھیانک شکل والی بڑھیا نمودار ہو گئی۔ اس بڑھیا نے سیاہ رنگ کا لبادے نما لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے بال بڑے بڑے اور بری طرح سے بکھرے ہوئے تھے۔ اس کا چہرہ سیاہ تھا اور سارے چہرے پر جھریاں تھیں اور اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی سی تھیں۔ اس بڑھیا کا منہ کھلا ہوا تھا جس میں سے اس کے اوپر کے صرف دو نوکیلے اور لمبے لمبے دانت دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے ناخن بے حد لمبے لمبے اور نوکیلے تھے۔ اس خوفناک چرمیل جیسی بڑھیا کو دیکھ کر عمرو عیار ڈر گیا اور خوف کے

مارے کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔تت تم ملکہ ہو ۔ عمرو کے منہ سے ڈری ڈری کی آواز نکلی۔ہاں۔ میں ملکہ کا شیلا ہوں ۔ بڑھیا نے اسی طرح چیختی ہوئی آواز میں کہا۔ اوہ تمہاری شکل تو بے حد بھیانک ہے۔ کیا تم چڑیل ہو۔ عمرو نے کہا۔

Umro aur kaboos jinn

ہاں۔ میں چڑیلوں کی ملکہ ہوں۔ ملکہ کا شیلا نے

جواب دیتے ہوئے کہا۔

کیوں آئی ہو یہاں۔ مجھ سے کیا چاہتی ہو ۔ عمرو نے چڑیلوں کی ملکہ کا سن کر اور زیادہ گھبراتے ہوئے کہا۔

میں تم سے ملنے آئی ہوں عمرو عیار مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے ۔ چریل ملکہ کا شیلا نے کہا۔

میری مدد – عمرو نے کہا۔

ہاں۔ تم جادو گروں کے دشمن ہو اور مجھے بتایا گیا ہے کہ تم اب تک بے شمار جادو گروں اور

جادو گرنیوں کو ہلاک کر چکے ہو۔ ملکہ کا شیلا نے کہا۔ کس نے بتایا ہے تمہیں ۔ عمرو نے پوچھا۔

میرے جادوئی آئینے نے ۔ چڑیل ملکہ کا شیلا نے کہا۔

جادوئی آئینے نے ۔۔ عمرو نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔

ہاں۔ میرے پاس ایک جادو کا آئینہ ہے جو مجھے سب کچھ بتا دیتا ہے۔ اس آئینے سے جب میں نے تمہارے بارے میں پوچھا تو اس نے مجھے تمہارے بارے میں ساری باتیں بتا دیں اور مجھے یہ بھی بتا دیا کہ تم مجھے کہاں مل سکتے ہو ۔ چربیل ملکہ کا شیلا نے کہا۔

لیکن تم نے میرے بارے میں جادوئی آئینے سے کیوں پوچھا تھا ۔ عمرو نے کہا

میں نے تمہیں بتا تو دیا ہے کہ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے ۔ چڑیل ملکہ کا شیلا نے کہا۔

اچھا بتاؤ۔ کیا مدد چاہئے تمہیں ۔ عمرو نے سر

جھٹک کر کہا۔

کیا تم شامر جادو گر کو جانتے ہو ۔ چریل ملکہ نے عمرو عیار کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

شاعر جادوگر – عمرو نے حیرت بھرے لہجے میں

Umro journey عمرو عیار

کہا۔

ہاں ۔ شامر جادوگر جو شیطانوں کا شیطان ہے۔۔

چریل ملکہ نے کہا۔

نہیں۔ میں اس نام کے کسی جادوگر کو نہیں

جانتا ۔ عمرو نے کہا۔

اوه چلو کوئی بات نہیں۔ اس کے بارے میں تمہیں میں بتا دیتی ہوں ۔ چریل ملکہ نے کہا۔

بتاؤ عمرو نے منہ بنا کر کہا۔ اسے اس بدشکل اور خوفناک بڑھیا سے نفرت ہو رہی تھی۔ اس کا دل

چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے۔ – شاعر جادوگر جادو گروں کے شہنشاہ افراسیاب کا پنچا

ہے ۔ چڑیل ملکہ نے کہا تو عمرو عیار بری طرح سے

چونک پڑا۔

شہنشاہ افراسیاب کا چچا – عمرو نے حیرت زدہ لہجے

میں کہا۔

ہان۔ وہ یہاں سے سینکڑوں میل دور سرخ جنگل

میں رہتا ہے۔ شامر جادوگر چونکہ تنہائی پسند ہے اس

لئے وہ انسانی دنیا سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس جادوگر کی طاقتیں دنیا کے تمام جادوگروں سے زیادہ ہیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنی جادوئی طاقتوں سے آسانی سے شہنشاہ افراسیاب کی جگہ سنبھال سکتا ہے۔

شہنشاہ افراسیاب اس کے سامنے دم بھی نہیں مار سکتا۔ چڑیل ملکہ نے عمرو کو شاعر جادوگر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔

حیرت ہے۔ مجھے واقعی معلوم نہیں تھا کہ شہنشاہ افراسیاب کا کوئی چچا بھی ہے اور وہ اس سے بڑا جادوگر ہے ۔ عمرو نے کہا۔

چلو اب تو تمہیں معلوم ہو گیا ہے ۔ پردیل ملکہ نے کہا۔

ہاں۔ لیکن تم مجھے اس کے بارے میں کیوں بتا رہی ہو۔ عمرو نے پوچھا۔

شاعر جادوگر سرخ جنگل میں طویل زندگی حاصل کرنے کے لئے جادوئی عمل کر رہا ہے۔ وہ انتہائی بھیانک شکل کا جادو گر ہے۔ وہ ایسے جاپ بھی کر رہا ہے کہ کسی طرح وہ خوبصورت ہو جائے اس لئے وہ روزانہ ایک انسان ایک جانور اور ایک جن اور ایک

چڑیل کو ہلاک کرتا ہے اور ان کا خون پی جاتا ہے جس سے اس کی طاقتیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔ عمرو عیار یہ دنیا انسانوں، جنوں اور جانوروں سے بھری ہوئی ہے مگر اس دنیا میں چر دیلوں کی تعداد ہے عد کم ہے۔

شاعر جادوگر پچھلے کئی ماہ سے چڑیلوں کو ہلاک کر رہا ہے اور دن بدن ہماری تعداد کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ شامر جادوگر کا جاپ نجانے کتنے عرصے تک چلے گا لیکن جب تک اس کا جاپ چلتا رہے گا وہ اسی طرح

انسانوں، جنوں، جانوروں اور چردیلوں کا خون پیتا رہے گا۔ انسانوں، جنوں اور جانوروں کی تعداد میں تو کوئی واضح کی نہیں ہو گی مگر ہم چریلیں ضرور ختم ہو جائیں

گی۔ اس جادوگر کے سامنے میری بھی ایک نہیں چلتی ۔ میری چڑیل نگری میں چربیلوں کی تعداد بے حد کم ہے۔ اگر شام جادوگر اسی طرح چڑیلوں کو ہلاک کر کے ان کا خون پیتا رہا تو میری چردیل نگری کی تمام چریلیں ختم ہو جائیں گی اور جب چڑیل نگری میں چریلیں نہ رہیں گی تو میں حکومت کسی پر کروں گی۔

اس کے لئے میں بے حد پریشان تھی اور اسی سلسلے میں جب میں نے اپنے جادوئی آئینے سے مشورہ کیا تو جادوئی آئینے نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا اور کہا که شاهر جادوگر جب تک ہلاک نہیں ہو گا اس کا یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ شاعر جادوگر کو اس دنیا میں اگر کوئی ہلاک کر سکتا ہے تو وہ عمرو عیار ہے۔

میں نے عمرو عیار کے بارے میں جادوئی آئینے سے پوچھا تو اس نے مجھے تمہاری صورت بھی دکھا دی اور تمہیں یہاں بیٹھے ہوئے بھی دکھا دیا۔ اس طرح میں یہاں پہنچ گئی۔ اب عمرو عیار میں تم سے درخواست کرتی ہوں کہ تم نہ صرف ہماری بلکہ انسانوں، جنوں اور بے گناہ معصوم جانوروں کی بھی مدد کرو اور ہم سب کو اس مظالم جادوگر کے نظام سے بچاؤ اور جیسے بھی ہو سرخ جنگل میں جا کر اسے ہلاک کر دو ۔ چڑیل ملکہ کہتی چلی گئی۔

اوہ یہ تو واقعی نظام ہے۔ اپنی زندگی بڑھانے اور خوبصورت بننے کے لئے شاعر جادوگر بے گناہ انسانوں، جنوں اور جانوروں پر اس قدر ظلم کر رہا ہے ۔ عمرو

نے غصیلے لہجے میں کہا۔ اسے واقعی شامر جادوگر کے ظلم کے بارے میں جان کر غصہ آگیا تھا۔

ہاں۔ اب اس مظالم کے ظلم کا خاتمہ تم ہی کر سکتے ہو عمرو عیار – چردیل ملکہ نے کہا۔

میں اس ظالم جادوگر کو کیسے ہلاک کر سکتا ہوں۔

کیا اس جادوگر کو ہلاک کرنے کے لئے مجھے کوئی مخاص کام کرنا پڑے گا ۔ عمرو نے کہا۔

ہاں ۔ شامر جادوگر کو نیلے خنجر سے بلاک کیا جا سکتا ہے ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

نیلا خنجر نیلے خنجر سے تمہاری کیا مراد ہے ۔ عمرو نے حیران ہو کر کہا۔

نیلا خنجر کابوس جن کے پاس ہے جو یہاں سے لاکھوں میل دور ایک وادی میں رہتا ہے۔ اس وادی کو جناتی وادی کہا جاتا ہے۔ کابوس جن اس وادی کے جنوں کا سردار ہے۔ اس سردار جن کے پاس جو نیلا خنجر ہے اس پر ہزاروں ناگوں اور ہزاروں بچھوؤں کا زہر لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے مخیر کا رنگ نیلا ہو گیا ہے اس لئے اسے نیلا مینجر کہا جاتا ہے۔ نیلا خنجر اگر

کسی جن کو چھو دیا جائے تو طاقتور سے طاقتور جن اس لمحے موم کی طرح پھل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے جن نیلے خنجر اور اس کی نوک سے بے حد ڈرتے ہیں اور چونکہ نیلا خنجر کابوس جن کے پاس ہے اس لئے وہ اسے اپنا سردار مانتے ہیں اور اس کے ہر حکم کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔ کابوس جن بھی شام

جادوگر کی طرح بڑا شیطان ہے۔ وہ بھی انسانوں اور جنوں پر بے پناہ ظلم کرتا ہے۔ تمہیں سب سے پہلے کابوس جن کی جناتی وادی میں جا کر کابوس جن کو ہلاک کرنا ہو گا اور پھر تم اس سے خنجر لے کر سرخ جنگل میں جاؤ گے۔ سرخ جنگل میں تمہیں میں خود لے

جاؤں گی۔

شاعر جادوگر نے سرخ جنگل میں ایک جادوئی محل بنا رکھا ہے۔ اس محل میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن میں چونکہ چر دیلوں کی ملکر ہوں اس لئے میں اس جادوئی محل کی دیواروں میں گھس کر محل میں داخل ہو سکتی ہوں۔ میں تمہیں اپنے ساتھ محل کے اندر لے جاؤں گی اور جب ہمارا سامنا شامر جادوگر

سے ہو گا تو میں اسے باتوں میں اٹھاؤں گی اور تم موقع دیکھ کر اسے نیلا خنجر مار دینا تو وہ اسی وقت بلاک ہو جائے گا۔ چڑیل ملکہ نے عمرو کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔

اوہ تو مجھے پہلے کابوس جن کو ہلاک کرنا ہو گا۔ عمرو نے کہا۔

Umro aur kaboos jinn ka aamna samna|عمرو اور کابوس جن کا آمنا سامنا

ہاں۔ اگر تم کسی طرح کابوس جن کی نظروں سے چھپ کر اس کے محل میں داخل ہو جاؤ تو اس کے کمرے میں چلے جانا۔ کابوس جن زیادہ تر ہوتا رہتا ہے۔ اس کے کمرے میں سرخ آگ کی ایک مشعل جل رہی ہے۔ تم خاموشی سے دیوار سے مشعل اتار لینا اور اس مشعل سے کابوس جن کے بستر کے چاروں طرف آگ لگا دینا۔ کابوس جن کسی بھی طرح اس آگ سے نہیں نکل سکے گا اور وہ اس آگ میں جل کر ہلاک ہو جائے گا۔ بس تمہیں یہ احتیاط کرنی ہو گی کہ بستر کے چاروں طرف آگ لگنے سے پہلے کابوس جن کی آنکھ نہ کھل جائے۔ اگر کابوس جن کی آنکھ کھل گئی تو وہ تمہیں غیبی حالت میں ہونے کے باوجود دیکھ لے گا اور پھر

وہ تمہیں بلاک کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرے گا۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اوہ تو کیا اس طریقے کے علاوہ میں کابوس جن کو کسی اور طریقے سے ہلاک نہیں کر سکتا ۔ عمرو نے

کہا۔

  • اس کے علاوہ کابوس جن اس طرح سے ہلاک ہو سکتا ہے کہ اسے اٹھا کر آگ میں پھینک دیا جائے۔ ظاہر ہے یہ کام تم کر نہیں سکتے۔ تم دبلے پتلے سے انسان ہو اور کابوس جن تم سے بہت بڑا ہے اور اس کا وزن بھی کسی پہاڑ سے کم نہیں ہے ۔ چڑیل ملکہ

نے کہا۔

شاعر جادوگر شہنشاہ افراسیاب کا چچا ہے اور کابوس

جن، جنوں کا سردار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان دونوں کے پاس دولت کی بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔ عمرو نے اپنے مطلب کی بات کی طرف آتے ہوئے کہا۔

ہاں۔ وہ دونوں بے حد امیر کبیر ہیں۔ ان کے پاس بڑے بڑے خزانے ہیں۔ کیوں۔ تم کیوں پوچھ

رہے ہو۔ ملکہ پھڑیل نے حیران ہو کر کہا۔

کچھ نہیں۔ تم چڑیلوں کی ملکہ ہو۔ خزانوں کی تمہارے پاس بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔۔ عمرو نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں۔ میرے پاس بھی بے حد دولت ہے۔ چر دیل ملکہ نے کہا تو عمرو کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

چر دیل ملکہ یہ درست ہے کہ شامر جادوگر اور کابوس جن انسانوں اور جنوں پر بے حد ظلم کر رہا ہے۔ ان دونوں شیطانوں کا ہلاک ہونا بے حد ضروری ہے مگر ۔۔ عمرو کہتے کہتے رک گیا۔

مگر ۔ مگر کیا ۔ چردیل ملکہ نے چونک کر کہا۔ میں اس جن اور جادوگر کو ہلاک کرنے کے لئے یہاں سے نہیں جا سکتا۔ عمرو نے کہا تو چڑیل کا عمرو کا جواب سن کر بری طرح سے اچھل پڑی۔ ملکہ

کہا۔ نہیں جا سکتے۔ لک۔ کیا مطلب – چربیل ملکہ نے

چڑیل ملکہ میں بصرہ میں رہتا ہوں۔ میری دی بیویاں اور سو بچے ہیں۔ میں دن رات ان کو روٹی

کھلانے کے لئے محنت مزدوری کرتا رہتا ہوں۔ محنت مزدوری سے چونکہ میں زیادہ کما نہیں سکتا اس لئے میری بیویوں اور بچوں کو اکثر بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ ان کو کھانا کھلانے کے لئے مجھے ہر وقت لوگوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ میں پچھلے کئی سالوں سے قرض پر قرض لے رہا ہوں اور اب تک میں ہزاروں لاکھوں کا مقروض ہو چکا ہوں۔ اب لوگوں نے مجھے قرض دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک میں ان کا قرض نہیں لوٹاؤں گا وہ میری کوئی مدد نہیں

کریں گے بلکہ انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی ہے کہ

اگر میں نے کہیں جانے کی کوشش کی تو وہ میری

بیویوں اور بچوں کو ہلاک کر دیں گے۔ اب تم ہی بتاؤ

اگر میں شامر جادوگر اور کابوس جن کو ہلاک کرنے

تمہارے ساتھ چلا جاؤں تو کیا وہ لوگ میری بیویوں

اور بچوں کو ہلاک نہیں کر دیں گے۔ عمرو نے

معصوم کی صورت بناتے ہوئے کہا۔

اوہ یہ تو غلط ہو گا۔ بہت غلط – چردیل ملکہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

ہاں۔ میں تمہارا کام اس صورت میں کر سکتا ہوں کہ کسی طرح ان سب کا قرض اتار دوں۔ میں دن رات محنت کروں گا، دس ہیں سال لگا کر ان کا قرض اتار دوں گا تب میں شاید تمہارا کام کر سکوں ۔۔ عمرو نے کہا۔

دس ہیں سال ۔ اور تب تک تو شاعر جادوگر کے ہاتھوں تمام چریلیں ہلاک ہو جائیں گی ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

تب پھر تم بتاؤ۔ میں کیا کر سکتا ہوں ۔ عمرو

نے بے چارگی سے کہا۔

دیکھو عمرو عیار میں چڑیلوں کی ملکہ ہوں۔

ہمارے پاس تم انسانوں کی طرح اشرفیاں وغیرہ تو نہیں ہوتیں اور نہ ہی میں تمہیں کہیں سے اشرفیاں لا کر دے سکتی ہوں ۔ البتہ میرے پاس نایاب ہیرے ہیں۔ وہ میں تمہیں لا کر دے سکتی ہوں ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

ہیرے: عمرو نے خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا۔ ہیروں کا سن کر اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔

ہاں۔ میرے پاس زرد، سبز اور سرخ رنگ کے ہیرے ہیں۔ تم یہیں رکو میں ابھی آتی ہوں ۔ چڑیل

ملکہ نے کہا۔

ہاں۔ ہاں ۔ جلدی آؤ۔ تمہارے پاس جتنے ہیرے ہیں وہ سب لے آؤ ۔ عمرو نے اس کی بات سن کر

خوش ہوتے ہوئے کہا۔

میرے پاس صرف آٹھ ہمیرے ہیں عمرو عیار –

چریل ملکہ نے کہا۔

صرف آٹھ – آٹھ ہیروں کا سن کر جیسے عمرو کے ارمانوں پر اوس سی پڑ گئی۔

ہاں ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اوہ ٹھیک ہے۔ وہی لے آؤ۔ بھاگتے چور کی

لنگوٹی ہی کہی ۔ عمرو نے سر جھٹک کر کہا تو چربیل ملکہ مسکراتی ہوئی وہاں سے غائب ہو گئی۔

سرخ، زرد اور سبز میرے دیکھ کر عمرو عیار کا دل باغ باغ ہو گیا تھا۔ ان ہیروں کی تعداد آٹھ تھی اور وہ اخروٹ جتنے بڑے تھے جن کی چمک دمک بتا رہی تھی کہ وہ لاکھوں کی مالیت کے ہیں۔ چڑیل ملکہ نے جب عمرو عیار کو ہمیرے لاکر دیئے تو عمرو عیار کو اپنی آنکھوں پر جیسے یقین ہی نہیں آیا کہ چریل ملکہ کے

پاس اتنے بڑے اور قیمتی ہیرے ہوں گے۔ کیا ان ہیروں کو بیچ کر تم اپنا قرض اتار لو گے۔۔ چڑیل ملکہ نے عمرو عیار سے مخاطب ہو کر کہا۔

ہاں۔ ہاں۔ ان ہیروں کی بازار سے مجھے اچھی قیمت مل جائے گی۔ عمرو عیار نے کہا تو چڑیل ملکہ کے چہرے پر اطمینان آگیا۔

اور تب پھر تم فوراً جاؤ اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنا قرض اتار دو اور پھر اپنی مہم کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ شامر جادوگر جتنی جلدی ہلاک ہو جائے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

ضرور ضرور کیوں نہیں۔ اب میں فوراً جا کر شاعر جادوگر کی دم مروڑ دوں گا ۔ عمرو نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ اس نے ہمیرے زنبیل میں رکھے اور ایک بار پھر چڑیل ملکہ سے کابوس جن اور شام جادوگر کے بارے میں تفصیل پوچھنے لگا۔

تمہیں اس بات کا علم کیسے ہو گا کہ میں نے کابوس جن سے اس کا نیلا خنجر حاصل کر لیا ہے ۔ عمرو نے چڑیل ملکہ سے پوچھا۔

تم بے فکر رہو۔ میں سائے کی طرح ہر وقت تمہارے ساتھ رہوں گی۔ جیسے ہی تم کابوس جن سے اس کا خنجر حاصل کرو گے میں تمہارے سامنے آ جاؤں گی۔ چڑیل ملکہ نے کہا تو عمرو نے اثبات میں سر ہلا

دیا۔

ٹھیک ہے۔ اب تم جاؤ۔ میں شہر جا کر پہلے ان

رات گزرتی جا رہی تھی اور اب پو پھوٹنے والی تھی مگر گھوڑے کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ عمرو کا گھوڑا ایک سمندر سے گزر رہا تھا۔ عمرو عیار گھوڑے پر کسی جونک کی طرح چپکا ہوا تھا۔ مسلسل سفر کرتے ہوئے اس کا تھک کر برا حال ہو چکا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ گھوڑا کسی جزیرے پر اتار لے اور وہاں کچھ دیر آرام کر لے مگر سمندر میں اسے کوئی جزیرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا جہاں گھوڑا اتر سکتا ہو۔ چنانچہ مجبورا عمرو کو گھوڑے پر اسی طرح چپکا رہنا پڑا۔

آخر خدا خدا کر کے گھوڑے کی رفتار کم ہوئی تو عمرو نے چونک کر دیکھا تو سمندر گزر چکا تھا اور گھوڑا نعاصی نیچی پرواز کر رہا تھا اور ایک چٹیل میدان پر سے گزر رہا تھا جس کی دوسری طرف اونچی اور نوکیلی پہاڑیوں کا طویل سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ ان پہاڑیوں کا رنگ نیلا اور سبز تھا اور ان سے عجیب سی روشنی پھوٹتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی جیسے پہاڑیاں ہیرے جواہرات کی بنی ہوئی ہوں۔ ان پہاڑیوں کو دیکھتے ہی عمرو عیار سمجھے گیا کہ وہ جناتی دنیا میں پہنچ چکا ہے۔

گھوڑا کچھ آگے جا کر زمین پر آگیا۔ گھوڑے کے زمین پر اترتے ہی عمرو عیار اچھل کر نیچے اترا آیا۔ جیسے ہی عمرو گھوڑے سے نیچے اترا گھوڑا خود بخود سکڑ کر چھوٹا ہو گیا۔ عمرو نے اسے اٹھا کر زنبیل میں رکھا اور پھر اس نے فورا زنبیل سے سلیمانی چادر نکال کر اپنے کاندھوں پر ڈال لی۔ پھر عمرو عیار نے زنبیل سے ایک سفید رنگ کی چھوٹی سی گولی نکالی اور اسے منہ میں رکھ کر چوسنے لگا۔ یہ گولی اسے پرستان کے ایک حکیم دیو نے دی تھی۔

اس گولی کی خاصیت یہ تھی کہ جب بھی اس گولی کو منہ میں رکھ کر چوسا جاتا تو اس سے نہ صرف عمرو عیار کی ساری تھکان دور ہو جاتی بلکہ اس کی بھوک پیاس کی کمی بھی دور ہو جاتی تھی اور عمرو عیار پہلے جیسا چاک و چوبند ہو جاتا تھا۔

عمر و عیار جب بھی کسی مہم پر جاتا اور اسے طویل سفر کرنا پڑتا تھا اور جب وہ آرام نہ کر پاتا یا اسے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ملتی تو وہ اس گولی کو چوس کر اپنی ساری توانائی بحال کر لیتا تھا۔ اس وقت بھی چونکہ تھکاوٹ اور بھوک پیاس سے اس کا برا حال ہو

رہا تھا اس لئے اس نے یہ گولی منہ میں رکھ لی تھی۔

گولی چوستے ہوئے وہ ان چمکدار پہاڑیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ مسلسل ایک پہر چلتے رہنے کے بعد آخر کار وہ ان پہاڑیوں کے قریب پہنچ گیا۔ پہاڑیاں عام کی تھیں مگر ان میں قدرتی چمک موجود تھی جو دور سے دیکھنے پر ہیروں جیسی لگتی تھیں۔ عمرو ان پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ایک بڑی وادی میں آگیا۔

وادی میں ہر طرف بڑے بڑے اور گول مکان بنے ہوئے تھے اور وہاں ہر جگہ لمبے تڑنگے اور طاقتور جن گھومتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ ان جنوں کی تعداد بے حد زیادہ تھی۔

عمرو ان جنوں کے درمیان سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا اور پھر ایک بڑے اور عظیم الشان محل کے پاس پہنچ گیا۔ یہ محل انسانی ہاتھوں سے بنے ہوئے محلوں سے کئی گنا بڑا تھا۔ محل کے باہر گرز بردار جن پہرہ دے رہے تھے اور وہ دیکھنے میں بھی جلاد صفت نظر آ رہے تھے۔ اگر عمرو نے کاندھوں پر سلیمانی چادر نہ اوڑھ رکھی ہوتی اور جن اسے دیکھ لیتے تو وہ یقیناً وہیں

اس کی تکہ بوٹی کر دیتے ۔ عمرو عیار سلیمانی چادر کی وجہ سے نہیبی حالت میں خاموشی سے ان کے پاس سے گزر کر محل میں داخل ہو گیا۔

محل کی بڑی بڑی راہداریوں، دلانوں اور عجیب و غریب ٹیڑھے میڑھے راستوں سے گزرتا ہوا وہ ہر طرف گھوم پھر رہا تھا۔ مختلف کمروں میں جھانکتے ہوئے وہ کابوس جن کو تلاش کر رہا تھا۔ محل میں جنوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف خوبصورت اور رنگ برنگے پروں

اور لباسوں والی پریاں بھی ادھر ادھر آتی جاتی دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ سب شاید کابوس جن کے غلام اور کنیزیں تھیں۔ پریوں اور جنوں کے چہروں پر اداسی کے ساتھ ساتھ بے پناہ خوف کے تاثرات بھی موجود

تھے جیسے وہ سب وہاں خوشی سے نہ رہ رہے ہوں اور کابوس جن کے ڈر سے وہ وہاں رہنے پر مجبور ہوں۔ ان کے چہروں کا خوف دیکھ کر عمرو کو صاف اندازہ ہو گیا کہ واقعی کابوس جن ظالم اور بے رحم ہے۔

جب عمرو کو محل میں گھومتے ہوئے بہت دیر ہو گئی اور اسے کابوس جن کا کمرہ نہ ملا تو اس نے کچھ سوچ کر

زنبیل سے ایک سرخ رنگ کی چھوٹی سی گیند نکالی اور اسے زمین کے رکھ دیا۔

سرخ کیند۔ سب سے پہلے مجھے اس جگہ لے چلو جہاں کابوس جن کے خزانے موجود ہیں۔ اس کے بعد مجھے کابوس جن تک پہنچا دینا ۔ عمرو نے سرخ گیند سے مخاطب ہو کر کہا تو سرخ گیند اچھلی اور زمین پر ایک طرف لڑھکنے لگی۔ یہ دیکھ کر عمرو تیزی سے اس گیند کے پیچھے چلنے لگا۔ سرخ گیند عمرو عیار کو مختلف راہداریوں اور راستوں سے گزارتی ہوئی ایک بڑے سے کمرے میں لے گئی۔ اس کمرے کی ایک دیوار کے پاس سیڑھیاں تھیں۔ گیند سیڑھیاں اترنے لگی تو عمرو عیار بھی اس کے پیچھے سیڑھیاں اترتا چلا گیا۔

سیڑھیوں پر بھی جگہ جگہ طاقتور اور خوفناک جن موجود تھے جن کے رنگ سیاہ تھے اور ان کے ہاتھوں میں تلواریں اور کلہاڑے تھے مگر عمرو عیار کو ان کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جب تک سلیمانی چادر اس کے کاندھوں پر ہے کوئی جن اسے نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی اس چادر کی وجہ سے وہ وہاں کسی آدم

زاد کی بو محسوس کر سکتا تھا۔

گیند بھی چونکہ طلسماتی تھی اس لئے جن اسے بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ گیند سیڑھیاں اتر کر پختہ فرش پر آئی اور ایک بڑی راہداری میں بڑھتی چلی گئی اور پھر وہ ایک کمرے کے دروازے کے پاس جا کر رک گئی ۔ کمرے کا دروازہ بند تھا۔ عمرو عیار سمجھ گیا کہ اس کمرے

میں کابوس جن کا خزانہ موجود ہے۔ کمرے کا بند دروازہ دیکھ کر عمرو سوچنے لگا کہ اسے یہ دروازہ کھولنا چاہئے یا ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کابوس جن نے اس دروازے پر کوئی ظلم کر رکھا ہو۔ وہ جیسے ہی اس دروازے کو ہاتھ لگائے کسی ظلم کی زد میں آجائے۔

عمر و عیار چند لمحے سوچتا رہا پھر اس نے زنبیل سے ایک لمبے منہ والی بوتل نکالی۔ اس بوتل کے منہ پر کارک لگا ہوا تھا۔ عمرو نے بوتل کا کارک ہٹایا اور بوتل میں موجود مقدس پانی کے چند قطرے اس نے ہتھیلی پر ڈال کر دروازے پر چھڑک دیئے ۔ پانی کے قطرے جیسے ہی دروازے پر پڑے بھنک کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ غائب ہو گیا۔ یہ دیکھ کر عمروعیار یکبارگی کانپ کر رہ گیا اور سوچنے لگا اگر اس نے عقل مندی سے کام نہ لیا ہوتا اور دروازے کو یونہی چھو لیتا تو اس کا انجام بھی دروازے جیسا ہی ہونا تھا۔

کابوس جن نے خزانے کے کمرے کے دروازے پر جادو کر رکھا تھا جسے جو بھی ہاتھ لگاتا اس وقت جل کر بھسم ہو جاتا۔ عمرو نے جادوئی دروازے پر دم کیا ہوا پانی چھڑکا تھا جس کی وجہ سے کمرے کا جادوئی دروازہ غائب ہو گیا تھا اور عمرو عیار یقینی موت سے بچ گیا تھا۔ دروازہ غائب ہوتے ہی وہاں بڑا سا خلا بن گیا تھا۔ اچانک دروازہ غائب ہوتے دیکھ کر وہاں موجود محافظ جن بری طرح سے چونک اٹھے تھے۔

ارے۔ یہ خزانے کے کمرے کا دروازہ کہاں غائب ہو گیا ۔ ایک محافظ جن نے بری طرح سے چھٹتے ہوئے کہا۔ محافظ جن گھبرائے ہوئے انداز میں اس خلاء کی طرف آگئے مگر ان کے آنے سے پہلے ہی عمرو عیار خزانے کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ کمرہ بے حد بڑا اور خزانے سے بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف لوہے کے بڑے بڑے صندوق موجود تھے جن میں ہیرے جواہرات اور

سونے چاندی کے زیورات بھرے ہوئے تھے۔ عمرو اتنا بڑا خزانہ دیکھ کر جیسے دیوانہ سا ہو گیا تھا۔ محافظ جن خزانے کے دروازے کے باہر کھڑے آنکھیں پھاڑ کر اندر دیکھ رہے تھے مگر انہیں کمرے میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

ان جنوں میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کابوس جن کی اجازت کے بغیر کمرے میں داخل ہو سکیں۔ عمرو عیار کے لئے موقع نقیمت تھا۔ اس نے

زنبیل کا منہ خزانے کی طرف کیا اور پھر جب اس نے کہا کہ سارا خزانہ اس کی زنبیل میں چلا جائے تو اچانک وہاں موجود تمام صندوقوں میں سے خزانہ غائب

ہو گیا۔ عمرو عیار کی زنبیل ایک لمحے کے لئے بھاری ہوئی اور پھر ہلکی ہو گئی۔ خزانے کے صندوقوں کو اس طرح سے تعالی ہوتے دیکھ کر دروازے کے باہر کھڑے جن آنکھیں پھاڑ کر رہ گئے تھے۔

ادہ اور یہ کیا ہو گیا۔ یہ آقا کا خزانہ کہاں غائب ہو گیا۔ ایک محافظ جن نے حلق کے بل چیتے ہوئے کہا اور پھر وہاں موجود تمام جنوں نے بری طرح سے چیٹنا شروع کر دیا۔ عمرو عیار کو اب ان جنوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ ہاتھ جھاڑتا ہوا بڑے اطمینان سے ان جنوں کے درمیان سے نکلتا چلا گیا۔ جیسے ہی عمرو عیار خزانے کے کمرے سے باہر نکلا اس کے سامنے زمین پر سرخ گیند آگئی ۔

ہاں۔ شاباش۔ اب مجھے کابوس جن کے پاس لے چلو – عمرو نے گیند دیکھ کر کہا تو گیند حرکت میں آئی اور آگے بڑھنے لگی۔ عمرو عیار اس کے پیچھے پیچھے چل چڑا۔ سرخ گیند عمرو عیار کو مختلف راستوں سے لیتی ہوئی ایک اور کمرے کے دروازے پر رکی اور اچانک غائب ہو گئی۔ سرخ گیند کو اس طرح سے غائب ہوتے دیکھ کر عمرو سمجھ گیا کہ کابوس حین اس کمرے میں موجود ہے۔ چنانچہ اس نے فورا زنبیل سے خنجر ابراہیمی نکال لیا۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ البتہ اس پر بڑا سا سرخ پردہ پڑا ہوا تھا۔ راہداری میں جگہ جگہ جنات پہرہ دے رہے تھے لیکن عمرو عیار کو سلیمانی چادر کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ سکتے تھے۔

عمرو عیار نے آگے بڑھ کر ذرا سا پردہ ہٹایا تو اسے

سامنے ایک بڑا سا پلنگ دکھائی دیا جس پر ایک انتہائی لحیم شحیم اور خوفناک جن سو رہا تھا۔ اس جن کا رنگ سیاہ تھا۔ اس کا چہرہ اس کے جسم سے بہت بڑا تھا اور اس کی بڑی بڑی موچھیں تھیں جن سے اس کے ہونٹ چھپ گئے تھے۔ کمرے میں اس جن کے ہوا دوسرا کوئی جن نہیں تھا اور کمرے کی شمالی دیوار پر ایک بڑی سی مشعل جل رہی تھی۔ کمرے میں کسی دوسرے کو نہ پاکر عمرو عیار پردہ ہٹا کر اندر آگیا۔ کمرے میں جن کے فرائے گونج رہے تھے۔ اس کے

خراٹوں سے یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے زور زور سے بادل کڑک رہے ہوں۔

عمرو عیار کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو یقینا اس خوفناک جن کو دیکھ کر ڈر جاتا مگر عمرو عیار بڑے دل کا مالک تھا۔ وہ ایسے ہزاروں خوفناک جنوں کا سامنا کر چکا تھا جبکہ یہ جن سویا ہوا تھا۔ عمرو دبے پاؤں چلتا ہوا شمالی دیوار کی طرف بڑھنے لگا تاکہ اس کے قدموں کی آواز سن کر کابوس جن جاگ نہ جائے۔ پریل ملکہ نے عمرو عیار کو بتایا تھا کہ اگر کابوس جن

کی آنکھ کھل گئی تو وہ اسے غیبی حالت میں ہونے کے با وجود بھی دیکھ لے گا۔ عمرو عیار کو سلیمانی چادر کی وجہ سے خطرہ تو نہ تھا مگر اس کے باوجود وہ احتیاط کا دامن نہ چھوڑنا چاہتا تھا اس لئے قدموں کی آواز نکالے بغیر وہ شمالی دیوار کے پاس آگیا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر دیوار سے مشعل اتار لی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ کابوس جن کے پلنگ کی طرف بڑھ گیا۔ مسنجر ابراہیمی اس نے زنبیل میں رکھ لیا تھا۔

کابوس جن بے خبر سو رہا تھا۔ عمرو نے جھک کر کابوس جن کے پلنگ کے ایک حصے میں آگ لگا دی، پھر وہ دوسری طرف آیا۔ اس نے پلنگ کے دوسرے حصے میں آگ لگا دی اور اسی طرح اس نے باری باری پلنگ کے چاروں طرف آگ لگا دی۔ جیسے ہی پلنگ نے آگ پکڑی عمرو عیار تیزی سے پیچھے ہٹتا چلا گیا نگر پیچھے بہتے ہوئے وہ بے خیالی میں پیچھے موجود ایک شمع دان سے جا ٹکرایا۔ اس کے ٹکرانے کی وجہ سے شمع دان زور دار آواز کے ساتھ گرا اور عمرو عیار بوکھلا گیا۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ شمع دان کے زور سے

گرنے کی وجہ سے اچانک کابوس جن کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھیں کھلتے ہی کابوس جن کی نظریں اس جگہ جم گئیں جہاں عمرو عیار کھڑا تھا اور عمرو عیار نے صاف محسوس کر لیا جیسے کابوس جن نے سلیمانی چادر کے باوجود اسے دیکھ لیا ہو۔ وہ چند لمحے عمرو عیار کو خوفناک نظروں سے گھورتا رہا پھر اس کے منہ سے خوفناک غراہٹیں نکلنے لگیں۔ اس کی آنکھیں لیکنت سرخ ہو گئی تھیں جیسے اس کے جسم کا سارا خون اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا ہو۔ اس کا چہرہ بھی پہلے سے کئی گنا خوفناک اور بھیانک ہو گیا تھا۔ پھر کابوس جن کے حلق سے ایک خوفناک غراہٹ نکلی اور وہ ایک جھٹکے سے انھ گیا اور اچھل کر پلنگ سے نیچے آگیا۔

کابوس جن کو اس طرح اٹھتے اور پلنگ سے نیچے آتے دیکھ کر عمرو عیار بری طرح سے بوکھلا گیا تھا۔

  • آدم زاد – کابوس جن نے عمرو عیار کو گھورتے ہوئے خوفناک انداز میں کہا تو عمرو عیار کے جسم سے واقعی خوف سے ٹھنڈا پسینہ بہہ نکالا۔

مم میں۔ وہ وہ۔ وہ عمرو عیار کے حلق سے ڈری ڈری آواز نکلی۔ اس نے بوکھلاہٹ میں ہاتھ میں پکڑی ہوئی مشعل ایک طرف پھینک دی تھی۔

کون ہو تم اور میری اجازت کے بغیر تم میری آرام گاہ میں کیسے آگئے۔ کابوس جس نے گرجدار لیجے میں کہا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر عمرو عیار کو پکڑنا چاہا مگر عمرو عیار بجلی کی سی تیزی سے ایک طرف ہو گیا۔

کابوس جن کا ہاتھ ہوا میں لہرا کر رہ گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ کابوس جن دوبارہ عمرو عیار پر چھپتا عمرو نے فورا زنبیل کا منہ کھول دیا۔

چل زنبیل میں عمرو نے کہا۔ جیسے ہی اس نے یہ جملہ کہا اچانک کابوس جن کو ایک زور دار جھٹکا لگا اور وہ اچھل کر عمرو عیار کی زنبیل میں آ گرا۔ عمرو عیار کی زنبیل ایک لمحے کے لئے وزنی ہوئی اور پھر ہلکی ہو گئی۔ اچانک عمرو کے سامنے چڑیل ملکہ کا سایہ مودار ہو گیا۔

عمرو عیار میں نے تم سے کہا تھا کہ احتیاط سے کام لینا ۔ چریل ملکہ کے سائے کی عراقی ہوئی آواز سنائی دی۔

ہم میں نے احتیاط سے کام لیا تھا مگر وہ شمع دان۔ وہ وہ عمرو نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

جلدی کرو۔ کابوس جن کا پلنگ ہر طرف سے آگ پکڑ چکا ہے۔ اسے اپنے تھیلے سے نکال کر اس آگ میں پھینک دو۔ یہ اس آگ میں جل کر ہلاک ہو جائے گا۔ چریل ملکہ کے سائے کے ہونٹ ہلے تو

عمرو عیار نے زنبیل کا منہ کھول دیا۔

کابوس جن زنبیل سے نکل کر جلتے ہوئے پلنگ پر گرے۔ عمرو نے کہا۔ زنبیل کا منہ چوڑا ہوا اور اس میں سے اچانک کابوس جن نکل کر اڑتا ہوا جلتے ہوئے پلنگ پر جا گرا۔ کمرہ اچانک کابوس جن کی خوفناک چیٹوں سے گونج اٹھا کیونکہ وہ جیسے ہی پلنگ پر گرا آگ نے فورا اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

اب آنکھیں بند کرو۔ میں تمہیں یہاں سے لے کر نکل چلتی ہوں۔ کابوس جن کی چیخیں سن کر اس کے محافظ یہاں آگئے تو تم ان کی نظروں میں آ جاؤ گے کیونکہ یہ کمرہ طلسم شکن ہے۔ یہاں کسی کی نظروں سے کچھ نہیں چھپ سکتا ۔ چڑیل ملکہ نے چیتے ہوئے کہا تو عمرو نے سر ہلا کر فورا آنکھیں بند کر لیں۔ دوسرے لمحے عمرو کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے زور دار دھکا دیا ہو۔ وہ لڑکھڑایا اور بمشکل کرتے کرتے بچا۔ اس نے بوکھلا کر آنکھیں کھولیں اور پھر بری طرح سے

چونک پڑا۔

آنکھیں بند کرنے سے پہلے وہ کابوس جن کے

کمرے میں تھا مگر اب جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ اسی جنگل میں موجود تھا جہاں اس کی ملاقات چریل ملکہ سے ہوئی تھی۔

یہ۔ یہ کیا۔ میں اتنی جلدی یہاں کیسے آگیا ۔ مرد کے منہ سے حیرت بھری آواز نکلی ۔ اسی لمحے جھماکا سا ہوا اور اس کے سامنے چڑیل ملکہ نمودار ہو گئی۔

میں تمہیں یہاں لائی ہوں عمرو عیار – چڑیل ملکہ نے کہا۔

اوہ تم تو واقعی بہت بڑی جادو گرنی ہو ۔ جنات کی دنیا میں جانے کے لئے میں نے اتنا طویل سفر کیا تھا اور تم مجھے وہاں سے پلک جھپکنے سے پہلے ہی نکال لائی ہو۔ حیرت ہے ۔ عمرو نے کہا۔

کابویس جن آگ میں جل رہا تھا اس لئے اس کی جادوئی طاقتیں ختم ہو گئی تھیں اور میرا جادو چل گیا اور میں تمہیں وہاں سے نکال لائی۔ اگر کابوس جن ہلاک نہ ہوتا تو میں وہاں کوئی جادو نہیں چلا سکتی تھی ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اوہ۔ مگر تم نے تو کہا تھا کہ کابوس جن کو ہلاک کر

کے میں نے وہاں سے اس کا نیلا خنجر حاصل کرنا ہے۔ میں نے تو اس کا نیلا خنجر دیکھا تک نہیں اور تم مجھے

نکال کر یہاں لے آئی ہو ۔ عمرو عیار نے کہا۔

نیلے خنجر کی فکر نہ کرو۔ چڑدیل ملکہ نے کہا۔

کیوں۔ فکر کیوں نہ کروں۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ جب تک میرے پاس نیلا تسخر نہیں ہو گا شام جادوگر ہلاک نہیں ہو گا۔ عمرو نے حیرت سے چڑیل ملکہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ہاں۔ شاعر جادوگر کی موت نیلے خنجر سے ہی ہو سکتی ہے ۔ چڑیل ملکہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

تو پھر اب میں وہ خنجر کہاں سے لاؤں گا۔ عمرو نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

کہا نا فکر نہ کرو۔ میں نیلا خنجر لے آئی ہوں۔ یہ لو چریل ملکہ نے کہا۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ عمرو عیار کی طرف بڑھایا جس میں ایک لمبا نوکدار مسنجر تھا۔ خنجر کے پھل پر جیسے نیلا رنگ سا پھیلا ہوا تھا۔ اوہ تو یوں کہو کہ خنجر تم لے آئی ہو ۔ نیلا خنجر

دیکھ کر عمرو نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو چڑیل مکہ بھیانک انداز میں مسکرا دی۔ عمرو نے اس سے خنجر لیا اور زنبیل میں ڈال لیا۔

پہلا مرحلہ تو طے ہو گیا۔ اب بتاؤ شام جادوگر کے پاس کیسے جانا ہے ۔ عمرو نے چڑیل ملکہ سے مخاطب ہو کر کہا۔

شامر جادوگر کے پاس میں تمہیں لے جاؤں گی ۔

چربیل ملکہ نے کہا۔

بہت خوب۔ تو کیا میں آنکھیں بند کر لوں ۔ عمرو نے خوش ہو کر کہا۔

  • نہیں۔ ابھی رکو۔ پہلے مجھے دیکھ لینے دو شام جادو گر اپنے محل میں کیا کر رہا ہے ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اچھا ٹھیک ہے ۔ عمرو نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ چڑیل ملکہ نے آنکھیں بند کیں اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگی۔ عمرو عیار غور سے چڑیل ملکہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ چڑیل ملکہ کافی دیر تک اسی طرح آنکھیں بند کئے کچھ پڑھتی رہی پھر اس نے یکدم آنکھیں کھول

دیں۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جیسے اس کے جسم کا سارا خون سمٹ کر اس کی آنکھوں میں آگیا

ارے باپ رے۔ اس قدر سرخ آنکھیں ۔ عمرو عیار نے بوکھلا کر کہا۔ سرخ سرخ آنکھوں کی وجہ سے چڑیل ملکہ اور زیادہ بھیانک ہو گئی تھی۔

وہ اپنے محل میں گھوم پھر رہا ہے۔ آؤ۔ میں تمہیں اس کے محل میں لے چلتی ہوں ۔ چرویل ملکہ

نے کہا۔

پیدل چلنا ہے یا میں کہیں سے اپنے لئے گھوڑے کا بندو بست کروں ۔ عمرو عیار نے کہا۔

نہیں۔ تم اپنی آنکھیں بند کرو۔ میں تمہیں وہاں پہنچا دوں گی ۔ چڑدیل ملکہ نے کہا۔

اچھا۔ ایک بار پھر مجھے دھکا دینا چاہتی ہو ۔ عمرو نے کہا۔

ہاں ۔ یہ بہت ضروری ہے ورنہ تم ساری زندگی اس محل میں داخل نہیں ہو سکو گے ۔ چڑیل ملکہ نے

بہت بہتر بدصورت ملکہ – عمرو نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

کیا۔ کیا کہا تم نے۔ چڑیل ملکہ نے چونک کر کہا۔

لک کچھ نہیں۔ میں تو تمہاری بدصورتی کی تعریف کر رہا تھا ۔ عمرو نے بوکھلا کر کہا۔

اں چڑیل ملکہ میں تمہیں بدصورت نظر آتی ہوں۔ نے اسے بری طرح سے گھورتے ہوئے کہا۔

ہاں۔ نہیں۔ ہاں ۔ اب کیا کہوں ۔ تم ہی بتا دو۔ عمرو نے مسکین کی صورت بناتے ہوئے کہا۔

میں بدصورت ہوں اور مجھے اپنی بدصورتی پسند

ہے۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

حیرت ہے۔ میں تو واقعی تمہیں خوبصورت چڑیل سمجھ رہا ہوں اور تم کہہ رہی ہو کہ تمہیں بدصورتی پسند ہے۔ عمرو نے کہا۔

چریلیں بدصورت ہوتی ہیں ۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔ مگر پتہ نہیں کیوں تم مجھے بے حد خوبصورت دکھائی دے رہی ہو۔ شاید میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں۔ عمرو نے کہا۔

فضول باتیں مت کرو ۔ چڑیل ملکہ نے منہ بنا کر کہا ۔

بہت اچھا۔ خوبصورت محمد میرا مطلب ہے بدصورت ملکہ – عمرو نے جان بوجھ کر ہم جانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔

اپنا منہ بند رکھو اور آنکھیں موند لو ۔ چڑیل ملکہ نے منہ بنا کر کہا تو عمرو نے بیچ بیچ منہ اور آنکھیں بند لیں۔ عمرو عیار کو پھر ایک زور دار دھکا لگا اور وہ اچھل کر دور جا گرا۔ اس طرح اچانک گرنے کی وجہ سے اس کے کاندھوں سے سلیمانی چادر اتر کر وہیں گر گئی اور غائب ہو کر فورا اس کی زنبیل میں چلی گئی۔ اب عمرو عیار چریل ملکہ کے ساتھ جیسے ہی شام جادوگر کے سامنے نمودار ہوتا ظاہری حالت میں ہوتا اور شام جادوگر اسے اگر دیکھ لیتا تو وہ اسے بلاک کرنے میں واقعی ایک لمحے کی بھی دیر نہ لگاتا۔

شاعر جادوگر ظالم ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد خوفناک اور بد شکل تھا۔ اس کا رنگ سیاہ اور سر گنجا تھا۔ البتہ اس کی پیشانی پر سینگ جیسی بالوں کی لمبی لٹ تھی جو بیچھے کی طرف ہراتی تھی۔ شامر جادوگر کے کان خرگوشوں جیسے تھے۔ اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی اور بے حد ڈراؤنی تھیں۔ وہ کھلی گردن والے سبز رنگ کے لبادے نما لباس میں تھا۔ شامر جادوگر کے پاس نیلے رنگ کی ایک بڑی تھی جس میں اس کی جادوئی طاقتیں پوشیدہ تھیں۔ وہ اس جادوئی ہڈی سے طاقتور سے طاقتور جن کو بھی ایک لمحے میں جلا کر راکھ بنا سکتا تھا۔

شاہر جادو گر اپنے جادوئی محل میں چہل قدمی کر رہا

کرنے آگیا۔ ڈھانچے نے کہا۔

اوہ اوہ تمہارا مطلب ہے کہ ملکہ کا شیلا اور آدم زاد عمرو عیار یہاں میرے لئے خطرہ بن کر آ رہے ہیں۔۔ شاعر جادو گر نے اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا۔

ٹھیک سمجھا ہے آقا آپ نے۔ ڈھانچے نے اسی طرح مؤدبانہ لہجے میں کہا۔

اوہ۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ مجھے کیوں ہلاک کریں گے اور وہ میرے محل میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔ میں نے تو محل کو ہر طرف سے بند کر رکھا ہے۔ محل کا کوئی دروازہ بھی نہیں ہے۔ شامر جادوگر نے اور زیادہ حیران ہوتے ہوئے کہا۔

چریلوں کی ملکہ طاقتور ہے آقا۔ وہ محل کی دیواروں سے گزر کر اندر آنے کی طاقت رکھتی ہے اور اپنے ساتھ عمرو عیار کو لانا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے ۔ ڈھانچے نے اسی انداز میں کہا۔

ہونہہ ۔ شامر جادوگر سے طاقتور کوئی نہیں ہے۔ جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ چڑیل ملکہ اور آدم زاد عمرو

عیار اگر یہاں آ رہے ہیں تو انہیں یہاں ان کی موت یچ کر لا رہی ہے۔ میں انہیں ایک لمحے میں جلا کر بھسم کر دوں گا ۔ شامر جادوگر نے غصیلے لہجے میں کہا۔ جو آقا کا حکم ۔ ڈھانچے نے مؤدبانہ لہجے میں کہا۔ دوسرے لمحے وہ دھماکے سے دھواں بنا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔

آدم زاد عمرو عیار۔ یہ کون ہے اور چر دیلوں کی ملکہ اسے اپنے ساتھ کیوں لا رہی ہے۔ اگر چڑیلوں کی ملکہ کا مقصد مجھے ہلاک کرنے کا ہے تو وہ اکیلی آجاتی اور میرا مقابلہ کرتی۔ اسے اپنے ساتھ کسی آدم زاد کو لانے کی

کیا ضرورت تھی ۔ ڈھانچے کے غائب ہونے کے بعد شاعر جادوگر نے حیرت اور غصے سے بڑبڑاتے ہوئے

کہا۔ چند لمحے وہ اسی جگہ کھڑا سوچتا رہا پھر مڑا اور ایک کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ کمرے کا دروازہ کھلا

ہوا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔ کمرے میں ایک بڑا سا ستون تھا۔ اس کمرے کی دیواریں زرد اور سبز رنگ کی تھیں اور فرش پر نیلے اور زرد رنگ کی لکیریں

بنی ہوئی تھیں۔ یہ وہ کمرہ تھا جہاں شامر جادوگر اپنے کسی جادوگر دیوتا کی پوجا اور جادوئی عمل کرتا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے سامنے زور دار دو کڑاکے ہوئے اور اچانک اس کے سامنے ایک سیاہ لباس والی خوفناک بڑھیا اور ایک انسان نمودار ہوئے۔ انہیں اس طرح اپنے سامنے نمودار ہوتے دیکھ کر شاعر جادوگر بری طرح سے اچھل پڑا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر باری باری ان دونوں کو دیکھنے لگا۔ آدم زاد جس نے سرخ لباس اور سر پر زرد پکڑی پہن رکھی تھی ستون کے پاس گرا تھا جبکہ بڑھیا شام جادوگر کے عین سامنے تھی۔

جیسے ہی عمرو عیار گرا اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے فورا آنکھیں کھول دیں مگر آنکھیں کھولتے ہی اس کی چیخ جیسے اس کے حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی تھی۔ عمرو نے دیکھا وہ زرد اور سبز رنگ کے ایک بڑے سے کمرے میں موجود تھا۔ فرش پر زرد اور نیلی لکیریں بنی ہوئی تھیں اور اس کے سامنے سبز لبادے میں ایک بھیانک شکل والا جادوگر کھڑا تھا جبکہ چڑیل ملکہ اس کے بائیں طرف موجود تھی۔ اس خوفناک شکل والے جادوگر کو دیکھ کر عمرو عیار بوکھلا کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے جھٹ سے زنبیل سے نیلا خنجر

نکال لیا۔

یہ شاعر جادوگر ہے عمرو عیار – چربیل ملکہ نے عمرو عیار سے چیخ کر کہا۔ وہ تیزی سے خامر جادوگر کی طرف جھپٹی۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اپنی لمبی انگلیوں اور ناخنوں سے شامر جادوگر پر حملہ کرنا چاہتی ہو۔ یہ دیکھ کر شاعر جادوگر کو جیسے ہوش آگیا۔ اس نے فورا نیلی ہڈی کا رخ چڑیل ملکہ کی طرف کر دیا۔

وہیں رک جاؤ چڑیل ملکہ ورنہ جلا کر بھسم کر دوں گا۔ شاعر جادوگر نے حلق کے بل چھینتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ میں نیلی ہڈی دیکھ کر چڑیل ملکہ وہیں ٹھٹک گئی۔ عمرو عیار پہلے ہی ستون کے پاس کھڑا آنکھیں پھاڑے شامر جادوگر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے واقعی اس قدر بدصورت اور خوفناک شکل والا جادوگر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

آگے بڑھو عمرو عیار اور اس جادوگر پر حملہ کر دو چردیل ملکہ نے عمرو عیار کی طرف دیکھ کر جبڑے بھیجتے ہوئے کہا جو بت بنا کھڑا تھا۔

خبردار جو جہاں ہے وہیں رکا رہے ورنہ ۔ شام جادوگر نے ایک بار پھر چیخ کر کہا۔

عمرو عیار – چریل ملکہ پھر غزائی مگر عمرو عیار اپنی

جگہ اسی طرح بت بنا کھرا رہا جیسے اس نے اپنی جگہ سے نہ ہلنے کی قسم کھا لی ہو۔

تم دونوں یہاں آتو گئے ہو مگر یہاں سے زندہ واپس نہیں جا سکو گے۔ شاعر جادوگر نے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔

  • تم اپنی خیر مناڈ شامر جادوگر – – چریل ملکہ غرائی۔ کیا بکواس ہے۔ کیوں آئی ہو یہاں ۔ شامر جادوگر نے اس کی طرف خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

تمہیں گدگدیاں کرنے کے لئے ۔۔ اس بار چردیل ملکہ کی بجائے عمرو عیار نے کہا تو شامر جادوگر چونک کر اس کی شکل دیکھنے لگا۔ لگا۔ عمرو کے چہرے پر لیکنت پر اسرار کی مسکراہٹ آگئی تھی۔ اس نے نیلے محنجر والا ہاتھ اپنی کمر کی طرف کر دیا تھا۔

گدگدیاں کرنے ۔ کیا مطلب – شاعر جادو گر نے

حیرت سے عمرو عیار کو دیکھتے ہوئے کہا۔

ارے۔ تمہیں لوگریوں کا مطلب نہیں معلوم۔ حیرت ہے۔ انسانوں کی پہیلیوں کے پاس اگر انگلیوں

سے گر گریاں کی جائیں تو وہ ہنس ہنس کر بے حال ہو جاتا ہے۔ چڑیل ملکہ کا کہنا ہے کہ شامر جادوگر بے حد بدصورت بدشکل، بھیانک اور کرخت چہرے والا ایسا انسان ہے جس کے چہرے پر پھٹکار برستی رہتی ہے اس لئے وہ مسکرانا جانتا ہی نہیں۔ میری چڑیل ملکہ سے شرط لگی ہے کہ اگر میں شامر جادوگر کو گدگدیاں کروں گا تو شاعر جادوگر کے چہرے پر سے نحوست اور پھٹکار غائب ہو جائے گی اور وہ ہنس ہنس کر بے حال ہو جائے گا۔ چردیل ملکہ نے کہا تھا کہ اگر میں شامر جادوگر کو ہنسا دوں تو یہ مجھ سے شادی کر لے گی اور اگر میں شامر جادوگر کو نہ ہنسا سکا تو یہ میرے ٹکڑے کر کے کھا جائے گی۔۔ عمرو نے معصوم سی صورت بناتے ہوئے کہا۔

کیا تم اس بد شکل پریل سے شادی کرو گے۔۔ شاعر جادو کرنے اور زیادہ حیران ہوتے ہوئے کہا۔

خبردار بدشکل ہو گے تم خود، تمہارا خاندان تمہارے ہے۔ یہ تو شہزادیوں سے زیادہ خوبصورت ہے۔ تم کیا جانو کسی چڑیل کے حسن کا راز – عمرو نے غصیلے

لہجے میں کہا تو شاعر جادوگر نہ چاہتے ہوئے بھی نہیں پڑا۔ عمرو عیار غیر محسوس انداز میں آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔

۔ یا تو تم پاگل ہو یا پھر ۔ شامر جادوگر نے ہنستے ہوئے کہا۔

یا پھر کیا ۔ عمرو نے آنکھیں نکال کر کہا۔

یا پھر تم اندھے ہو جو ایک بدصورت اور سینکڑوں سال پرانی چڑیل کو خوبصورت کہہ رہے ہو۔ اپنے دماغ اور اپنی آنکھوں کا علاج کراؤ آدم زاد عمرو عیار – شاعر جادوگر نے کہا۔

عمر و عیار یہ تم کیا فضول بکواس کر رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ چریل ملکہ نے عمرو کو گھورتے ہوئے کہا۔

ارے نہیں۔ مجھے یاد ہے خوبصورت چڑیل ملکہ ۔ تم بس دیکھتی جاؤ میں نے شاعر جادوگر کو ہنسا ہنسا کر اس کے پیٹ میں بل نہ ڈال دیئے تو پھر کہنا۔ عمرو نے بدستور حماقت بھرے لہجے میں کہا تو چریل ملکہ اسے غضبناک نظروں سے گھورنے لگی۔

چڑیل ملکہ تم نے اس آدم زاد کو یہاں لاکر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ مجھے میری جادوئی طاقت بتا چکی ہے کہ تم دونوں یہاں کس لئے آئے ہو۔۔ شاعر جادوگر نے چڑیل ملکہ کو گھورتے ہوئے کہا۔

ارے یہ کیا ۔ اچانک عمرو عیار نے چونک کر کہا تو شامر جادوگر کے ساتھ ساتھ چڑیل ملکہ بھی چونک پڑی۔ N

کیا ہوا۔ شامر جادوگر نے کہا۔

ارے تمہاری نانی تو اس چڑدیل ملکہ سے بھی زیادہ حسین ہے۔ بہت خوب۔ اب میں چڑیل ملکہ سے نہیں تمہاری نانی سے شادی کروں گا۔ عمرو عیار نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

میری نانی کہاں ہے میری نانی ۔ شامر جادوگر نے حیرانی سے کہا۔

تمہارے پیچھے کھڑی ہے۔ پلٹ کر خود ہی دیکھ لو عمرو عیار نے کہا وہ شاعر جادوگر کے عقب میں ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی بات سن کر شامر جادوگر پلٹا۔

عمرو عیار جیسے اس لمحے کے انتظار میں تھا۔ جیسے ہی

شاعر جادوگر کا منہ دوسری طرف ہوا عمرو اس پر کسی بھو کے عقاب کی طرح جھپٹ پڑا۔ اس سے پہلے کہ شاعر جادوگر اس کی طرف مڑتا عمرو نے اچانک نیلا مسنجر اس کے پہلو میں مار دیا۔ شامر جادوگر کے حلق

سے ایک دردناک چیخ نکلی اور وہ اچھل کر نیچے گر گیا۔ اس کے ہاتھ سے نیلی ہڈی چھوٹ کر دور جا گری اور نہ وہ زمین پر گرا پچھلی کی طرح اپنے لگا پھر لیکنت وہ ساکت ہو گیا۔

  • ہا۔ ہا۔ ہا۔ تم نے شامر جادوگر کو ہلاک کر دیا۔

ہا۔ ہا۔ ہا۔ بہت خوب عمرو عیار بہت خوب عمرو عیار کو اس طرح شامر جادوگر کو ہلاک کرتے دیکھ کر چر دیل ملکہ نے خوش ہو کر قہقہے لگاتے ہوئے کہا۔

اس کے ہاتھ میں جادوئی ہڈی تھی۔ میں جان بوجھ کر اسے احمق بنا رہا تھا تاکہ اس کا دھیان ہے اور مجھے اس پر حملے کرنے کا موقع مل سکے۔ اگر میں ایسا نہ کرتا تو یہ جادوئی ہڈی سے ہم دونوں پر حملہ کر دیتا اور ہم میں سے ایک ضرور ہلاک ہو جاتا۔ عمرو عیار نے

کہا۔

اوہ تو تم عیاری سے کام لے رہے تھے۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اور نہیں تو کیا۔ میرا نام عمرو عیار ہے۔ میں عیاری سے کام نہیں لوں گا تو کون لے گا۔ عمرو نے مسکرا کر کہا۔

تم واقعی عیار ہو عمرو عیار – بہت بڑے عیار میں تو سمجھ رہی تھی کہ تم اس خوفناک جادوگر کو دیکھ کر ڈر گئے ہو اور ڈرنے کی وجہ سے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ چڑیل ملکہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

  • عمرو عیار ڈرنے والا نہیں بلکہ ڈرانے والا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ میں تم جیسی بد شکل چڑیل کو دیکھ کر واقعی ڈر رہا ہوں۔ عمرو عیار نے کہا تو اس کی بات سن کر چڑیل ملکہ غصہ کرنے کی بجائے ہنس پڑی ۔ شامر جادوگر کا جسم نیلا پڑتا جا رہا تھا اور زہریلے خنجر کے زہر نے اپنا اثر دکھاتے ہوئے اس واقعی موم کی طرح پگھلانا شروع کر دیا تھا۔

اب جلدی کرو۔ مجھے شامر جادوگر کے خزانے تک پہنچا دو۔ اگر شامر جادو گر پکھل گیا تو اس کے

ساتھ ساتھ اس کا محل بھی غائب ہو جائے گا اور اس کا خزانہ بھی۔ تم نے مجھے جو ہمیرے دیئے تھے اس سے ادا ہوا ہے۔ باقی قرض میں اس جادوگر میرا آدھا قرض ادا : کے خزانے سے اتار دوں گا۔ عمرو نے کہا تو چڑیل ملکہ نہیں پڑی۔ وہ عمر و عیار کو غائب کر کے ایک دوسرے کمرے میں لے گئی جہاں شامر جادوگر کا خزانہ موجود تھا۔ یہ خزانہ کا بوس جن کے خزانے سے بڑا تو نہیں تھا مگر بہر حال اتنا ضرور تھا کہ عمرو عیار کی باچھیں پھیل گئی تھیں۔ وہ ندیدوں کی طرح اس خزانے پر ٹوٹ پڑا اور اس نے سارا خزانہ اپنی زنبیل میں ڈال لیا۔

پڑھیں عمرو عیار کا اگلا سفر

شاعر جادوگر کا سارا جسم پگھل گیا ہے اور دھواں بن کر غائب ہو گیا ہے۔ ہمیں یہاں سے فورا نکل جانا چاہئے ورنہ ہم بھی اس محل کے ساتھ ہمیشہ کے لئے غائب ہو جائیں گے۔ چڑیل ملکہ نے کہا۔

اور ہاں ۔ ضرور چلو۔ عمرو نے کہا۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو اسے زور دار دھکا لگا۔ اس نے خود کو گرنے سے سنبھال لیا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو

خود کو اسی جنگل میں موجود پایا جہاں حمزہ سے لی ہوئی سرخ مہر والی اشرفیاں گننے کے لئے آیا تھا۔ دو بڑے خزانے اور چردیل ملکہ سے آٹھ ہیرے حاصل کر کے عمرو عیار بے حد خوش تھا۔ اس بار چریل ملکہ وہاں اس کے ساتھ نمودار نہیں ہوئی تھی اس لئے عمرو عیار جھیل کے کنارے رک گیا۔ اس نے سب سے پہلے سردار امیر حمزہ کی دی ہوئی اشرفیوں کی تھیلیاں نکالیں اور انہیں گنے لگا۔ اشرفیاں گن کر وه کابوس جن اور شامر جادوگر کی دولت نکال کر دیکھنے لگا۔ اس بار اس کے ہاتھ اچھی خاصی دولت آئی تھی جسے دیکھ دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ وہیں رقص کرنا شروع کر دے اور پھر یہی ہوا۔ اس نے خوشی کے مارے وہاں بے ہنگم انداز میں اچھل اچھل کر پاگلوں کی طرح سے ناچنا شروع کر دیا۔ ہوا جا رہا تھا۔

ختم شد

عمرو کا اگلا جادوئی سفر عمرو عیار اور دیونگر

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *