رائٹر: فریاد فاروق
ہاں میں ایک ڈائن ہوں اس دنیا کی سب سے طاقتور ڈائن
سائرہ کی آواز گونجی
کیوں آئی ہو ہماری زندگی میں کیوں تباہ کرنا چاہتی ہو ہماری زندگی
اب کی بار رفعت بولی تھی
نہیں میں کسی کی زندگی برباد نہیں کرنے آئی میں ڈائن ضرور ہوں مگر بری نہیں
سائرہ پھر سے چلائی
ہماری ماں کو کھاگئی اور کہتی ہے میں بری نہیں ہوں
عروسہ کی آنکھوں میں آنسوں نکلے
عروسہ تم اچھی طرح جانتی ہو امی کو کس نے ختم کیا ہے
سائرہ نے غصے سے عروسہ کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا
بہت سن لی ہم نے اس ڈائن کی بکواس زنوبہ جی اب اس کو ختم کردیں
انور نے زنوبہ کو کہا
نہیں چھوڑو مجھے جانے دو مجھے
برگد کے پیڑ کے ساتھ رسیوں سے بندھی سائرہ چلانے لگی
آج تو تمھارا مرنا طے ہے
ثاقب جو کافی دیر چپ تھا بول ہی اٹھا
زنوبہ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی زم کی بوتل سے ڈھکن کھولا اور سارا پانی سائرہ پر پھینکا سارے کے جسم سے دھوئیں اٹھنے لگی سائرہ درد سے چلانے لگی اس کی چیخوں سے پورا گاؤں گونج اٹھا
مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو میں اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے بہت دور چلی جاؤں گیں مجھے میرے بچوں کے پاس جانے دو وہ ماں کے بنا کیسے رہیں گیں
سائرہ التجا کرنے لگی
تم ماں نہیں ڈائن ہو ڈائن
رفعت نے کہا
میں ڈائن ضرور ہوں پر خدا نے مجھے ایک ماں بنایا ہے
سائرہ کے گال آنسؤں سے بھر گئے
بس اب بہت ہوچکا بہت بول لیا اب مرنے کےلیے تیار ہوجاؤ
زنوبہ نے کہتے ہوۓ ایک طرف رکھی ہوئے مٹی تیل کے تیل کا کین اٹھایا اور سائرہ کے پاس جا کر سارہ تیل اس پر چھڑک کر اس سے دور ہوگئی
اب سائرہ کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا سائرہ کی آنکھوں کا رنگ بدل کر سفید گیا پاؤں پیچھے کی طرف مڑ گئے ناخن بہت لمبے اور نیلے ہوگئے
بس بہت گڑگڑا لیا میں نے اگر آج میری زندگی ختم ہونی ہے تو ہوگی پر یاد رکھنا تم سب میں ایک ڈائن ہوں اس دنیا کی سب سے خطرناک ڈائن اور ایک ڈائن اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی لوٹ کر آؤں گی میں آج سے پورے پچیس سال بعد میں پھر سے واپس آؤں گیں تم سب کو تمھارے کیے کی سزا دینے کبھی نہیں بھولوں گیں میں تم سب کو مجھ کو میرے بچوں سے الگ کیا ہے نا تم لوگوں نے میں تمھیں اس دنیا سے الگ کردوگی
واپس آؤں گی میں ایک ڈائن ہوں یاد رکھنا میں ڈائن ہو ڈائن
سائرہ کی آواز پورے گاؤں میں گونج رہی تھی
ڈائن کا انتقام کی شروعات
زنوبہ نے ماچس اٹھائی اور جلا کر سائرہ کی طرف پھینکی سائرہ کے پورے بدن میں أگ لگ گئی اور وہ چلانے لگی
یاد رکھنا میں ایک ڈائن ہوں ڈائن ہوں میں لوٹ کر آوگی میں اور ڈائن کا انتقام پورا ہوگا
کیا لوٹ کر آۓ گی سائرہ مگر کیسے؟
کیوں بیگ خاندان نے ختم کیا سائرہ کو؟۔۔۔
اس کی آنکھوں کا رنگ بدل کر سفید ہوچکا تھا اس کے کھلے ہو بال خود بخود ایک بہت بڑی دس فٹ کی چوٹی میں تبدیل ہوگئے چوٹی کم اور ایک سانپ زیادہ لگ رہا تھا چوٹی ہوا میں لہرا رہی تھی اس کے چھوٹے سے سفید ناخن لمبے نیلے ہوگئے تھے وہ ایسے
گنگنا رہی تھی کہ کوئی بھی مدہوش ہوسکتا تھا
علیان کا پورا جسم پسینے سے تر ہوچکا تھا اسے اپنی موت سامنے دیکھائی دے رہی تھی
ڈائن نے پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی اور دیوار پے چڑھ گئی اس نے اپنا سر ہلایا اور اس کی چوٹی ہوا میں لہراتی ہوئی علیان کی طرف آئی
نہیں نہیں علیان بیگ نہیں نہیں کرتے ہوۓ اٹھ کے بیٹھ گیا او گاڈ یہ سپنا دس سال سے آرہا ہے کیا مطلب ہے اس سپنے کا اور وہ خوبصورت سی عوت کون ہے جس کے بال ناخن آنکھیں سب کچھ عجیب ہے
علیان کے دماغ میں سوالوں کا طوفان امڈ رہا تھا
گڈمارننگ بھائی
علیان نے دیکھا آواز اس کی چھوٹی بہن سارہ بیگ کی تھی
کیا ہوا بھائی پھر سے وہی سپنا آیا کیا سارہ چلتے ہوۓ اندر آگئی اور علیان کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی
کیا کروں سارہ آج کل نا یہ سپنا بہت زیادہ آتا ہے
کنفیوژن سی ہورہی ہے دماغ میں
علیان نے مایوس سا ہوتے ہوۓ کہا
آپ فکر نہ کریں بھائی نیچے جائیں ناشتہ کرلیں اور آج آفس سے بھی چھٹی ہی کرلیں
سارہ کہتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئی
نہیں سارہ آفس تو جانا ہے اور آج شاید کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں city سے باہر جانا پڑے
علیان بھی اٹھ کھڑا ہوا
امی امی آپ کو پتا ہے آج مجھے پروجیکٹ کے سلسلے میں کہاں جانا ہے
علیان گھر میں داخل ہوتے ہی خوشی خوشی رفعت بیگ کے کمرے میں داخل ہوا
ایسا کہاں جانا ہے جو اتنے خوش ہورہے ہو
رفعت نے علیان سے مسکراتے ہوۓ پوچھا
میں نے سوچا ہم سب وہاں چلتے ہیں ہمارے گاؤں قطار پور
کیا
علیان کے کہتے ہی رفعت صوفے سے اٹھ گئی جیسے اسے دوسوچالیس ووٹ جھٹکا لگا
پاپا آپ نے مجھے اس وقت ہاسٹل سے یہاں کیوں بلا لیا
انیس عباسی نے اندر آتے ہی اپنے باپ حبیب عباسی سے پوچھا جس نے رات کو1 بجے انیس کو اپنے پرانے گھر میں بلوایا تھا
دراصل بات ہی کچھ ایسی ہے انیس کہ تمھیں بلانا پڑا
حبیب نے جواب دیا
کیا بات پاپا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں کچھ ہوا ہے کیا
انیس نے کہا
ہاں بات یہ ہے کہ ہماری سلیمانی کتابوں کے سارے صفحات ایسے مٹ گئے ہیں جیسے کبھی ان پر کچھ لکھا ہی نہیں گیا تھا
حبیب نے جواب دیا
کیا یہ کیسے ہوا اور کس نے کیا کسی ہوائی مخلوق نے یا پھر کالا جادو
انیس بھی سن کر شوکڈ ہوگیا تھا
نہیں یہ کام نہ ہوائی مخلوق کا ہے نا جادو کا انیس مجھے ایک بار زنوبہ نے بتایا تھا کہ جب کوئی بہت طاقتور کالی طاقت لوٹ کر آتی ہے ایسا ہوتا ہے
یاد رکھنا تم ایک دن یہاں خود لوٹ کر آؤ گے یاد رکھنا تمھیں تمھاری موت یہاں کھینچ لاۓ
مگر کیوں امی جب میں تین سال کا تھا تو ہم گاؤں چھوڑ کر آۓ تھے اور آج تک واپس نہیں گئے کیوں
علیان نے پوچھا تو رفعت کے پاس کوئی جواب نہ تھا
بولیے امی جواب دیں
کوئی وجہ ہے نا علیان جو تمھیں نہیں بتا سکتی میں
رفعت بیگ نے منہ پھیرتے ہوۓ جواب دیا
امی آپ فضول میں کیوں ٹینشن لے رہی ہیں کچھ نہیں ہوتا میری بہت امپورٹد ڈیل ہے اور جانا ضروری ہے اگر
علیان نے سنجیدہ لہجے میں کہا
مگر علیان میری
ارے کیا ہوا ہے رفعت صاحبہ اب وہ اتنا کہہ رہا ہیں تو چل دیتے ہیں
انور نے اندر آتے ہوۓ کہا
بالکل صحیح کہا آپ نے پاپا آپ سمجھاؤ نہ انھیں
علیان اب انور کی طرف کے نیچے اس تہ خانے میں لے جانا ضروری ہے
ہاں انور جی میں تو یہ بھول گئی تھی کیونکہ مجھے آج بھی ا
سائرہ کا وہ روپ یاد آتا ہے(میں ایک ڈائن ہوں) تو دل سہم جاتا ہے
کیا ہوا پاپا کوئی حل ملا
انیس نے کتاب بند کرتے ہوۓ پوچھا
نہیں انیس رازجنات کتاب میں بھی ان سلیمانی کتابوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ نہیں ملا
حبیب نے بھی لمبا سانس لیتے ہوۓ کتاب بند کردی
انیس اور حبیب صبح سے بہت سی کتابیں دیکھ چکے تھے مگر دوپہر ہونے کو تھی اور ابھی تک کوئی طریقہ نہیں ملا تھا
حبیب مایوس ہوکر کرسی پر بیٹھ گیا انیس نے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی ڈالا اور حبیب کو دیا
پاپا آپ مایوس مت ہوۓ کوئی طریقہ مل جائے گا
میں وہ سامنے والی پرانی کبڈ میں دیکھتا ہوں شاید کوئی کتاب مل جاۓ انیس کبرڈ کی طرف جارہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیدھا کبرڈ پہ جاگرا کبڈ ایک دم زور سے گھومی جیسے کوئی دروازہ اور اگلے لمحے انیس اور حبیب دونوں حیران ہوگئے کیونکہ کبڈ کے پیچھے بہت بڑا کمرہ تھا
حبیب جلفی سے اٹھا اور کمرے کے پاس آگیا انیس بھی کمرے کے اندر گیا کمرہ بہت بڑا تھا اور کمرے میں نہایت خوفناک بد شکلیوں کی تصویریں لگی ہوئی تھی کمرے کے درمیان میں ایک بہت بڑی کتاب رکھی تھی اور اسکے اوپر ایک سنہری پتھر جو چمک رہا تھا
چلو جلدی کرو سارہ سامان رکھ لیا ہے نا بیگ خاندان گاؤں کےلیے نکل رہا تھا
صرف دو گاڑیاں ہی لے جاتے ہیں ایک گاڑی میں
علیان ریان سارہ اور عائشہ اور ایک میں ہم بڑے
انور بیگ نے کہا
بھائی صاحب بالکل میک میرا مطلب ٹھیک بول رہے ہیں
عروسہ نے کہا
ٹھیک ہے پاپا چلیں نکلتے ہیں
علیان اور ریان گاڑی میں بیٹھ گئے علیان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی جبکہ سارہ اور عائشہ پیچھے بیٹھ گئیں
انور لوگوں کی گاڑی آگے تھی
بھائی آپ کو کیا لگتا ہے ہماری حویلی کوئی پرانے بادشایوں کی حویلی ہوگی یا ماڈرن ٹائپ
سارہ نے علیان کو کہا
آئی تھنک تھوڑی بادشاہوں ٹائپ کی آخر ہمارے دادا پڑدادا کے زمانے کی حویلی ہے وہ
علیان نے جواب دیا
گئیز جیسی بھی ہو ہمیں وہاں صرف انجوۓ کرنا ہے اور کچھ نہیں
ریان نے کہا
گاڑی اب گاؤں کے راستے پہ چل دی تھی
سڑک کے دونوں طرف بس بہت بڑا جنگل تھا
ارے بھائی کوئی اچھا سا گانا چلا دو سفر کو تھوڑا انجوائے کرو
اب کی بار عائشہ نے کہا
علیان نے میوزک آن کردیابالی ووڈ کا گانا چل رہا تھا مگر تبھی علیان کو صرف کی گنگنانے کی آواز آنے لگتی ہے یہ کیسی آواز بالکل ویسی ہے جیسے خواب میں وہ گنگناتی ہے علیان نے سوچا یار ریان یہ میوزک چینچ کرو
علیان نے کہا کیا بھائی میوزک چل رہا ہے ریان نے کہا علیان کو لگا اب وہ سپنا دن میں بھی آنے لگا مگر تبھی گنگنانے کی آواز آنا بند ہوگئی
یہ کمرہ کس کا ہے
انیس نے کہا
اتنے سالوں تک یہ کمرہ مجھ سے بھی چھپا تھا
حبیب بولا
لگتا ہے اس کتاب میں ضرور کوئی بات ہے تبھی زنوبہ نے یہاں چھپا کے رکھا ہے اسے
حبیب کتاب کے پاس جاکے اسے دیکھتے ہوۓ کہا
ہاں پاپا مگر اس کے اوپر یہ پتھر کیسا
انیس پتھر کو دیکھ کر چونکتے ہوۓ بولا
اس پتھر کو ردواشی پتھر کہتے ہیں یہ ایسا جادوئی پتھر ہے اس پتھر کو وہی اٹھا سکتا ہے جس نے اسے رکھا ہو یا پھر وہی جو اس کا خون ہو
یعنی اگر اس کو ماں نے رکھا ہے تو میں اٹھا سکتا ہوں
انیس نے کہا
ہاں بالکل تم نے صحیح سوچا
حبیب نے کہا
انیس آرام سے زمین پر بیٹھا اور اپنا ہاتھ پتھر کی طرف بڑھایا
احتیاط سے بیٹا
جی پاپا
انیس نے پتھر کو اٹھایا پتھر آرام سے انیس کے ہاتھ میں آگیا
تبھی پوری کتاب سے بہت زیادہ روشنی نکلی اور پورے کمرے میں پھیل گئی انیس اور حبیب پیچھے ہٹ گئے
اب ہر طرف اندھیرا ہو رہا تھا گاڑی اپنے راستے پہ رواں دواں تھی
تبھی رہان بولا گاڑی روکیں بھائی گاڑی روک وہ سامنے دیکھے ریان نے سڑک کے بائیں طرف جنگل میں اشارہ کیا
واہ یار اتنی بڑی غار وہ بھی ایسے جیسے بہت سے پتھروں سے بنائی گئی ہو کیونکہ یہاں کوئی پہاڑ تو ہے نہیں
عائش ایک ساتھ بولی
مجھے لگتا ہے پرانے زمانے کے لوگوں کا گھر ایسا ہوتا ہوگا
ریان نے کہا
چلو نا علیان بھائی چلتے ہیں
سارہ نے کہا
علیان ابھی بھی غار کو غور سے دیکھ رہا تھا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش
ہاں چلو
علیان نے آہستہ سے کہا اور گاڑی باہر نکل لیا
واہ کیا بات ہے آج علیان بھائی نے اجازت دے دی
ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے اس جگہ کو پہلے کبھی دیکھا ہوا ہے
علیان نے غور سے غار کو دیکھتے ہوۓ کہا
کیا پتا بھائی جب آپ چھوٹے ہو تو چاچی آپ کو یہاں لے کر آئی ہو
ریان نے کہا
چلو چلو اس کے پاس جاتے ہیں اور اند سے بھی دیکھتے ہیں
عائشہ گاڑی سے کیمرا نکالتے ہوۓ بولی
اور سب اس طرف چل دیے

Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام
سب غار کے پاس پہنچ گئے جو بہت بڑے بڑے کالے پتھروں سے بنائی گئی تھی
پرانے زمانے میں کسی نے بہت محنت کرکے اسے بنایا ہوگا
سارہ غار کا اوپر سے نیچے تک کا جائزہ لیتے ہوۓ بولی
چلو یار اس کے اند چلتے ہیں
ریان نے کہا عائشہ نے موبائل کی ٹارچ آن کرلی اور باقی سب نے بھی اپنا موبائل نکال کر ٹارچ آن کرلی اور اندر داخل ہوگئے
پوری غار میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا
یار یہاں بہت اندھیرا ہے ہمارے ٹارچز کی روشنی بھی کم پڑ گئی
یہ دیکھو مشعل پرانے زمان لوگ اسی سی سے دوشنی حاصل کرتے تھے
علیان نے ایک طرف موبائل کرتے ہو کہا
میرے پاس لیٹر ہے اسے میں جلاتا ہوں
علیان نے جیب سے لیٹر نکالا اور مشعل جلا دی مشعل کی ہلکی سی روشنی غار میں پھیل گئی
غار بہت سی مشعل رکھیں تھیں علیان نے ایک ایک کرکے اب کو جلایا
اب غار میں روشنی پھیل گئی تھی
واؤ یہ تو بہت بڑی غار ہے
سارہ نے واؤ کھینچ کر بولا
غار میں سامنے کی دیوار پہ ایک خوبصورت لڑکی کی بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی جو آرٹ سے بنائی گئی تھی
یار سارہ یہ کتنی امیزنگ غار ہے نا
عائشہ سارہ سے مخاطب تھی
علیان چلتا ہوا تصویر کے پاس پہنچا
ایسا لگتا ہے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے علیان نے سوچا
تبھی علیان کو زمین پہ ایک ناخن دیکھائی دیا علیان نے ناخن اٹھایا یہ ناخن بہت بڑا اور نیلا تھا
علیان کو لچھ یاد آیا (اس کے چھوٹے سے ناخن لمبے نیلے ہوچکے تھے) یہ یہ تو ہی ناخن ہے جس طرح اس عورت کا ناخن تھا
جب روشنی نارمل ہوئی تو حبیب اور انیس نے آنکھیں کھول دیں اور کتاب کی طرف دیکھا کتاب اب کھل چکی تھی اور اس کا پہلا صحفہ سامنے تھا
رازاےڈائن
انیس نے کتاب کو دیکھتے ہوۓ کہا
کتاب ایک بہت قدیم زبان میں لھی گئی تھی مگر انیس اور حبیب کےلیے دنیا کی کوئی زبان پڑھنا مشکل نہیں تھی
انیس اور حبیب جلدی سے کتاب کے پاس گئے اور اسے اٹھا کر باہر لے آئے اور ٹیبل پر آکے رکھ دی
حبیب نے جلدی سے کتاب کا صحفہ پلٹا اور اگلا صحفہ پڑھنا شروع کردیا
رازاےڈائن اس کتاب کو اس دنیا کی سب سے پہلی طاقتور ڈائن تتوائن نے لکھا ہے اس کتاب میں اس دنیا کی تمام کالی طاقتوں کے بارے میں لکھا گیا ہے جیسا کہ چڑیل ڈائن بھوت راکشس ان سب کی کمزوریاں طاقتیں ان کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے سب کچھ
حبیب نے یہ پڑھ کر صحفہ پلٹ دیا
پاپا یہاں تو بہت کچھ لکھا ہوا ہے ہمیں تو یہ پتا کرنا ہے کہ سلیمانی کتابوں کے صفحات کس کی وجہ سے مٹ چکے ہیں اور ان کو ٹھیک کیسے کیا جاسکتا ہے
انیس نے کہا
تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر اس صفحے تمام چیزوں کے بارے میں اور اس کے ساتھ صفحات نمںرز دیے گئے ہیں اس کتاب میں سلیمانی کتابوں کا ٹائٹل ڈھونڈو میں تب تک سلیمانی کتابیں لے آتا ہوں
حبیب جواب دیتے ہوۓ کمرے سے نکل گیا
ڈائن راکشس چھلوکش بھوت موکال سروکال پریا اچھادھاری ناگ
ارے پ یہاں تو اتنی چیزوں کے بارے میں لکھا ہے نا کہ پڑھتے پڑھتے ہم بڈھے ہوجائیں گیں لگتا ہے اس ڈائن کے پاس بھی کوئی اور کام نہیں تھا
انیس نے کہا
انیس واپس کتاب میں ڈھونڈنے لگا
لو مل گیا مل گیا
پانچ چھ صفحات پڑھنے کے بعد اسے سلیمانی کتابوں کا ٹائٹل آخر مل ہی گیا
صحفہ نمبر پانچ ہزار ایک سو دو ارے باپ رے باپ
اس کتاب کو دیکھ کے لگتا نہیں اتنے پیجز ہیں اس میں
انیس نے کہا
پر وہاں تک جانے میں بڑا ٹائم لگے گا ہم اس کو اپنے طریقے سے کھولتے ہیں
انیس نے سوچا اور دوسرے ٹیبل پہ پڑا چھوٹا سا پنکھا اٹھایا اور کتاب کے پاس رکھ کے سوئچ آن کردیا پیچز خود بخود پلٹنے لگے انیس کچن سے جوس لے آیا اور بیٹھ کر پینے لگا کچھ دیر میں صحفہ نمبر پانچ ہزاد ننانوے کھل گیا انیا جلدی سے اٹھا اور فین بند کردیا اور دو تین پیج پلٹنے کے بعد اسے اس کا صحفہ مل گیا انیس کے موبائل پہ میسج رنگ بجی انیس نے موبائل اٹھایا
پاپا کا میسج
بیٹا میں باہر آگیا ہو کچھ کام ہے ضروری تم تب تک طریقہ ڈھونڈو
انیس نے موبائل رکھ دیا ااور آکے کتاب پڑھنے لگا
سلیمانی کتابیں جنہیں صرف ریدواشی ہی پڑھ سکتے ہیں اور ان کے ذریعے بری مخلوقات کالی طاقتوں اور برائی کو ختم کرتے ہیں ان کتابوں میں وہ وظائف ہیں جن کو پڑھنے سے پڑھنے والے پر کسی جادو کا اثر نہیں ہوتا مگر یہ کتابیں ورف ریدواشی پڑھ سکتے ہیں اس دنیا میں ویسے تو بہت ڈائنیں ہیں مگر اس دنیا کی ایک ایسی ڈائن ہے جو ہزار سالوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے
وہ ڈائن ہے روائن
یہ ڈائن اس کی عمر ہزار سال سے بھی ہوتی ہے اور ہزار سالوں سے پہلے اس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا اور یہ بالکل جوان رہتی ہے ہاں البتہ روائن کو پتھر کا بنایا جاسکتا ہے ڈائنوشی منتر پڑھ کر پانی میں ملا کر اس ڈائن پر پھینک دیا جاۓ
تو وہ ایک لمحے کےلیے بےبس ہوجاتی ہے
اور اسی درمیان اگر اس کی چوٹی کو کاٹ دیا جاۓ تو اس کی ساری طاقتیں چلی جاتی ہیں
اور پھر اسے آگ لگا دیا جاۓ تو یہ ڈائن کچھ سالوں کےلیے پتھر کی بن جاتی ہے مگر اس کے بعد یہ کتنی زیادہ بھیانک ہوجاتی ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا
انیس نے رک کر ایک لمبا سانس لیا اور پھر پڑھناشروع کردیا
اور جب یہ لوٹ کے آتی ہے تو اتنی طاقتور ہوتی کہ اس کے آنے سے پہلے سلیمانی کتابوں کے صفحات مٹ جاتے ہیں اور دوبارہ یہ صحیح تبھی ہوتے ہیں جب کسی ڈائن کا کالا خون اس پر پڑتا ہے
ارے یہ بچوں کی گاڑی پیچھ کہیں نظر نہیں آرہی ہے کہاں رہ گئے ہے یہ لوگ رفعت نے پریشان ہوتے ہوۓ کہا
پورا روڈ سنسان تھا اور پیچھے کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی
ارے بھابھی آپ کیوں اتنی چنتا کررہی ہیں آجائیں گیں ہوگیں کہیں راستے میں
عروسہ نے کہا
عروسہ تم میری میڈیسن ساتھ لائی ہو
ثاقب نے عروسہ سے پوچھا
کھڑوسہ آپ نے مجھے کھڑوسہ بولا قطار پور جانے دیں بتاتی ہوں میں آپ کو آپ کے کان کھینچنے پڑیں گیں مجھے
عروسہ نے انگلی دیکھاتے ہوۓ کہا
ارے عروسہ دیور جی نے عروسہ ہی بولا ہے تم اپنے کان میں لگانا بھول گئی
رفعت نے عروسہ کے کان میں انگلی مارتے ہوۓ کہا
او سوری بھابھی میں لگانا بھول گئی
عروسہ نے کہا
عروسہ کے ایک کان میں تھوڑی پرابلم تھی
دیکھا میں نے عروسہ ہی بولا تھا تم فضول میں ہی اتنا غصہ کرتی ہو پہلے اپنا کان چیک کر لیتی
ثاقب نے مسکراتے ہوۓ طنزیہ کہا
آپ تو رہنے دیں کیا پتا آپ نے میرے نا سننے کا فائدہ اٹھایا ہو
عروسہ منہ بناتے ہوۓ بولی
لو رفعت آگیا تمھارا علیان انور نے گاڑی کے شیزےیں پیچھے آتی گاڑی کو دیکھا
شکر ہے خدا کا رفعت نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا
میں نا جس سے پیار کروں گیں نا بالکل میرے ناول کے ہیرو جیسے ہوگا
وہ اپنی بڑی سی گاڑی میں آۓ گا
حریم علینہ سے کہ رہی تھی
لو آگئی
وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولے گا اور بڑے اٹیٹیوڈ سے باہر نکلے گا
نکل آیا
وہ اپنے گھنے بالوں پہ ہاتھ گھماۓ گا ہاۓ گھما دیا اس کی نیلی آنکھیں سب کو مدہوش کردے گی مدہوش ہی تو کردیا
وہ ڈیشنگ سٹائل سے چلے گا
بالکل
ارے کیا بولے جارہی ہے تو علینہ میں کیا بتا رہی ہوں تمھیں
حریم نے علینہ کو جھنجورتے ہوۓ کہا وہ دیکھ علینہ نے حریم کے پیچھے سامنے حویلی کی طرف اشارہ کیا
حریم پیچھ مڑی تو حیران رہ گئی سامنے علیان اور اس کی فیملی حویلی کی طرف جارہی تھی
میرا ہیرو آگیا حریم کی نظریں علیان پر ہی ٹک گئیں
میرا بھی
علینہ کی نظریں تو ریان پر ہی جم گئیں تھیں تم دونوں نہیں سدھرو گی علینہ اور حریم دونوں کے کان کھینچے تھے
علینہ اور حریم دونوں پیچھے مڑی تو علینہ کی امی ریحانہ تھیں
علینہ اور حریم دونوں کے رنگ اڑے
میں نے تم دونوں کو کہا تھا باڑہ صاف کرو اور تم دونوں پھر یہاں یہ رسالہ پکڑ کے بیٹھ گئی
نہیں امی ہم تو بس
علینہ کے پاس کہنے کےلیے الفاظ نہیں تھے
اور تو کلموہی میری بیٹی کو بھی اپنے جیسا بنا رہی
ہے
ریحانہ نے علینہ کا کان چھوڑ دیا مگر حریم کا کان زور سے مروڑا
نہیں خالہ میں تو بس
حریم درد سے ہلکا سا چلائی
چل تو گھر سارہ باڑہ تو کلی(اکیلی) ہی صاف کریں گی تیرے نوں انساں والی زبان سمجھ نئی آندی
(تجھے انسانوں کی زبان سمجھ نہیں آتی)
ارے امی وہ کیسے
علینہ کے بولنے سے پہلے ہی ریحانہ نے اسے ٹوک دیا
خبردار جو تو اس کی ہمدرد بنی زبان کھینچ لواں گی تیری
ریحانہ نے علینہ کو غصے سے کہاں اور حریم کو ہاتھ سے پکڑ کر گھر کی طرف چل دی علینہ وہیں کھڑی رہی
او چل تیرے لیے میں سپیشل لکھ کے لے آواں
ریحانہ پیچھے مڑ کے علینہ پہ چلائی
حریم ایک بہت غریب گھر میں پیدا ہوئی جب پیدا ہوئی تو اس کی ماں کا انتقال ہوگیا اس کا باپ ایک مزدور تھا بیٹی کو پالنے لگا مگر بیٹی سے بہت پیار کرتا تھا جب حریم سات سال کی ہوئی تو باپ کا سایہ بھی سر پہ نہ رہا حریم کے ماں باپ کے بعد اس کی اس دنیا میں بس ایک خالہ ریحانہ ہی تھی
جس نے اپنے شوہر باسط کے کہنے پہ حریم کو پاس رکھ لیا تھا مگر ہمیشہ اسے کوستی اور نفرت کرتی ریحانہ کی اپنی بھی ایک ہی بیٹی تھی علینہ جو حریم کو اپنی بہن مانتی اور ہمیشہ حریم کا ساتھ دیتی تھی حریم جانتی تھی
خالہ اسے اس کی باپ کی تھوڑی سی سات مرلہ جگہ حریم کے نام تھی اس وجہ پال رہی ہے حریم کو پڑھائی کا شروع سے بہت شوق تھا حریم نے میٹرک کے بعد ایک سال تو سکالرشپ پہ پڑھا مگر آگے کی تعلیم کےلئے نہ پیسے تھے اور نہ اجازت اور اپنی زندگی کام کاج اور خالہ کی ڈانٹ میں گزار رہی تھی
Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام
او واؤ حویلی اندر سے بھی کافی شاندار ہے عائشہ اندر آتے ہی پورے حویلی کو اوپر سے نیچے دیکھتے ہوۓ بولی
حویلی اندر سے کافی بڑی تھی اندرونی حال میں بہت بڑے بڑے صوفے رکھے ہوۓ تھے سامنے دونوں اوپر جانے کےلیے سیڑھیاں تھیں ایک طرف بہت سی تصیریں لگی ہوئی تھیں
علیان چلتا ہوا تصویروں کے پاس پہنچا اور انھیں غور سے دیکھنے لگا
سب سے پہلے نمبر ایک بزرگ اور بوڑھی عورت کی تصویر لگی تھی جو پرانے زمانے میں بنائی جاتیں تھیں علیان سمجھ گیا یہ اس کے پڑدادا پڑدادی کی تصویر ہے اس سے اگلی تصویر علیان کے دادا دادی کی تھی
اس سے اگلی تصویر میں علیان کے پاپا اور امی کی تصویر تھی مگر اس اے اگلی تصویر دیکھ کر علیان حیران ہوگیا اس تصویر میں ایک عورت ایک بچہ گود میں لیے کھڑی تھی اس عورت نے کالی ساڑھی پہن رکھی تھی
اور مسکرا رہی تھی ایک لمحے کےلیے علیان کو لگا اس مے پلکیں جھپکائیں مگر اگلے لمیے وہم سمجھ لیا یہ عورت کچھ جانی پہچانی سی لگ رہی ہے
ہاں یہ عورت تو وہی جس کی اس پتھر جیسی غار میں تصویر لگی ہوئی تھی
ڈائن کا خون سلیمانی کتابوں پر ڈائن کا خون ڈال دیا جاۓ تو وہ ٹھیک ہوسکتی ہیں یسس
انیس کے منہ سے خوشی سے بےساختہ نکلا
ڈائن کا خون ضرور اوپر لیب میں ہوگا میں ابھی جاکر دیکھتا ہوں انیس لائبریری سے نکلا اور باہر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر لیب میں آگیا لیب کو لاک لگا تھا انیس نے چابی نکالی اور لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا
یہ سامنے جو لوہے کی الماری ہے ضرور اس میں ہوگا
انیس جلدی سے الماری کے پاس گیا اسے کھولا الماری کے اندر بہت سی شیشیاں پڑی تھی جن میں مختلف چیزوں کا خون تھا اور کیمیکلز تھے سب شیشیوں پر لکھا گیا تھا کہ کس میں کیا رکھا گیا ہے انیس ڈائن کے خون والی شیشی تلاش کرنے لگا
تھڑی محنت کے بعد انیس کو شیشی مل گئی انیس نے شیشی نکالی اور الماری بند کردی اور جلدی سے لیب سے باہر نکلا اقر جلدی میں لیب لاک کرنا بھول گیا جو اس نے سب
سے بڑی غلطی کردی تھی
امی یہ تصویر کس کی ہے
علیان نے تصویر کو دیکھتے ہوۓ پوچھا
رفعت عروسہ کوکچھ سمجھا رہی تھی علیان کے آواز دیتے ہی پیچھے مڑی اور علیان کو تصویر دیکھتے ہوۓ ایسے ڈر گئی جیسے اسے کوئی بڑا راز پتا چلا گیا ہو
رفعت اور عروسہ دونوں تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئیں علیان کی طرف آئیں
ارے یہ تصویر یہ یہ یہاں کس نے لگا دی ہمیں نہیں پتا یہ تصویر کس کی ہے
عروسہ جلدی جلدی بولی
کیا مطلب چاچی کہ آپ کو نہیں پتا یہ تصویر میں نے پہلی بھی دیکھی جب ہم گاؤں آرہے تھے راستے پر ایک غار جیسی چیز میں
علیان نے پوچھا
دراصل عروسہ کا مطلب ہے کہ ہم اتنے سالوں سے یہاں نہیں آۓ تو کسی نے لگا دی ہوگی تم جاؤ جاکر فریش ہوکے آرام کرو تھک گئے ہوگے اسے میں ہٹوا دیتی ہوں
رفعت نے کہا
جی امی علیان کہتا ہو چل دیا
بھابھی یہ تو ڈائن گھر تک بھی پہنچ گیا مجھے تو ڈر لگ رہا ہے اسے کچھ پتا نہ چل جاۓ
ڈائن کا انتقام ایک خوفناک موڑ
عروسہ ہاتھ گھماتے ہوۓ بولی
کچھ نہیں ہوگا پہلے اس ڈائن کی تصویر یہاں سے ہٹوا دو
رفعت حقارت سے تصویرکو دیکھتے ہوۓ بولی اور چل دی
اوۓ ادھر آؤ
عروسہ نے ایک نوکر کو بلایا جو کچن کی طرف جارہا تھا
جی مالکن
وہ چلتا ہوا عروسہ کے پاس آیا اور ادب سے بولا
یہ اس کبوتری میرا مطلب لڑکی کی تصویر یہاں سے ہٹا دو اور اس کی کوئی بھی تصویر اگر مجھے حویلی میں نظر آئی تو تمھاری نوکری ٹاٹا باۓ باۓ ہوجاۓ گی سمجھےعروسہ
Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام
یہ میڈیسن چاۓ میں ملا دینا اسے پیتے ہی علیان بےہوش ہوجاۓ گا اور ہم اس کو ڈائن کلپنیت میں لے جائیں گیں
ثاقب نے عروسہ کے ہاتھ میں میڈیسن تھماتے ہوۓ کہا
مگر یہ ٹھیک تو رہے گا نہ ہم اس کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کررہے نہ
عروسہ کو ڈر لگ رہا تھا
نہیں عروسہ علیان کےلیے ہمیں یہ کرنا ہوگا تم جلدی کرو انور بھائی اور رفعت بھابھی بھی آتے ہوگیں
ثاقب نے کہا
ہاں ٹھیک ہے میں چلتی ہوں عروسہ کہہ کر کمرے سے چلتی بنی
تھوڑی دیر میں رفعت اور انور بھی کمرے میں آگئے
کیا ہوا ثاقب کام ہوا یا نہیں
انور نے آتے ساتھ سوال کیا
ہاں بھائی بس عروسہ گئی ہوئی ہے
ثاقب نے جواب دیا
ٹھیک ہے مگر باقی کے بچوں کا کیا
رفعت نے کہا
آپ ان کی فکر نہ کریں بھابھی وہ صبح ہی گھومنے نکل گئے تھے
لو ہوگیا کام
عروسہ کی آواز آئی سب پیچھے مڑے
سب آجاؤ علیان بےہوش ہوگیا ہے
عروسہ نے کہا تو سب اس کے ساتھ چل پڑے
او رو یہ بات ہے
حبیب نے ساری بات سننے کے بعد کہا
پر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ڈائن تھی کون اور یہاں سلیمانی کتابوں کو لینے کیوں آئی تھی اسے پتا کیسے چلا
حبیب نے دماغ پہ زور ڈالتے ہوۓ کہا
ایک منٹ پاپا کہیں وہ ڈائن ہی تو نہیں تھی
انیس نے کہا
نہیں تم نے مجھے بتایا کہ وہ بولی تھی میں ایک ڈائن ہوں اگر وہ روائن ہوتی تو ضرور بتاتی
حبیب نے کہا
تو کیا پتا یہ روائن کسی اور مقصد کےلیے آئی ہو یا وہ بتانا نہ چاہتی ہو
انیس نے کہا
نہیں ایک ڈائن ہمیشہ اپنی طاقت ضرور بتاتی ہے تم نے اس کے ناخن دیکھے تھے کس رنگ کے تھے
ہاں پاپا اس کے ناخن کالے تھے
او تو وہ روائن نہیں تھی جہاں تک میں روائن کو جانتا ہوں اس کے ناخن نیلے ہوتے ہیں
حبیب نے کہا
تو پھر اب ہم اسے کیاے ڈھونڈے گیں
انیس نے کہا
چلو میرے ساتھ اوپر لیب میں کچھ دیکھتے ہیں وہاں
حبیب نے کہا اور لائبریری سے باہر نکل دیا انیس بھی حبیب کے پیچھے چل
جیسے ہی انیس اور حبیب اوپر پہنچے لیب کو دیکھ کر دونوں کے رنگ اڑ گئے
لو پہنچ گئے ہم غار کے پاس جنگل میں ثاقب نے گاڑی کو بریک لگاتے ہوۓ کہا
چلیں سب باہر نکلیں ثاقب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا رفعت انور اور عروسہ بھی باہر آگئے
انور اور ثاقب نے بےہوش علیان کو باہر نکالا
اور اسے کندھے پہ اٹھا لیا چلو غار میں
انور نے کہا
دھیان سے رفعت نے کہا
Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام ایک وحشت ناک کہانی
اور سب غار کی طرف چل دیے جیسے ہی اب غار میں داخل ہوۓ تو اندر مشعل اور موم بتیاں جل رہیں تھیں سامنے ایک بہت بڑے شیشے میں ایک لکڑی اور شیشے سے بنا تابوت رکھا گیا تھا جس میں ایک پتھر کی مورتی تھی
اور ایک طرف ایک عمل زمین پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے
عامل کے سر کے بہت لمبے اور سفید بال تھے داڑھی مونچھیں بھی بالکل سفید اور عامل نے لمبا کالا کرتا پہن رکھا تھی جو اس کے ٹخنوں تک آرہا تھا
سلام بابا جی ثاقب اور انور نے دور سے کہا عمل نے آنکھیں کھول دیں
آگئے تم لوگ میں کل رات ہی یہاں آگیا تھا
عامل نے کہا
ہاں باباجی اور ہم علیان کو ساتھ لاۓ ہیں
ثاقب نے کہا
ٹھیک ہے اسے میرے سامنے زمین پہ لیٹا دو
ثاقب اور انور نے علیان کو احتیاط سے زمین پہ لیٹا دیا
اب سب پیچھے ہٹ جاؤ
عامل نے اشارہ کرتے ہوۓ کہا
سب ایک طرف ہوکر کھڑے ہوگئے
عامل اٹھا اور اپنے رکھیں ہوئی موم بتیاں اٹھائیں اور علیان کے چاروں طرف رکھ کر انھیں روشن کردیا
اور واپس آنکھیں بند کرکے بیٹھ کے کچھ پڑھنے لگا
کہ اتنی دیر میں باہر زور سے ہوا چلنے لگی اور پورے آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور بہت تیز طوفان آنے لگا
یہ کیا ہورہا انور جی
رفعت اچانک اس طوفان سے ڈر گئی
بھابھی مجھے لگتا ہے بابا کوئی ایسا منتر پڑھ رہے ہیں کہ ایک طوفان آۓ اور ڈائن کو تابوت سمیت ہی اڑا لے جاۓ
عروسہ نے کہا
تم تو چپ ہی رہو
ثاقب نے کہا
عامل نے آنکھیں کھول دیں
تمھارا شک ٹھیک ہے اس ڈائن کا سایہ علیان پر ہے
اس ڈائن کو بہت غصہ آرہا ہے جس وجہ سے یہ طوفان آرہا ہے
عامل نے کہا
مگر بابا یہ تو پتھرکی بنی ہوئی ہے
انور نے کہا
یہ پتھر کی ضرور ہے مگر بہت جلدی یہ باہر آنے والی ہے مگر اس کی طاقتیں ابھی سے ہی باہر آنا شروع ہوچکی ہیں
بابا نے کہا
نہیں بابا ہم نہیں چاہتے یہ دوبارہ واپس آۓ ہم نے بڑی مشکل سے اس ڈائن سے پیچھا چھڑایا تھا
رفعت نے کہا
اس ڈائن کا سایہ علیان پر ہے اور یہ اس کو لے کر ہی جاۓ گی
بابا نے کہا
مگر بابا کوئی تو طریقہ ہوگا نہ علیان کو بچانے کا
ثاقب نے کہا
ایک ہی طریقہ ہے کل ہی علیان کا نکاح کل بارہ بجنے سے پہلے کسی ایسی لڑکی سے کرادیا جاۓ جس کے سر پر اس کے ماں باپ کا سایہ نہ ہو
مطلب ایک یتیم لڑکی سے
عروسہ نے کہا
ہاں وہ بھی کل بارہ بجنے سے پہلے
لو بھابھی یہاں تو نہ چٹ نہ پٹ اور نکاح فٹافٹ
عروسہ اوپر دیکھتے ہوۓ بولی
ٹھیک ہے اب ہم سب کو یہاں سے جانا ہوگا موسم زیادہ خراب ہوگیا تو مشکل ہوگا
انور بیگ نے کہا
ہاں انورجی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں
رفعت نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
بابا جی آپ نے نہیں چلنا کیا
ثاقب نے پوچھا
ارے وہ بابا جی ہیں چٹکی بجائیں گیں اور گھر پہنچ جائیں گیں عروسہ نے کہا تو ثاقب نے عروسہ کو گھورا
سوری
عروسہ بولی
نہیں تم لوگ جاؤ میں یہاں رک کر اس ڈائن کاکوئی اور بندوبست سوچتا ہوں ہے
پورا کا پورا لیب خالی تھی سواۓ ٹیبلز کے اور کچھ نہیں تھا
او مائی گاڈ
انیس کے منہ سے بےساختہ نکلا
یہ سب کیسے ہوا
حبیب سر پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا
سوری پاپا یہ سب میری غلطی کو وجہ سے ہوا میں حصار بنانا اور لاک کرنا دونوں بھول گیا تھا
انیس نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا
تم جانتے ہو انیس تم نے کتنی بڑی غلطی کردی اب ہم کسی کالی طاقت کسی مخلوق سامنا نہیں کرپائیں گیں
حبیب کی آواز میں غصہ اور پریشانی دونوں تھے
جی پاپا میں سلیمانی کتابونں کو ٹھیک کرنے کے چکر میں یہ بھول گیا
انیس نے کہا
اٹس اوکے اب مجھے کچھ اور کرنا پڑے گا
حبیب نے کہا
کیا پاپا
مجھے قبرستان جاکر چلہ کاٹنا ہوگا تین دن تک
حبیب نے کہا
جی پاپا
تم تب تک پورا خیال رکھنا جس طرح آج میری غیر موجودگی مہں ڈائن نے وار کیا آگے سے کوئی اور بھی وار کرسکتا ہے تمھیں بہت ہوشیار رہنا ہوگا
حبیب نے انیسے کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
جی پاپا میں ایسا ہی کی کروں گا
انیس نے کہا
ایک دن میں شادی وہ بھی ایک یتیم لڑکی سے یہ سب کیسے ہوگا
رفعت نے کہا
ہاں بھابھی یہی تو مجھے بھی سمجھ میں نہی آرہا ایک دن آخر کیسے ہوسکتا ہے اور لڑکی کہاں سے آۓ گی
عروسہ نے کہا
اور علیان سے کیا کہیں گیں کہ کیوں اس کی شادی اتنی جلدی کروا رہے ہیں
ثاقب نے بھی کنفیوژن سے کہا
علیان کا تو ہم کچھ نہ کچھ کرلیں گیں اور نکاح کا انتظام بھی کرلیں گیں مگر مین مسئلہ ہے لڑکی کا اوپر سے لڑکی بھی یتیم ہو
انور نے حل تو سوچ لیا مگر لڑکی کا کچھ نہیں ہوپارہا تھا
میں تو کہتی ہوں نیٹ پہ اشتہار ڈال دیتے ہیں بیگ خاندان کے بڑے بیٹے کےلیے لڑکی کی ارجنٹ ضرورت ہے
عروسہ نے مشورہ دیا
نہیں عروسہ اس طرح تو ہماری خاندان میں بدنامی ہوجاۓ گی اور میری بہنوں کو تو تم جانتی ہو
ثاقب نے کہا
ہمیں اسی گاؤں میں ہی کسی اچھی سی لڑکی کو دیکھ لیتے ہیں نا
رفعت نے کہا
ٹھیک ہے میں علیان کو کسی طرح مناتا ہوں تم لوگ تب تک لڑکی ڈھونڈو
انور نے کہا اور کمرے سے نکل گیا
کیا شادی
علیان شادی کا نام سن کر اچھل پڑا
لیکن پاپا اتنی جلدی امپوسیبل
دیکھ بیٹا تیری بھلائی کےلیے ہمیں کل ہی تمھاری شادی کروانی ہوگی
انور نے کہا
نہیں پاپا اتنی جلدی شادی بنا کسی کو بتاۓ نہ ہی رشتہ دیکھا
میں شادی نہیں کرسکتا
علیان نے صاف انکار کردیا
لیکن بیٹا تمھارے ستاروں کے مطابق کل تک تمھاری شادی نہ ہوئی تو تمھاری زندگی پہ بہت بڑی مصیبت آجاۓ گی
لیکن پاپا میں ان ستاروں عامل وغیرہ کو نہیں مانتا اور کچھ نہیں ہوگا مجھے
علیان کی طرف سے انکار تھا
علیان ہم تمھارے ماں باپ ہیں اور اگر تمھیں ایک خروچ بھی آئی تو ہم کیسے جئیں گیں جانتے ہو تم
انور نے اموشنل ہوتے ہوۓ کہا
مگر پاپا میں شادی کےلیے ابھی تیار نہیں ہوں اور بغیر رسموں رواج کے اس طرح اچانک
علیان ابھی بھی نہیں مان رہا تھا
بیٹا ہم کون سا کہہ رہے ہیں ہم رسموں رواج سے شادی نہیں کریں گیں کل ایک بار تمھارا نکاح ہوجاۓ اور مصیبت ٹل جاۓ تو تمھاری شہر جاکر شادی کریں گیں میرا بھی تو اکلوتا بیٹا ہے میری بھی خواہش ہے تمھاری خوشیاں دیکھنے کی پر میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں شادی کرلے
انور نے کہا
ٹھیک ہے پاپا میں تیار ہوں
علیان نے دل سہ نہ سہی مگر شادی کےلیے ہاں کر ہی دی
ہاۓ ایسکیوزمی
پورا بیگ خاندان اس انجانی آواز پہ مڑا
سامنے ایک خوبصورت لڑکی نیلی شلوار قمیض سر پہ دوپٹہ اوڑھے ہائی ہیلز گلابی ہونٹ بڑی سنہری آنکھیں اور ہاتھ میں ایک سوٹ کیس
سب کی نظریں ایک لمحے کےلیے اس پر ٹک سی گئیں
آپ کون
عروسہ نے آئی بروز اچکاتے ہوۓ پوچھا
جی میں ثنا
ثنا نے جواب دیا
یہاں کیوں آئی ہیں محترمہ
عروسہ نے سوال کیا
جی وہ مجھے ایڈ ملا تھا کہ آپ کو ایک ایسی لڑکی کے رشتے کی ضرورت ہے جس کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوگئی ہو
ثنا نے بتایا
او اچھا آپ کھڑی کیوں ہیں آئیے نہ بیٹھیے
رفعت جلدی سے صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئی بولی
ثاقب اور انور بھی کھڑے ہوگئے
جی
ثنا چلتی ہوئی آئی اور رفعت کے سامنے والے صوفے کے پاس کھڑی ہوگئی
ارے بیٹا کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ نہ
انور نے کہا
انکل وہ بڑے کھڑے ہیں تو میں کیسے بیٹھ جاؤں
او اچھا سب مسکرا کر بیٹھ گئے
ثنا بھی بیٹھ گئی
رفعت نے عروسہ کو اشارہ کیا
جی میں ابھی آتی
عروسہ کہتے ہوۓ چلی گئی
ہاں تو بیٹا کچھ اپنے بارے میں بتاؤ
دراصل میں امریکہ سے ایک ویک پہلے آئی ہوں میرے پیرنٹس کی کچھ عرسہ پہلے ایک ایکسڈینٹ میں موت ہوگئی میں بچپین سے امریکہ رہی ہوں مام ڈیڈ کے بعد اس دنیا میں میرا کوئی نہیں تھا تو میں اکیلی ہی اپنے پاپا کا بزنس ہینڈل کرنے لگی بٹ انکل آپ کو تو پتہ ہے آجکل کے دور میں ایک لڑکی کا اکیلا رہنا مشکل ہے میں نے سوچا شادی کرلوں پر اپنے ہی ملک سے اور ایک ویک سے یہاں آئی ہوں
ثنا چپ ہوگئی
عروسہ چائے سموسے لے آئی
تو بیٹا کیا خیال ہے تمھارا شادی کے بعد کا کہاں رہنا چاہتی ہو
ثاقب نے سوال کیا
انکل میں شادی کے بعد سب کچھ اپنے ہسبینڈ کے نام کردوں گیں اور مجھے گھر کے سارے کام آتے ہیں امریکہ میں نے کوئی سروینٹ وغیرہ کام پہ نہیں رکھا ہوا میں آپ کے بارے میں سب کچھ معلوم کروانے کے بعد ہی یہاں آئی ہوں اچھا ہوگا آپ میرے بارے میں بھی سب کچھ پتا کروالیں
ثنا نے سب کچھ تفصیل سے بتا دیا
بھابھی لڑکی تو اچھی ہے اور لاٹری بھی رشتہ ڈن کردو
عروسہ نے سرگوشی کی
تم ٹھیک کہہ رہی ہو شاید انور سے کہہ کر اس کا سب نکلواتے ہیں اور ڈن کردیتے ہیں لڑکی بھی بہت خوبصورت ہے
رفعت نے بھی آہستہ سے کہا
تو ٹھیک ہے آپ اوپر جائیں گیسٹ روم میں آرام کریں تب تک ہم آپ کو اپنا فیصلہ سنا دیں گیں
نکاح کی تیاریاں چل رہیں تھیں بیگ خاندان نے ثنا کے بارے میں سب کچھ معلوم کرنے کے بعد رشتہ ڈن کردیا تھا اور نکاح آج دن گیارہ تیس پہ رکھ دیا گیا تھا سارا گھر سجایا گیا تھا اور گاؤں کے کچھ لوگوں کق بلایا گیا تھا
یار حریم تیرا شہزادہ تو تیرا ہونے سے پہلے ہی پرایا ہوگیا
علینہ نے حریم سے کہا علینہ اور حریم دونوں یہاں کام کےلیے آئیں ہوئیں تھیں
حریم آنا تو نہیں چاہتی تھی مگر خالہ نے زبردستی بھیج ہی دیا
چپ کر یار یہ بھی کوئی لڑکا ہے ڈفر سا مجھے تو کوئی خوبصورت لڑکا چاہیے
حریم نے سیڑھیاں اترتے ہوۓ جواب دیا
اچھا اور کل تو بڑا کہہ رہی تھی آگیا میرے خوابوں کا شہزادہ دلبرراجہ
علینہ نے طنزیہ کہا
اچھا تو تیرا کدھر گیا
حریم نے سیڑھیوں پہ ہی رک کر پوچھا
میرا تو یہاں کہیں ہوگا تو چل نہ
علینہ نے کہا
حریم نے جیسے ہی سیڑھیوں پہ ایک قدم بڑھایا اس کا پاؤں لڑکھڑایا اور حریم نیچے گرتی چلی گئج حریم نے آنکھیں بند کرلیں تھیں مگر اگلے ہی لمحے وہ کسی کے بازؤں میں تھی حریم نے آنکھیں کھولیں تو وہ علیان تھا دونوں کی نظریں ایک دوسرے کے چہرے پہ ٹک سی گئیں
اوہو
علینہ کی آواز پہ دونوں ہوش میں آۓ اور کھڑے ہوگئے
حریم دوسری طرف جانے لگی
انسان تھینکس ہی بول دیتا ہے
علیان نے کہا
تھینکس کس بات کا تم نے حساب برابر کیا ہے ایک بار میں نے بھی تمھیں بچایا ہے
حریم نے پرسوں رات کی طرف اشارہ کیا
یاداشت بڑی تیز ہے آپ کی علیان نے کہا
بادام نہیں کھاتی پھر بھی
حریم کہتے ہوۓ چل دی
ثنا تم تیار رفعت نے جیڈے ہی روم کا دروازہ کھولا ثنا بیڈ پہ لہنگا پہن کہ بیٹھ تھی مگر تیار نہیں ہوئی تھی
کیا ہوا ثنا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی
رفعت نے ثنا سے پوچھا
آنٹی میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مجھے میری مام تیار کریں اور یہاں آپ میری مام ہے تو کیا آپ مجھے
ثنا نے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں
رفعت کو ثنا پر بےحد پیار آیا
چلو میں تمھیں تیار کردیتی ہوں رفعت نے کہا اور ثنا کو آئینے کے سامنے بیٹھا کر اسے تیار کرنے لگی کچھ دیر میں ثنا تیار ہوگئی
ماشااللہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے میری بیٹی رفعت نے کہا
ثنا اسچ میں بہت حسین لگ تہی تھی اس کے گورے چہرے پہ لال گال بہت سج رہے تھے
تھینکس مام کیا میں آپ کو مام بلا سکتی ہوں
ثنا نے رفعت کو کہا
ہاں بالکل بیٹا تم بلاؤ مجھے مام میں تمھاری ماں ہی ہوں نا
رفعت نے مسکراتے ہوۓ کہا تو ثنا خوشی سے اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی
اب تم کمرے میں رہنا ابھی دس بج رہے ہیں میں اقر عروسہ تمھیں گیارہ بجے لینے آجائیں گیں
رفعت نے کہا
جی مام
رفعت کمرے سے باہر چلی
گئی
ثنا خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر آئی لڑکی نے اندر آتے ہی روم لاک کردیا ثنا اسے اچانک دیکھ کے ڈر گئ
ہو آر یو
ثنا نے سوال کیا
تیری موت
لڑکی نے جواب دیا
واٹ کیا بکواس کررہی ہو تم
ثنا نے کہا
تبھی لڑکی کی آنکھیں سفید ہوگئیں اس کے ناخن لمبے کالے ہو گئے اور کے چھوٹے سے کھلے ہوۓ بال چوٹی میں تبدیل ہوگئے
ثنا خوف سے چلانے لگی تھی کہ ڈائن نے اپنی چوٹی سے ثنا کا گلا مظبوطی سے جکڑ لیا
ثنا کو آواز حلق میں رہ گئی
ڈائن نے چوٹی سے ثنا کو اونچا اٹھایا اور دھواں بن کر غائب ہوگئی اس کے ساتھ ہی ثنا بھی غائب ہوگئی
گیارہ پندرہ پر جیسے ہی عروسہ اور رفعت ثنا کو کمرے میں لینے آئیں دنگ رہ گئیں
ثنا اپنے کمرے میں نہیں تھی
یہ کہا گئی بھابھی
عروسہ کے چہرے پہ پریشانی کی شکن آگئیں
واش روم میں ہوگی شاید تم چیک کرو
رفعت نے کہا
عروسہ نے واش روم چیک کیا تو ڈور اوپن تھا
نہیں بھابھی یہاں بھی نہیں ہے
تو کہاں گئی یہ لڑکی
رفعت کا دل زور زور سے دھڑکھنے لگا
بھابھی کہیں یہ بھاگ تو نہیں گئی
عروسہ نے کہا
چپ کرو عروسہ دیکھو یہیں کہیں ہوگی
چلو بھابھی باہر دیکھتے ہیں
عروسہ کمرے سے باہر نکلی
پاپا چلہ کاٹنے گئے ہیں تب تک میں کچھ پتہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں
انیس بیٹھے بیٹھے بور ہوا تو لائبریری میں آگیا
سلیمانی کتابیں نہیں ہیں نہ کچھ لیب میں ہے کروں تو کروں کیا آخر
انیس دماغ پہ زور ڈالتے ہوۓ بولا
انیس نے رازاےڈائن کو کھولا اور پھر سے سلیمانی کتابوں کے بارے مہں پڑھنے لگا مگر کافی دیر پڑھنے کے بعد نیس کق کچھ پتا نہ چل سکا تو اچانک انیس کو کچھ یاد آیا
سی سی ٹی وی
جب پورے گھر میں کیمرے لگے ہوۓ ہیں تو اس ڈائن کا چہرہ ضرور نظر آیا ہوگا اس طرح ہم اس کو ڈھونڈ سکتے ہیں
انیس نے سوچا اور لائبریری سے باہر نکل گیا
نہیں بھابھی پوری حویلی میں پتا کرلیا ہے لیکن ثنا کہیں بھی نہیں ہے اور نہ کسی نے نوکر اس کو دیکھا
ثاقب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بتایا
تو پھر کہاں جا سکتی ہےیہ لڑکی انور جی رفعت آنسوں صاف کرتے ہوۓ انور سے بولی
کہیں اسے پتا تو نہیں چل گیا کہ علیان پر ایک ڈائن کا سایہ ہے
عروسہ نے کہا
گیارہ بج کر پچیس منٹ ہوگئے ہیں اور ثنا لاپتہ ہے ہمیں کسی طرح بھی علیان کی شادی کروانی ہے ورنہ اس ڈائن کا سایہ ہمارے علیان سے کبھی نہیں جاۓ گا
رفعت نے بےچینی سے کہا
تو اب کچھ نہیں ہوسکتا شادی نہیں ہوگی کیا
عروسہ نے کہا
نہیں یہ شادی ہوگی
رفعت نے آواز میں سختی لاتے ہوۓ کہا
کیا مطلب بھابھی دولہن تو گئی اب کس سے
ثنا نے ناسمجھتے ہوۓ کہا
ہم ابھی یہاں پر کسی ایسی لڑکی کو ڈھونڈیں گیں جو بنا ماں باپ کے ہو اور اس کی شادی علیان سے کردیں گیں
رفعت نے کہا تو سب کو جھٹکا لگا
کک کیا مطلب تمھارا رفعت
انور نے کہا
مطلب آپ کو سمجھ آگیا بس جلدی سے لڑکی ڈھونڈیں ہمارے پاس تیس منٹ ہیں میں اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گیں
رفعت نے کہا
مگر بھابھی
ثاقب کے بولنے سے پہلے رفعت نے اسے ٹوک دیا
اگرمگر کچھ نہیں ہمیں لڑکی چاہیے
رفعت نے اتنا کہا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی
جی دولہن کہاں ہے مجھے انھیں مہندی لگانی ہے
اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوۓ کہا
دیکھو بیٹا دولہن کو چھوڑو تم کسی ایسی لڑکی کو جانتی ہو جس کے ماں باپ نہ ہوں
رفعت سیدھا اس کے پاس آکے دروازہ بند کرتے ہوۓ اس کے ہاتھ تھام کر بولی
جی آنٹی
وہ رفعت کا منہ تاکنے لگی
دیکھو تم میرے سوالا کا جواب دو
رفعت نے کہا
ہاں آنٹی میری خالہ کی بیٹی حریم ہے جس کے والدین پچپین میں ہی گزر گئے تھے
علینہ نے کہا
کیا سچ میں وہ کہاں ہے بیٹا
رفعت کے چہرے پہ امید کی کرن سی آگئی
جی نیچے ہی ہے وہ
چلو مجھے لے چلو رفعت اوتاولی ہوکر بولی
مگر………. سب نے بولنا چاہا رفعت نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا اور علینہ کو لےکر کمرے سے نکل گئی
علینہ کو ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے
عامل بابا اپنا کام نمٹا کر جانے کےلیے اٹھ کر کھڑے ہوۓ ہی تھے کہ تبھی اس نے دیکھا کہ ایک عورت دوسری طرف منہ کرکے کھڑی ہے
کون ہو تم
عامل نے کہا
عورت پیچھے کی طرف مڑی
ارے بیٹا تم یہاں کوئی کام تھا کیا
عامل نے ایسے کہاں جیسے وہ اس کو اچھی طرح جانتا ہو
کام تو ہے نا تمھاری جان چاہیے
وہ ہنستے ہوۓ بولی
کیا مطلب
عامل نے کہا
مطلب یہ…… عورت نے اتنا کہہ کر بازو کھولے اس کے ناخن لمبے کالے ہوگئے اس کی آنکھیں سفید پاؤں الٹے ہوگئے بال ایک لمبی چوٹی میں تبدیل ہوگئے
تت تم ڈائن ہو
عامل کا جسم کانپنے لگا
عامل نے آنکھیں بند کرکے منتر پڑھنا شروع کیا تھا کہ ڈائن نے اپنا ہاتھ آگے کیا اس کے ناخن بےحد لمبے ہوگئے اور وہ عامل کے پیٹ میں پیوست ہوگئے پوری غار عامل کی چیخوں سے گونج اٹھی
دیکھوں بیٹا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بیٹے کو بچا لو ہمارے پاس وقت بےحد کم ہے
رفعت حریم کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی
مگر آنٹی آپ میری بات بھی تو امجھیں میں کک۔۔ کیسے کوئی بھی مجھے آکے کہے کہ شادی کرلو تو میں کرلوں
حریم کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی
رفعت کافی دیر سے اس کے سامنے روۓ جارہی تھی اور ایک چیز کی ہی رٹ لگا رکھی تھی میرے بیٹے سے شادی کرلو
دیکھو بیٹا وقت بہت کم ے اگر آج بارہ سے پہلے میرے بیٹے کی شادی نہیں ہوئی تو اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے تم پلیز میرے بیٹے سے شادی کرلوں میں تمھارے پاؤں پڑتی ہوں
رفعت کے آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا تھا اور وہ حریم کے سامنے گرگڑاۓ جارہی تھی
حریم اور رفعت کے سوا کمرے میں کوئی نہیں تھا
ٹھک… ٹھیک ہے آنٹی میں آپ کے بیٹے سے شادی کروں گی
حریم نے فیصلہ سنا دیا
سچ میں تم میرے بیٹے سے شادی کروگی رفعت کو تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا
رفعت نے اپنے لیے دوبارہ پوچھا
ہاں آنٹی اگر میری وجہ سے کسی کی زندگی بچ سکتی ہے تو میں ایسا ضرور کروں گیں
حریم نے کہا
مجھے سمجھ نہیں آرہی میں تمھارا احسان کیسے اتاروں ابھی وقت بہت کم ہے میں نے ثنا کےلیے تین لہنگے منگواۓ تھے تاکہ کچھ مسئلہ ہوجاۓ لہنگے میں تو کام آئیں
ٹھیک ہے آنٹی میں بس پانچ منٹ میں آئی
وہ دولہن بنے بیٹھی تھی اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس طرح اچانک اس کی شادی ہوجاۓ گی
اس کے نکاح کو تین گھنٹے ہوچکے تھے کسی طرح اس کا نکاح ہوگیا تھا اس کی خالہ ریحانہ نے آکر وویلا مچایا تھا مگر ایک چیک نے اس کا منہ بند کردیا تھا اور وہ جاچکی تھی اور علینہ کو زبردستی ساتھ لے گئی تھی نکاح کے وقت علیان کو کچھ بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا
وہ بہت کچھ جاننا چاہتا تھا کہ ثنا کی جگہ حریم مگر رفعت نے اسے نکاح کےلیے مجبور کردیا تھا اس وقت حریم کے ساتھ کمرے میں سارہ اور عائشہ موجود تھیں جنہیں خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سب کیا ہوا ہے
جی ہیلو انیس سپیکنگ
انیس نے کال رسیو کرتے ہی کہا
دیکھیے مسٹر انیس میں انسپیکٹر افتخار بول رہا ہوں کیا میری حبیب سے بات ہوسکتی ہے
دوسری طرف سے آواز
جی میں ان کا بیٹا بول رہا ہوں انیس قریشی پاپا تو کسی کام کےلیے شہر سے باہر گئے ہوۓ ہیں
انیس نے جواب دیا
جی وہ کب تک آجائیں گیں ہمیں ان سے کچھ ضروری کام تھا
افتخار صاحب نے پوچھا
جی پرسوں تک آجائیں گئیں خیریت ہے نا
انیس نے کہا
جی خیریت ہے ہمارے پاس ایک ایسا کیس آیا کہ ہم الجھ گئے ہیں سوچا آپ کے ابو ایکس سائنٹیسٹ ہیں تو بات کرلیتے ہیں
افتخار نے بتایا
جی ویسے سائنٹیسٹ تو میں بھی ہوں پاپا کی غیر ذمہ داری میں میں ہی سب سنبھالتا ہوں آپ چاہیں تو مجھ سے ڈسکس کرسکتے ہیں
انیس ویسے تو ان سب کیسز سے دور رہتا مگر اس بار اسے کچھ اور بھی شک تھا
ٹھیک ہے انیس صاحب تو آج شام پانچ بجے چاۓ پر ملتے ہیں
انسپیکٹر افتخار نے کہا
اوکے سر گڈ باۓ خدا حافظ
انیس نے جواب دیا
بھابھی بھابھی
سارہ کی آواز پر حریم سوچوں کی دنیا اے باہر آئی
جی جی
حریم نے کہا
کیا ہوا بھابھی کہاں گم ہیں اتنی دیر
سارہ نے سوال کیا
کہیں نہیں
حریم نے نظریں چراتے ہوۓ جواب دیا
او ہو اپنے دولہے جی کے انتظار میں کھو ہی گئیں
عائشہ نے شریر لہجے سے کہا
سارہ نے عائشہ کو گھورا
سوچ رہی ہوں یہ سب کتنی جلدی ہوگیا نا
حریم نے یوں ہی کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہا
ہاں بھابھی یہ بات تو ہے ایک لڑکی کے کتنے ارمان ہوتے ہیں کتنی خواہشیں ہوتی ہیں نہ پر یہاں تو سب کچھ ایسے ہوا نہ کہ کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا
سارہ نے ایک لمبا سانس لے کر کہا
ہاں بھابھی پر آپ فکر نہ کریں سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا اور آپ جس طرح چاہتی تھیں اس طرح شادی بھی ہوگی
عائشہ حریم کو بازوں میں سمیٹ کر دلاسہ دیا
ہاں ضرور
حریم نے عائشہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا
اتنے میں کمرے کا ڈور کھلا اور رفعت اندر داخل ہوئی
کیسی ہو حریم بیٹا
رفعت نے عائشہ اور سارہ کو اشارہ کیا دونوں اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں
رفعت نے دروازہ بند کردیا
اور حریم کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی
دیکھو حریم بیٹا آج جو تم نے مجھ پر احسان کیا ہے نا یہ میں زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گیں تم نے آج میرے بیٹے کی جان بچائی ہے سچ کہوں تو ایک پل کےلیے میں نے امید ہی چھوڑ دی تھی مگر پھر خدا نے یہاں تم کو فرشتہ بنا کر بھیج دیا
دیکھو حریم ہم آج اکیس سال بعد یہاں صرف ایک بزنس ڈیل کےلیے آۓ تھ
ے ہمارے تو وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ یہاں آکر ہمارے ساتھ اتنا سب کچھ ہوجاۓ گا میرے بیٹے کی زندگی میں ایک بہت بڑا سایہ تھا جو آج شادی کے بعد ہٹ گیا میں جانتی ہوں بیٹا اس وقت تم پر کیابیت رہی ہوگی
رفعت نے اتنا کہہ کر حریم کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے
دیکھو بیٹا میں تمھاری جنم دینے والی ماں نہیں ہوں پر تم سے ایک وعدہ کرتی ہوں میں
تمھیں ایک ماں سے زیادہ پیار کروں گیں تمھیں کبھی میرے گھر میں کوئی پریشانی ہو کوئی تکلیف ہو تم سب سے پہلے مجھے آکر بتاؤ گی ساس نہیں ماں سمجھ کے بلکہ ایک دوست سمجھ کر میں تم سے ایک وعدہ کرتی ہوں
تمھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گیں یہ وعدہ ہے تم سے میرا حریم اور امید ہے تم بھی ایک اچھی بیٹی بن کر دکھاؤں گی
حریم ابھی تک سر جھکاۓ بیٹھی تھی
جی ماں آپ فکر نہ کریں میں آپ کی ساری امیدوں پر پورا اتروں گیں
حریم نے اسی طرح سر جھکاۓ جواب دیا
ٹھیک ہے بیٹا اب تم آرام کرو
رفعت نے اٹھ کر حریم کے سر کا بوسہ لیا اور چلی
رفعت کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا حریم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ علیان تھا حریم نے نظریں جھکا لیں
علیان آکر حریم کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا
حریم
علیان حریم سے مخاطب ہوا
دیکھو حریم میں نا آج بہت نروس ہوچکا ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے سب کچھ اچانک ہوا امی کہتی ہیں مجھ پر ایک سایہ تھا جو شادی کے بعد ہی مجھ سے ہٹ سکتا تھا سچ بتاؤں تو میں بہت نروس ہوچکا ہوں مجھے پتا ہے تم نے بھی میرے لیے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لیا ہے میں تمھارا اس احسان کےلیے ہمیشہ شکر گزار رہوں گا
کہ آج میری زندگی تمھاری وجہ سے ہے مجھے شاید ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا پر اب شاید ہمیں ایک نئی زندگی کی شروعات کرنی چاہیے اب تک کیا ہوا کیوں ہوا شاید سب کچھ اچھے کےلیے ہی ہوا پر اب تم میرا آنے والی زندگی میں ساتھ دوگی نا حریم
ہم ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہیں گیں اور سب سے پہلی بات بھروسہ کیونکہ بھروسے کے بنا کوئی رشتہ ممکن نہیں اور مجھے پورا یقین ہے تم کبھی کچھ غلط نہیں کروگی میرے بھروسے پہ پورا اترو گی کیا تم ہمیشہ کے لیے میرا ہاتھ تھام کے رکھو گی علیان نے اپنا ہاتھ حریم کی طرف بڑھایا
دیکھیے مسٹر انیس ہم نے بہت سے ایسے کیس دیکھے ہیں جو بہت حیران کن ہوتے ہیں مگر اس کیس کو لے کر ہم الجھ سے گئے ہیں
انسپیکٹر افتخار نے چاۓ کا سیپ لیتے ہوۓ کہا
کیا مطلب انسپیکٹر صاحب کچھ بات کھل کر بتائیں
انیس نے کچھ نا سمجھتے ہوۓ کہا
دیکھیں مسٹر انیس ہمیں اب تک چار لاشیں ایسی ملی ہیں جو ہوتی تو نوجوان لوگوں کی ہیں مگر بالکل بوڑھی ہوچکی ہوتیں ہیں پوسٹ مارٹم کے مطابق ان کی باڈی سے ساری انرجی نکال لی جاتی ہے وہ بھی اس طرح کے کہ پورے جسم پر کوئی نشان کوئی انجکشن یا اائنسی ٹیکنیک استعمال کیے بغیر اور ایک ایسی لاش بھی ملی ہے جس کے پیٹ میں اتنے لمبے اور نوکیلے ناخن ملے ہیں جو ڈیایناے کے اس دنیا میں کسی جانور یا انسان کے نہیں ہوسکتے ہیں ہم نے اس کیس پر ریسرچ کےلیے لندن سے ایک خصوصی ایجنٹ کو خفیہ طور پر بلایا تھا مگر اس کی اپنی موت بہت بھیانک طریقے سے ہوگئی کہ کوئی خونی درندہ ہی ایسا کرسکتا ہے اس ایجنٹ کے جسم کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا
اسپیکٹر افتخار خاموش ہوگیا جبکہ انیس کو پوری بات سمجھ آچکی تھی اور وہ جان گیا تھا ان سب کہ پیچھے کس کا ہاتھ ہے
یہ کیس تو بڑا ہی خطرناک ہے آپ ایک کام کیجیے جو ناخن آپ کو ملے ہیں آج شام کو میرے لیب بھیجوا دیں میں جلد ہی بتا لگا لوں گا کہ وہ ناخن ہے کس کا
انیس کہہ کر کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی انسپیکڑ افتخار بھی کھڑے ہوگئے
ہاں میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں آپ کے یقین کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گیں آپ کا ساتھ دوں گیں اب آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے
حریم نے علیان کا ہاتھ پکڑ کر جواب دیا علیان اور حریم دونوں کے چہرے پہ مسکان آگئی ایک نئی مسکان
ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اور یہاں چاروں طرف سناٹا پھیلا ہوا تھا آسم پر چاند چمک رہا تھا تبھی سے ایک عجیب سی روشنی کی بہت بڑی کرن لگی جو اس تابوت پر پڑی اچانک سے وہ ایک پتھر سے عورت میں بدل گئی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں وہ آج ایک بہت لمبی نیند کے بعد جاگی تھی
اس نے اپنے دونوں ہاتھ تابوت پر مارے تابوت کا اوپر کا شیشہ ٹوٹ گیا اور وہ اڑ کر ہوا میں کھڑی ہوگئی اور اگلے لمثے چھلانگ لگا کے زمین پہ کھڑی ہوگئی اس نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں تو ان کی سیاہی ختم ہوگئی اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں اس کے پاؤں پیچھ کی طرف مڑ گئے اس کے کھلے ہوۓ بال ایک چوٹی میں تبدیل ہوگئے
میں آگئی ہوں بیگ خاندان واپس آگئی ہوں اب شروع ہوگی انتقام اور نفرت کی اصلی جنگ
ہاہاہا اس نے ایک زور دار قہقہ لگایا اور اپنے قدم آگے بڑھنے لگی مگر جیسے ہی شیشے کے پاس گئی اسے ایک جھٹکا لگا اور وہ پیچھے گرگئی
او تو یہ معمولی سا شیشہ مجھے روکے گا ایک روائن کے وہ اٹھ کر دوبارہ کھڑی ہوئی اور چند قدم پیچھے ہٹ کر بجلی کی رفتار سے بھاگتے ہوۓ آگے آئی اس بار وہ شیشے کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوۓ بھاگتی چلی گئی
وہ آزاد ہوچکی تھی
او بھائی بڑے خوش لگ رہے ہو لگتا ہے رات کافی اچھی گزری ہوں
ریان نے علیان کو مسکراتے دیکھ شرارت سے کہا
ویسے تمھیں دوسرے کے چہرے تاکنے کے بجاۓ پیکنگ کرنی چاہیے کیونکہ آج گھر واپس جانا ہے
علیان نے کہا
ہاں وہ تو ہے پر بھابھی جسگ گئیں ہیں یا نہیں
ریان نے پوچھا
جی بھابھی جاگ گئیں مگر دیور ابھی تک سوۓ ہوے ہیں شاید
حریم نے اونچا سا کہا تو ریان پیچھے مڑا جہاں حریم ہاتھ باندھ کر مسکرا رہی
او سوری بھابھی میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں
اچھا اب دیکھ لیا نہ اب اپنا سامان پیک کرلیں دیور جی پھر ہمیں گھر کےلیے نکلنا ہے
حریم نے کہا
اوکے بھابھی ابھی گیا
سب واپسی کےلیے نکل چکے تھے اور اس بار ایک گاڑی ایکسٹرا تھی ریان اور سارہ نے علیان اور حریم فرنٹ پہ تھے اور عائشہ بیک سیٹ پہ
تو بھابھی کیسے لگے آپ کو ہمارے بھائی
عائشہ نے حریم کو مخاطب کیا
ہاں بس ٹھیک ہی ہیں
حریم نے علیان کو تنگ کرنے کےلیے کہا
او اچھا تو اب میں بس ٹھیک ہی ہوں
علیان نے حریم کو دیکھے بنا ہی کہا
تو اور کیا اپنے آپ کو سپر مین سمجھتے ہیں
حریم نے کہا
نہیں سپر مین سے بھی بیسٹ ہوں میں تو
علیان نے تھوڑا چوڑا ہوکر کہا
بس بس زیادہ چوڑے نہ ہوں گاڑی سے باہر گر جائیں گیں
حریم نے کہا تو علیقن اور عائشہ دونوں ہنسنے لگے
تو اس کا مطلب ایک رات میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ کافی گھل مل گئے ہیں
عائشہ نے مسکراتے ہوۓ کہا
تبھی حریم کو ایسا لگا جیسے گاڑی چھت کے اوپر کچھ گرا ہو
مجھے ایسا لگا جیسے اوپر کچھ گرا ہو
حریم نے کہا
وہم ہوگا بھابھی
عائشہ نے کہا
ہاں شاید
حریم نے سوچا وہم ہی ہے۔
پتہ نہیں اس ڈائن کا چہرہ میرے دماغ سے کیسے غائب ہوگیا باقی سب تو اچھے سے یاد ہے بس یہ ڈوائن کا چہرہ بالکل دھندلا دھندلا سا یاد ہے
انیس نے دماغ پہ دباؤ ڈالتے ہوۓ سوچا
ایک بار اسپیکٹر افتخار انکل مجھے اس ڈائن کا ناخن بھیج دیں اس کے بعد اس ڈائن تک پہنچنا بہت آسان ہے
پر اس کا چہرہ کیوں میرے دماغ سے مٹ چکا ہے تبھی ڈور بیل بجی انیس جلدی سے مین گیٹ پر گیا تق سامنے ایک حوالدار کھڑا تھا
جی کہیے
انیس نے اس سے پوچھا
جی مجھے اسپیکٹر افتخار نے یہ ناخن دینے بھیجا ہے اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جس میں پانی تھا اور اندر ایک سات آٹھ انچ کا ناخن رکھا گیا تھا
انسپیکٹر نے کہا کہ آپ کو جلدی سے یہ دے کر واپس آنا ہے کیونکہ خونی نہاہت ہی شاطر ہے حوالدار نے پیکٹ انیس کو دیا اور چلتا بنا
انیس نے ڈور بند کیذ اور اندر آگیا
افتخار انکل نے کہا تھا ناخن کافی بڑے مگر یہ اتنے بڑے تو نہیں
انیس نے سوچا
نہیں یہ نہیں ہوسکتا نہیں ہوسکتا
سائرہ غصے سے چلاتے ہوۓ بولی
وہ جیسے ہی غار سے باہر آئی تھی اس کی چوٹی چھوٹے بالوں میں تبدیل ہوگئی اس کی آنکھیں نارمل ہوگئیں اور اس کے ناخن بھی نارمل ہوچکے تھے اور بار کوشش کرنے کےباوجود وہ کچھ نہیں کرپارہی تھی
میری طاقتیں نہیں جاسکتیں مجھے میرے اپنوں کو بچانا ہے انھیں اصلی خطرے کے بارے میں بتانا ہے
سائرہ نے بہت کوشش کی مگر وہ ڈائن نہیں بن پارہی تھی
اگر طاقتیں نہیں تو کیا ہوا میں پھر بھی وہاں جاؤں میں اپنا انتقام لےکر رہوں گیں
سائرہ غصے سے چلاتے ہوئے جنگل سے باہر کے راستے کی طرف بھاگنے لگی وہ ڈائن تھی اور اس کے بھاگنے کی رفتار بہت تیز تھی مگر آج وہ ڈائن نہیں تھی پر اس کا انتقام اور غصہ اسے بہت طاقت دے رہا کچھ دیر میں وہ جنگل سے باہر آگئی اور بھاگتے بھاگتے بیگ حویلی تک پہنچ گئی
سائرہ نے کچھ دیر رک سانس لیا اور بھاگ کے حویلی کے بڑے دروازے تک پہنچی جہاں دو چوکیدار کھڑے تھے
سس۔۔۔سنیے۔۔۔۔مم۔۔مجھ
۔ے رف۔۔۔رفعت بیگ سے ملنا
سائرہ کو بہت تیز سانس چڑھ گیا تھا
جی وہ تو کچھ دیر پہلے یہاں ڈے نکل گئے ہیں اسلام آباد کےلیے چوکیدار نے بتایا
کیا
سفید زہر Next Story
سائرہ نے حیرانی سے کہا
میڈم آپ کون اور آپ کی حالت خراب لگ رہی ہے میں پانی لاتا ہوں تبھی چوکیدار کی نظر سائرہ کے پاؤں پر پڑی اور وہ دنگ رہ گیا
سائرہ جنگل سے ننگے پاؤں بھاگ کر آئی تھی اور اس کے پاؤں لہولہان ہوچکے تھے
میڈم آپ کے پیر تو خون سے بھرے میں ابھی پانی لے کر آتا ہوں
چوکیدار پانی لینے گیا مگر سائرہ پھر سے ایک طرف بھاگنے لگی.
ثاقب پارٹی ختم ہونے کے بعد رات کو دو بجے نشے میں دھت ٹیرس پر آیا اور گرتے پڑتے ایک کرسی پر بیٹھ گیا
تبھی اسے ایک طرف ایک لڑکی دکھی جس کی پیٹھ ثاقب کی طرف تھی اس نے لال ساڑھی پہنی تھی اور اس کے لمبے گھنے بال چمک تھے وہ ہائی ہیلز سینڈلز میں تھی
اووو لال ساڑھی والی کون ہے رے تو
ثاقب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے ایک شرابی کی طرح کہا
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا ثاقب چلتے ہۓ اس کے پاس گیا
بتا نہ رے حسینہ کون ہے تو شرماتی کیوں ہے
ثاقب اس جے قریب جاکر پیچھے سے بولا اور اگلے لنحے وہ پیچھے مڑی تو ثاقب کا تو جیسے سارہ نشہ اتر گیا ہو
آنکھیں سفید کرکے یہ سائرہ کھڑی تھی
کیا ہوا جی آپ شرما گئے آؤ میرے پاس آؤ
سائرہ نے ہاتھ آگے بڑھایا
نن۔۔ نہیں تت
۔۔۔ تم مر گئی تھی لگ۔۔۔لگتا مجھے کچھ شیادہ چڑھ گئی
ثاقب خود کو جھنجھورتے ہوۓ بولا
سائرہ ثاقب کی طرف بڑھنے لگی ثاقب اپنے قدم پیچھے کرنے لگا
دد۔۔۔دور رہو مجھ سے میں بتارہوں
ثاقب نے پیچھے ہوتے ہوۓ انگلی دیکھاتے ہؤے کہا
سائرہ نے اپنی آنکھیں بند کرکیں کھولیں تو اس کے بال چوٹی میں بدک گئے اس کی لال ساڑھی کالی ہوگئی اس کے سینڈلز غائب ہوگئے اور پاؤں پیچھے کی طرف مڑ گئے اس کے چھوٹے سے ناخن نہایت لمبے نیلے ناخنوں میں تبدیل ہوگئے
سائرہ نے سر ہلایا اور اپنی چوٹی میں ثاقب کو جکڑ لیا
اور اوپر فضا میں اٹھا لیا
مم مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو
ثاقب کا سارہ نشہ ختم ہوگیا تھا
کبھی نہیں ایک موقع دیا تھا میں نے تم سب لوگوں کو ااکیس سال پہلے مگر نہیں لالچ اور دھوکہ تمھاری فطرت میں ہے
سائرہ غصے سے چلا کر بولی
مجھے معاف کردو معاف کردو تم جو کہو گی میں کروں گا مم معاف کردو مجھے
ثاقب نے گڑگڑاتے ہوۓ کہا
روئی میں بھی تھی گڑگڑائی میں بھی تھی پر تم میں سے کسی کو مجھ رحم نہیں آیا میں چلاتی رہی مگر تم نے مجھے تو کیا میرے معصوم پچوں کو ختم کردیا پر اب نہیں تم لوگ میرا بدلہ دیکھو گے ایک ڈائن کا ایک روائن کا انتقام اب تم سب لوگوں کی موت آچکی ہے
سائرہ نے غصے سے کہا اور اپنا ہاتھ آگے کیا سارہ کا ہاتھ لمبا ہتا چلا گیا سائرہ نے اپنے نوکیلے ناخن ثاوب کے سینے میں گاڑ دیے
ثاقب بہت بری طرح سے چلانے اور تڑپنے لگا سائرہ نے ثاقب کا دل نکالا اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر غائب ہوگئی ثاقب کی لاش ٹیرس سے نیچے گر گئی
Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام twist
انیس نے ناخن کتاب کے اوپر رکھا اور پھر اس پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا اور پھر آنکھیں کھول دیں
اب بتاؤ مجھے یہ ناخن جس ڈائن کا بھی ہے وہ ڈائن اس وقت کہاں پر ہے
انیس نے کتاب سے ہاتھ ہٹایا اور ناخن اٹھا لیا اور کتاب کو کھولا
او تو وہاں ہے یہ ڈائن
انیس نے
پڑھتے ہی کہا
مجھے جلدی سے وہاں جانا ہوگا اور اس ڈائن کو قید کرکے یہاں لانا پڑے گا
انیس نے من میں کہا اور ایک طرف رکھی ہوئی الماری سے ایک پانی کی شیشی ایک دھاگہ اور ایک تیرکمان لے لی
اب مجھے جانا ہوگا اس گھر میں
انیس لائبریری سے باہر آگیا
ثاقب کی موت کو آج تیسرا دن تھا
نہیں یہ کیا ہوا بھابھی کیا ہوگیا یہ وہ ڈائن کھاگئی میرے ثاقب کو
پورے بیگ خاندان کو صدمہ لگا تھا عروسہ ابھی بھی دھاڑے مارمار کے رو رہی تھی رفعت اسے سنبھال رہی تھی عائشہ تو باپ کی موت سے صدمے سے اپنے ہوش و حواس ہی کھوچکی تھی ریان بھی بری طرح صدمے میں تھا
علیان اور انور باقی کام سنبھالنے میں لگے تھے حریم اس اچانک موت سے بہت سہم اور ڈر گئی تھی کیونکہ اس کی شادی کے فنکشن کی رات ہی اس کا ایک سسر دنیا سے چلا گیا تھا انور کی بہن فائزہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ دبئی سے آگئی تھی
یہ لیں امی پانی پی لیں
حریم نے عروسہ کو پانی دیتے ہوۓ کہا
رفعت نے پانی کا گلاس پکڑا اور عروسہ کو پلایا
امی ایک بات پوچھوں
حریم نے تھوڑا جھجھک کر پوچھا
ہاں بیٹا پوچھو
رفعت نے پیار سے کہا
امی یہ عروسہ چاچی باربار کسے ڈائن کہہ رہی ہیں
کک۔۔کچھ نہیں بیٹا وہ ایسے تم نیچے جاؤ میں آتی ہوں
رفعت نے کہا
حریم کمرےسے باہر آگئی
ہونہہ کوئی بات تو ہے جو یہ سب چھپا رہے ہیں
حریم نے من ہی من کہا اور نیچے کی طرف چل دی
یہ تو بس شروعات ہے بیگ خاندان تمھیں تمھارے گناہوں کی سزا تو میں ایسے تڑپا تڑپا کردوں گی نا کہ تمھاری روح کانپ جاۓ گی تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ جب ایک روائن کا قہر گرتا ہے تو کیا ہوتا ہے اب تم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا کوئی بھی نہیں
سائرہ غصے سے چلا چلا کر بول رہی تھی
پر پہلے مجھے یہ پتا کرنا ہے کہ وہ ڈائن کون ہے جس نے اکیس سال پہلے میرے ساس سسر اور شوہر کو کھایا تھا اور اس کی سزا اکیس سال تک میں نے بھگتی اس کی وجہ سے میں نے اپنے بچے کھو دیے اور اس دن غار میں اس نے اس بڈھے کو بھی مار دیا تھا
ضرور وہ ڈائن انھیں میں سے کوئی ہے پر کون ہوسکتی ہے وہ
بابا جی کا فون نہیں لگ رہا ہے انھوں نے رو کہا تھا علیان کی شادی کے بعد وہ ڈائن ہمیشہ کےلیے پتھر بن جاۓ گی
رفعت نے باربار فون ملاتے ہوۓ کہا
کہیں آپ لوگوں نے شادی میں تو کوئی دیری تو نہیں کردی
فائزہ نے کہا
نہیں فائزہ میں نے بارہ بجنے سے پہلے خود شادی کرائی تھی علیان اور حریم کی
رفعت نے موبائل رکھتے ہوۓ کہا
تو پھر کیا پتا یہ کام ڈائن کا نہ ہو
فائزہ بولی
نہیں یہ کام ایک ڈائن کا ہی ہے تمھیں یاد ہےنہ پچیس سال پہلے اس نے بالکل اسی طرح سب کو مارا تھا
انور نے فائزہ سے کہا
تو اب ہم کیا کریں گیں وہ ڈائن یہاں آچکی ہے اور اس کا قہر ہم پر ٹوٹ پڑا تو
رفعت نے سہم کر کہا
بھابھی کیوں نہ ہم آج ہی یہ ملک چھوڑ کر چلیں جائیں
فائزہ نے کہا
کیا مطلب فائزہ پہلے تو گھر میں اتنا کچھ چل رہا ہے ہم کیسے۔۔
انور نے جواب دیا
نہیں انورجی فائزہ بالکل ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے
رفعت نے کہا
پر رفعت ہم کیسے جائیں گیں اور بچوں سے کیا کہیں گیں
انور نے کہا
اب وقت آگیا ہے کہ ہم انھیں سب سچ بتا ہی دیں
رفعت نے سنجیدگی سے کہا
کک۔۔کیا
فائزہ بولی
ہاں اب ہمیں انھیں سب بتائیں گیں چلو
رفعت نے کہا
کیا بات ہے امی آپ نے ہم سب کو یہاں کیوں بلایا ہے
علیان نے کہا
علیان حریم سارہ عائشہ اور ب
باقی سب یہاں موجود تھے
دیکھو علیان آج نہ ہم نے تم سب کو ایک بہت بڑا سچ بتانے کےلیے بلایا ہے
رفعت نے کہا
کیسا سچ ماں
سارہ نے پوچھا
ٹھیک ہے اب میری بات غور سے سنو
بات ہے آج سے اکیس سال پہلے کی جب ہمارے پاس اتنی دولت عیش کچھ بھی نہیں تھا ہماری زندگی بس معمولی سی ایک چھوٹے سے گھر میں گزر رہی تھی تمھارے پاپا لوگ تین بھائی تھے انور جی ثاقب اور سب سے چھوٹا ذیشان
ذیشان سب سے چھوٹا تھا اور لاڈلا بھی اس نے ضد کی کہ اسے شہر جاکے پڑھنا ہے ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں تھے مگر پھر بھی جیسے تیسے ہم نے اس کو بھیج دیا اور اس کے خرچے بھی اٹھانے لگے
مگر شہر جاکر ایک بہت امیر لڑکی سائرہ کو ذیشان سے پیار ہوگیا اور ذیشان کو اس سے وہ لڑکی ذیشان سے شادی کرنا چاہتی تھی اس کے ماں باپ اس دنیا سے گزر گئے تھے اور اسے اس کے ماموں نے پالا
تھا ہم نے ذیشان کی اس لڑکی سے شادی کرانے سے انکار کردیا کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ ذیشان شادی کے بعد اس کے ساتھ رہے بلکہ پوری فیملی کیونکہ وہ ایک پوری ہنسے خوشی فیملی چاہتی تھی جو اس کے ساتھ رہے
ہم اور امی ابو پہلے تو نہیں مانے پر آخرکار ہم نے اس کی اور ذیشان کی شادی کرا ہی دی اور اس کی بڑی سی حویلی میں چلے گئے اس نے شادی کے بعد اپنا تیس فیصد بزنس انورجی کے نام کردیا اور باقی ذیشان کے نام کردیا ہم بہت خوش تھے اس زندگی سے پر ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ لڑکی لڑکی نہیں ڈائن نکلے گی ڈائن
رفعت چپ ہوگئی
اور فائزہ نے بولنا شروع کردیا
ہاں اس ڈائن نے ہمارے ابو اور امی کو مار دیا اور ہم ہت تو جیسے صدمہ ٹوٹ پڑا ہم بہت روۓ ہمیں ابو کی لاش کے پاس ایک بہت بڑا بال ملا رفعت بھابھی نے اس بال کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ان کی ایک دوست زنوبہ جو کہ ایک ریدواشی تھی اس کو دیا اس نے ہمیں بتایا کہ یہ بال ایک ڈائن کا ہے تو ہمارے پیروں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی
ہم نے زنوبہ کو سائرہ کی تصویر دی تو اگلے دن ہی اس نے ہمیں بتادیا کہ سائرہ ایک ڈائن ہے
پر جیسے ہی ہم حویلی پہنچے ہم پر ایک اور قیامت ٹوٹی اس ڈائن نے ذیشان کو بھی مار دیا تھا ہم نے گورأ زنوبہ کو فون کرکے بلا لیا زنوبہ نے ڈائن سے سچ اگلوانے کی کوشش کی
مگر وہ نہیں مانی اور زنوبہ نے ایک گلاس میں پانی دم کرکے جیسے ہی اس پر پھینکا وہ چلاتی ہوئی دیوار پر چڑھ گئی اس کے بال ایک بہت لمبی چوٹی میں بدل گئے تھے اس کی آنکھیں سفید اور ناخن نوکیلے اور لمبے نیلے ہوگئے تھے
زنوبہ نے کچھ دیر کےلیے اس ڈائن کو بالکل بےبس کردیا وہ دیوار سے نیچے گرگئی انوربھائی اور ثاقب بھائی اس کو گھسیٹ کر حویلی سے باہر لے آۓ مگر وہ اپنا جرم نہیں مان رہی تھی اور بس چلاۓ جارہی
میں نے کچھ نہیں کیا
کچھ نہیں کیا
اور پھر انور بھائی اور ثاقب نے اس ڈائن کو ایک پیڑ کے ساتھ باندھ دیا اور اس کے چاروں طرف زنوبہ کہ کہنے پر موم بتیا رکھ کر انھیں روشن کیا اور پھر ہم نے اس ڈائن کو جلا کر اسے پتھر کا بنا دیا کیونکہ ڈائن کبھی نہیں مرتی پر اس ڈائن کا سایہ جاتے جاتے علیان پر پڑ گیا
فائزہ لبا سانس لے کر رک گئی
اور رفعت نے بتانا شروع کردیا
اس کے بعد اس پتھر کی ڈائن کو تابوت میں بند کرکے اس کو گاؤں کے پیچھے جنگل میں ایک غار کے اندر گھڑا کھود کر اس تابوت کو وہاں دفن کردیا پر اس ڈائن کا سایہ میرے علیان پر پڑ چکا تھا اور ڈائن ہمیشہ کےلیے پتھر کی نہیں بنتی
اور اس ڈائن کا سایہ ہٹانے کےلیے ہمیں حریم سے علیان کی شادی کرانا پڑگئی مگر وہ ڈائن پھر بھی واپس آگئی اور اس نے ثاقب کی جان لےلی
رفعت چپ ہوگئی
سب بات کو بڑے غور سے سن رہے تھے اور حریم سمیت کسی کو یقین نہیں آرہا تھا
پر اس سب پر یقین کرنا بہت ہی مشکل ہے
حریم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
ہاں پر یہ سچ ہے
علیان بولا
کیونکہ مجھے بھی ایسی ہی عورت اپنے خواب میں دیکھائی دیتی ہے جو میں نے ریان سارہ اور عائشہ کو بتایا ہے
علیان نے کہا
تو اب ہم کیا کریں گیں
عائشہ نے کہا
وہی جو میں چاہوں گیں سب اس آواز کی طرف مڑے تو پیچھے سائرہ کھڑی تھی
رفعت فائزہ اور انور کے تو رنگ ہی اڑ گئے جب کہ باقی سب آنکھیں پھاڑ کہ دیکھ رہے تھے کہ یہ کون ہے
تم کون ہو
علیان نے پوچھا
وہی ڈائن جس کے بارے میں تمھاری ماں تمھیں بتا رہی تھی
سائرہ نے کہا
کک۔۔کیوں آ۔۔۔آئی ہو تم
رفعت مشکل سے بولی تھی
میری سوچ سے بھی زیادی کمیںنے نکلے تم لوگ تو
سائرہ چلتے ہوۓ رفعت کے پاس آئی
ساری بات تو بتادی یہ بھی بتا دیتی کہ اس ڈائن کے دو بچے بھی تھے اور انھیں بھی تم بےرحموں نے ختم کردیا
سائرہ نے حقارت سے کہا
کیا بکواس کررہی ہو تم اقر تم اندر کیسے آئی
علیان نے غصے سے کہا
چپ رہو تم تو
سائرہ نے چلا کر کہا
ہاں بتاؤ نہ انھیں میرے بچوں کو کیسے بےرحمی سے ختم کردیا تھا اور تم لوگوں نے تو اسے ہی مار دیا جو تمھاری مدد کےلیے آئی تھی زنوبہ۔۔۔
تبھی سائرہ کو لگا جیسے اس کی طاقتیں جارہی ہوں
او نہیں مجھے اس طرح یہاں نہیں آنا چاہیے تھا اب میں کیا کروں
سائرہ نے من ہی من کہا
مجھے ان سب کے دماغ سے وہ لمحہ مٹادینا چاہیے جب میں یہاں آئی تھی
سائرہ نے گنگنانا شروع کردیا
سب ایک جگہ جم گئے سب کی پیشانی سے کالا سا دھواں نکلا اور سائرہ کے پاس آگیا سائرہ غائب ہوگئی اور سب واپس ٹھیک ہوگئے
یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ کیوں میری طاقتیں آ جا رہی ہیں
سائرہ ایک بہت بڑی بلڈنگ کے اوپر کھڑی تھی
تبھی ایک بہت بڑا کوا اڑتا ہوا آیا یہ کوا عام کوؤں کی نسبت بہت بڑا اور اس کی چونچ چھوٹی تھی کوا سائرہ کے سامنے فضا میں رک گیا
کال کوے تم
سائرہ اسے دیکھتے ہی بولی
ہاں میں راوئن
کال کوے نے بولا تو انسانی زبان سنائی دی
تم یہاں کیوں آۓ ہو
سائرہ نے پوچھا
میں تمھیں یہ بتانے آیا ہوں روائن کہ اس وقت ڈائن نگری کی راوئن صرف تم ہی ہو اور تم جادو نگری کی اگلی ملکہ بنو گی مگر تم یہاں انسانوں کی دنیا میں کیا کررہی ہو
کال کوے نے کہا
تم اچھی طرح جانتے ہو کال کوے مجھے ملکہ بننے کا کوئی لالچ نہیں اور میں اپنی زندگی کا ایک مقصد پورا کرکے ڈائن نگری آجاؤں گیں
سائرہ نے جواب دیا
ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی میرا فرض تھا تمھیں بتانا کائیں کائیں
کال کوے نے کائیں کائیں کرتے ہوۓ کہا
مجھے یہ بتاؤ میری طاقتیں کیوں نہیں صحیح طرح سے میرا ساتھ دے رہیں
سائرہ نے پوچھا
وہ اس لیے روائن کیونکہ تم نے کئی سالوں سے کسی انسان کو نہیں کھایا اور نہ کسی کا خون پیا اگر تم طاقتور ہونا چاہتی تو یہ سب کرنا پڑے گا
کوے نے جواب دیا
نہیں میں یہ نہیں کرسکتی کیونکہ ذیشان سے نکاح کے وقت میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اب انسانوں کی طرح رہوں گیں اور اپنی طاقتیں ختم کردوں گیں
سائرہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا
تو پھر اب تمھیں اپنی طاقتوں کی کیا ضرورت پڑ گئی
کال کوے نے سوالیہ لہجے سے کہا
کیونکہ مجھے اپنا بدلہ لینا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے میری زندگی اجاڑ دی تھی میرا سب کچھ ختم کردیا
سائرہ نے نفرت سے کہا
تو پھر انھی میں سے کسی کو مار کر اس کی طاقت کھالو
کال کوے نے مشورہ دیا
شاید تم صحیح کررہے ہو
سائرہ نے مسکرا کے کہا
ٹھیک میں چلتا ہوں کائیں کائیں
کال کوا کہہ کر اسی طرف واپس اڑ گیا جس طرف سے آیا تھا
تو اب ہم کیا کریں گیں
عائشہ نے پوچھا
اب ہم میں سے کوئی بھی اس گھر سے باہر نہیں جائے گا کیونکہ ہم نے گھر کے چاروں طرف ایک حصار بنادیا ہے جس سے وہ ڈائن گھر کے اندر آسکے گی
رفعت نے جواب میں کہا
مگر کب تک امی کب تک ایسا رہے گا
علیان نے کہا
تب تک جب تک شاہ صاحب چلہ کاٹ کر واپس نہیں آتے ان کے واپس آتے ہی ڈائن کا سایہ ہمیشہ کےلئے ختم
انور نے کہا
اب تم سب جاسکتے ہو
فائزہ نے کہا
کیا لگتا ہے بھابھی آپ کو کہ یہ بچے ہماری بات مانیں گیں
فائزہ نے شکی لہجے سے کہا
مان تو لیں گیں بس تم یہ دھیان رکھنا کہ پوری حقیقت کسی کو نہیں پتا چلنی چاہیے
رفعت نے جواب دیا
ٹھیک ہے بھابھی
ارے شاہ صاحب آپ اتنی جلدی آگئے آپ تو کل آنے والے تھے نا
رفعت نے شاہ صاحب کو ادیکھ کر دوپٹہ اوڑھتے ہوۓ کہا
ہاں بھابھی شاہ صاحب کل کے بجاۓ ہمآج ہی آگئے اپنا کام مکمل کرکے
فائزہ نے کہا
میں یہ بتانے آیا ہوں کہ اس گھر پر ایک نہیں دو دو ڈائنوں کا سایہ ہے
شاہ صاحب نے کہا
کیا۔۔
Dayyan ka intqam/ڈائن کا انتقام (ڈائن اور عامل کا مقابلہ)
رفعت اور فائزہ نے یک زبان بولا
کیا مطلب شاہ صاحب دو دو ڈائنیں
رفعت کے تو رنگ اڑ گئے
ہاں رفعت بیٹا سارہ کا اس گھر پہ سایہ نہیں صرف اس گھر سے انتقام ہے ثنا اور بابا کو مارنے والی ڈائن کوئی اور ہے کیونکہ سائرہ کسی بےقصور کی جان نہیں لے سکتی
شاہ صاحب نے واضح طور پہ بتایا
کیا مطلب شاہ صاحب ڈائن ایک ہی ہے سائرہ اور بےقصوروں کی جان کیوں نہیں لے سکتی وہ تو اپنے شوہر کو ہی کھا گئی
رفعت نے تیزتیز کہا
نہیں سائرہ نے کسی کی جان نہیں لی تھی وہ بےقصور تھی اصلی ڈائن کوئی اور ہے میں نے اپنے پورے علم سے یہ معلوم کیا ہے
شاہ صاحب نے کہا
کیا بھابھی یہ کیسے ہوسکتا ہے
فائزہ نے سرگوشی کرتے ہوۓ کہا
تت تو شاہ صاحب آپ کو پتا ہے وہ ڈائن کون ہے
رفعت نے پوچھا
نہیں اس کے بارے میں پتا کرنا آسان نہیں کیونکہ وہ کوئی ثبوت یا جادو نہیں چھوڑتی
شاہ صاحب نے کہا
تو اس ڈائن کا پتا ہم کیسے چلائیں گیں
فائزہ نے پوچھا
میں کل شام کو پوری تیاری سے آؤں گا آپ کی اس ڈائن سے پیچھا چھوٹ جاۓ گا پر تب تک کوئی سے باہر نہیں جانا چاہیے یہ خیال رکھنا
شاہ صاحب نے سختی سے کہا
ٹھیک ہے شاہ صاحب ہم ایسا ہی کریں گیں
رفعت نے کہا
تو اس کا مطلب سائرہ بےقصور تھی
انور پوری بات سننے کے بعد بولا
ہاں بھائی ہم سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوگئی سائرہ کے باربار کہنے کے باوجود ہم نے اس پر یقین نہیں کیا
فائزہ نے ندامت سے کہا
ہاں انو جی کتنا چلائی گڑگڑائی تھی بار بار کہہ رہی تھی ڈائن کوئی اور ہے پر ہم نے یقین ہی نہیں کیا
رفعت نے کہا
ہاں رفعت ہمیں تو زنوبہ نے بھی کہا تھا کہ اس کو شک ہے سائرہ بےقصور ہے انور نے کہا
مجھے لگتا ہم نے اس کے ساتھ غلط کیا ہمارے پاس سب کچھ اسی کی ہی وجہ سے تو ہے ورنہ پہلے ہماری حثیت ہی کیا تھی
فائزہ نے کہا
اب جو ہوگیا سو ہوگیا اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں
انور نے کہا
ہاں ہمیں اس سے معافی مانگ لینی چاہیے
رفعت نے کہا
کیا وہ ہمیں معاف کردے گی
فائزہ نے پوچھا
شاید۔۔۔
رفعت کچھ بولنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کے چپ ہوگئی
انیس نے ایک بہت بڑے بنگلہ کے سامنے گاڑی روک دی
روشنی اس بنگلے میں گئی ہے مطلب وہ ڈائن اس وقت اسی گھر میں ہے
انیس نے من ہی من کہا اور گاڑی سے اترا
اپنا سارا سامان احتیاط سے لیے اور بنگلے کا جائزہ لینے لگا
بیگ سٹیٹ مینٹ
انیس نے بورڈ پڑھا
اس کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا یہاں کوئی اچھی خاصی فیملی رہتی ہے
انیس آگے گیا تو گیٹ پر دو گارڈز کھڑے تھے
سنیے یہاں کوئی ثاقب بیگ رہتے ہیں
انیس نے ایک گارڈ سے پوچھا انیس نے پیچھے بورڈ کے نیچلے حصے پی
پہ لکھے نام پڑھ لیے تھے اور اب اندر جانے کے لیے یہی طریقہ تھا
گارڈ نے انیس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا
ہاں ان کا تو پانچ دن ہوۓ چھت سے گرنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے
گارڈ نے کہا
او گارڈ انیس نے سوچا اور پاکٹ سے ایک کارڈ نے نکالا
میں سی۔بی۔آئی آفیسر انیس ہوں ان کے مارڈر کی ریسرچ کے لیے آیا ہوں
انیس نے کارڈ دکھاتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے آپ چاہیے
واؤ یار یہ اتنا ہینڈسم لڑکا کون ہے
سارہ نے انیس کو دیکھتے ہی عائشہ سے پوچھا
پتا نہیں یار میں تو خود اسے گھر میں پہلی بار دیکھ رہی ہوں
عائشہ نے کہا
ہاں پاپا سے کچھ بات کررہا ہے
عائشہ نے کہا
مجھے بھی نظر آرہا ہے
ہاں مسٹر انور سر میں ہوں سی۔بی۔آئی پروفیسر انیس
انیس نے کہا
ثاقب بیگ آپ کے کیا لگتے تھے
انیس نے پوچھا
جی میں ان کا بڑا بھائی ہوں
انور نے بتایا
آپ کی کسی سے کوئی بزنس وغیرہ یا ذاتی دشمنی ہے یا آپ کے بھائی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی وغیرہ
انیس نے تشویش کرتے ہوۓ پوچھا مگر اس کی نظریں یہاں وہاں دوڑ رہی تھی
نہیں ایسا تو کچھ نہیں تھا ثاقب کے تو بہت اچھے تعلقات تھے اب سے ہاں کبھی کبھی شراب پی لیتا تھا تھوڑی
انور نے جواباً بتایا
اتنے میں رفعت اور فائزہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئیں اور ان کے پیچھے سارہ عائشہ
یہ کون
انیس نے پیچھے اشارہ کیا
انور پیچھے مڑا یہ میری وائف ہیں رفعت بیگ اور یہ میری چھوٹی بہن فائزہ بیگ میری بیٹی سارہ اور بھتیجی عائشہ
انور نے سب کے بارے میں بتایا
انیس نے رفعت کو غور سے دیکھا
ایسا لگتا ہے انھیں میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
انیس نے غور سے دیکھتے ہوۓ دماغ پہ زور ڈالا
رفعت فورأ ایک طرف ہوئی جیسے چھپنے کی کوشش کی ہو
دیکھیے مسٹر انیس ہمیں تو ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ یہاں کوئی سی۔بی۔آئی آفیر آرہے ہیں
دراصل ہمارا کام ہی کچھ ایسا ہے کہ ہر جگہ بغیر بتاۓ پہنچنا پڑتا ہے
انیس نے کہا
تو آپ اکیلے آگئے وہ بھی ان معمولی ہتھیاروں کے ساتھ
انور نے شکی لہجے میں کہا
نہیں یہ ہتھیار کتنے قیمتی ہیں آپ سوچ نہیں سکتے
انیس نے مسکراتے ہوۓ کہا
جی
انور نے اثبات میں سر ہلایا
مجھے آپ کے پورے گھر کو دیکھنا ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو
انیس نے کہا
جی بالکل ضرور
انور نے سائیڈ پہ ہوتے ہوۓ کہا انیس سامنے سیڑھیوں کی طرف چل دیا اور اس کے ساتھ انور بھی
اب ہوگا اس گھر پر میرا آخری وار ایک ہی وار میں سب کو ختم کردوں گیں میں
سائرہ نے بلند آواز میں کہا
سائرہ نے بلڈنگ سے چھلانگ لگادی اور اگلے لمحے وہ زمین پہ تھی
نن نہیں یی۔ی۔ی۔ی
سائرہ کو ایک بہت اونچی چیخ سنائی دی سائرہ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی جس نے سائرہ کو چھلانگ لگاتے دیکھ لیا
تم نے چالیس منزلہ عمارت سے چھلانگ لگائی اور تت تم بالکل ٹھیک ہو
لڑکی پسینے صاف کرکے کپکپاتے ہوۓ بولی
سائرہ نے فوراً آنکھیں بند کیں اور دھوئیں میں تبدیل ہوکے غائب ہوگئی لڑکی بےہوش ہوکر گر گئی
یہ دیوار پہ پاؤں کے نشان کیسے وہ بھی الٹے قسم کے
انیس نے انور کے روم کے سامنے دیوار پر دیکھ کر کہا انور اور رفعت ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے کہ یہ سب کب ہوا
انور اور رفعت ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے کہ یہ سب کب ہوا کیونکہ وہ بھول چکے تھے
کہ سائرہ یہاں آئی تھی
او تو واقعی ڈائن اسی گھر میں پر کیا ان لوگوں کو پتا ہے اس بارے میں انیس نشانات کو غور سے دیکھتے ہوۓ بولا
کہیں یہاں کوئی ڈائن وغیرہ تو نہیں ہے نا
انیس نے کہا تو رفعت اور انور جیسے اچھل ہی پڑے
مم۔مطلب
انور نے پوچھا
کچھ نہیں میں کل آؤں گا میری ڈیوٹی کا ٹائم ختم ہوگیا ہے
انیس نے ہینڈ واچ دیکھتے ہوۓ کہا
جب تمھیں منع کیا تھا کہ گھر سے باہر مت جانا تو کیوں گئی تم
کنول کے گھر آتے ہی فائزہ اس پر برس پڑی
سوری امی مجھے وہ ایک فرینڈ سے ملنا تھا
کنول نے شرمندگی سے کہا
ارے کیا فائزہ بچی ہے وہ کیوں غصہ کررہی ہے
رفعت نے فائزہ کو کہا
بھابھی منع کیا تھا نہ اس کو پھر بھی یہ باہر گئی اب پوچھیے اس سے کہ یہ بےہوش کیسے ہوئی۔تھی
فائزہ نے کہا
کیا بےہوش
رفعت حیرانگی سے بولی
ہاں بےہوش وہ تو اچھا ہوا سارہ کی دوست نے اسے پہچان لیا اینڈ فون کرکے بتایا اور علیان اسے گھر لے آیا
امی مجھے معاف کردیں میں نے آپ کی ڈائن والی بات نہیں مانی پر آج میں نے سچ میں اسے دیکھا
اور پھر کنول نے ساری بات بتا دی
دیکھا بھابھی وہ ڈائن بے گناہ نہیں ہے آج اس نے میری بچی کو ڈرایا اگر وہ ہم سے بدلہ لینے آئی ہے تو ہمارے بچوں نے اس کا کیا بگاڑا
فائزہ نے رفعت سے کہا
پر فائزہ اتفاق بھی تو ہوسکتا ہے نہ کیا پتا وہ اس بلڈنگ پر پہلے سے ہو ویسے بھی ڈائن اونچی جگہوں پر رہتی ہیں
رفعت نے کہا
نہیں رفعت مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب اتفاق ہے انور نے کہا
مگر کوئی ڈائن کا اصلی روپ دیکھ لے تو وہ زندہ نہیں رہتا پر سائرہ نے ایسا کچھ نہیں کیا اور پھر وہ کنول اپنے دشمن کے بچی کو زندہ رکھے گی
رفعت نے دلیل دی
آخر اس گھر میں ہوکیا رہا ہے پہلے اچانک سے یہ لوگ شادی کروا دیتے ہیں کہ سایہ ختم ہوجاۓ پھر ایک سائن کی کہانی بتاتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا یہاں ہوتا کیا ہے اور علیان بھی مجھے کچھ نہیں بتا رہا
حریم عالیہ سے فون پر بات کررہی تھی
دیکھو حریم تم زیادہ کنفیوز نہ ہو ہوگا ان کے ساتھ کچھ ایسا اور ڈائن کے بارے میں جو کچھ انھوں نے کہا وہ سچ ہے کیونکہ اکیس سال پہلے پورے گاؤں کے سامنے انھوں نے اسے جلایا تھا امی کو بھی اس بات کا پتا ہے بس تم دھیان سے رہنا اور زیادہ ٹینشن نہ لو اب ٹھیک ہوجاۓ گا
عالیہ نے دوسری طرف سے کہا
ہاں عالیہ شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو
حریم نے کہا
تبھی تیز تیز قدموں کی آواز آئی
عالیہ میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں
حریم نے جلدی سے کہا
مگر حریم۔۔
عالیہ کے کچھ کہنے سے پہلے حریم نے کال کاٹ دی اور آہستہ سے کمرے سے باہر نکل
اور دائیں طرف مڑی حریم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے ہی رہ گیا
سامنے ایک بہت لمبی چوٹی لہرا رہی تھی جو رفعت کے کمرے سے باہر آرہی تھی
ات۔۔اتنے لمبی چوٹی ام۔۔امی کے کمرے سے باہر مطلب امی یا ابو کہیں کسی مصیبت میں تو
نن۔نہیں تبھی چوٹی دھواں بن گئی
حریم فورأ رفعت کے کمرے کی طرف بھاگی حریم جیسے ہی رفعت کے کمرے میں گئی دیکھا کہ رفعت تو صحیح سلامت آئینہ کے سامنے کھڑی اور کمرے میں کوئی نہیں تھا
ام۔۔امی میں نے وہ یی۔۔یہاں
حریم اندر جاتے ہی ہڑبڑاتے ہوۓ بولی
کیا ہوا حریم بیٹا تم اتنی پریشان کیا ہوا اب خیریت ہے نا
رفعت حریم کو اس طرح دیکھ کر خود ڈر گئی
میں نے وہ آپ کے کمرے سے حریم نے ساری بات بتا دی
ارے نہیں بیٹا یہاں تو کوئی نہیں تھا میں ابھی واش روم سے باہر آئی ہوں تمھیں کچھ وہم ہوا ہوگا ویسے بھی اس گھر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو یہ سب ہونا ہی ہے تم جاؤ جاکر آرام کرو
رفعت نے حریم کو سمجھایا
ٹھیک ہے امی میں چلتی ہوں
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ میرا وہم نہیں تھا اچھی طرح دیکھا تھا میں نے
حریم نے کمرے کی طرف آتے ہوۓ سوچنے لگی
میں نے کل سنا تھا جب شاہ صاحب آۓ تھے انھوں نے خود کہا تھا یہاں ایک نہیں دو دو ڈائن ہیں اب مجھے ہی کچھ کرنا ہے
یہ کیا بچگانہ حرکت کی ہے تم نے انیس
ہاں پاپا پر ڈائن اس گھر کے اندر ہے میں نے خود وہاں ڈائن کے پیروں کے نشان دیکھے ہیں
انیس نے حبیب کو سمجھانے کی کوشش کی
پر انیس ایک فیک کارڈ اور سی۔بی۔آئی آفیسر بننے کی کیا ضرورت تھی کتنی عزت ہے شہر ہماری اگر کسی کو پتا چل گیا تو کیا رہ جاۓ گا
حبیب نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ آرام سے کہا
جی پاپا پر اس وقت ڈائن کو پکڑنا ضروری ہے عزت بعد میں پہلے ہم ریدواشی ہیں اور یہ بات آپ نے ہی سکھائی ہے مجھے
پر تمھارا طریقہ ٹھیک نہیں تھا اب میں ان لوگوں سے بات کرکے سب سچ بتا دوں گا
حبیب نے کہا
پاپا وہ ڈائن ایک انسان کی جان لے چکی ہے
کیا ایک انسان کی جان
ہاں پاپا مسٹر ثاقب بیگ کو رات وقت دل نکال کر ان کی لاش کو ٹیرس نیچے پھینکا گیا اور اس طرح وار ڈائن ہی کرتی ہے
او ایم جی پھر تو کچھ کرنا پڑے گا
حبیب نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا
ساری تیاریاں ہوگئیں ہیں نا فائزہ
رفعت نے فائزہ سے کہا
ہاں بھابھی جی جو کچھ شاہ صاحب نے کہا تھا سب کچھ آگیا ہے اور کل سے پھر کوئی بھی گھر سے باہر نہیں گیا
فائزہ نے تسلی بتایا
اور عروسہ۔۔
ہاں بھابھی وہ ںیچاری تو صدمے میں ہے ابھی تک کسی سے بات تک نہیں کرری خود کو کمرے میں قید ہی کرلیا ہے
فائزہ نے بتایا
ہاں تم جاؤ اس سے بات کرو کچھ تیار کرو شاہ صاحب بس آتے ہونگیں تب تک میں حریم کو دیکھ آؤں
رفعت نے کان میں بالی پہنتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے بھابھی فائزہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی
شاہ۔صاحب آپ کے پاس یہ بین جیسی چیز
انور نے بین جو تعجب سے دیکھتے ہوۓ پوچھا
کیسی
شاہ صاحب اپنے تین مریدوں کے ساتھ آۓ تھے شاہ صاحب اپنے ساتھ بڑا لکڑی کا صندوق لاۓ تھے جس میں وہ اپنا سامان لاۓ تھے
عروسہ کو چھوڑ کر سارے لوگ ہال میں ایک طرف کھڑے تھے شاہ صاحب ہال کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا حصار باندھ کر مریدہ کے ساتھ بیٹھے تھے
یہ بین نہیں انور صاحب ڈائن دھن ہے
شاہ۔صاحب نے جواب دیا
ڈائن دھن مطلب
انور نے کچھ نہ سمجھتے ہوۓ پوچھا
یہ ایسی دھن ہے جس کے بجاتے ہی ہر وہ ڈائن یہاں کھینچی چلی آئے گی جو پہلے اس گھر میں آچکی ہے
واہ ڈائن ہے کہ ناگن
حریم نے کہا
او پھر تو وہ گانا بھی گاۓ گی
میں تیری دشمن تو میرا
سارہ نے ہنستے ہوۓ کہا
رفعت نے سارہ کو گھورا
یہ سرخ راکھ لو اور اپنے چاروں طرف حصار بنا کے اس میں کھڑے ہوجاؤ کچھ بھی ہو باہر مت نکلنا اس سے
شاہ صاحب نے صندوق ایک پوٹلی نکالی
جی شاہ۔صاحب علیان نے آگے بڑھ کر پوٹلی لےلی
لو صندور بھی آگیا
سارہ نے مزاق اڑایا
شاہ صاحب نے آنکھیں بند کی ڈائن دھن اٹھائی اور بجانا شروع کردی اس میں سے ایک بہت ہی کشش جیسی آواز نکل رہی تھی
واؤ وٹ آ بیوٹیفل میوزک
سارہ نے کہا
رفعت نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
________________سائرہ عمارت پر ہی بیٹھی تھی کہ اس کے کانوں میں ایک دھن بجنے لگی
سائرہ نے کانوں پہ زور سے ہاتھ رکھ لیے
نن نہیں یہ ڈائن دھن کون بجا رہا ہے او نہیں یہ دھن مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے
سائرہ اپنے کانوں پہ ہاتھ دباتے ہوئے بولی تبھی سائرہ بلڈنگ سے نیچے زور سے زمین پر گر گئی مگر وہ ڈائن تھی اس لیے اسے کچھ نہیں ہوا سائرہ کی چوٹی اب لمبی ہوتی جارہی تھی ناخن بےحد کالے اور نوکیلے اور آنکھیں ڈارک ہوگئیں
نہیں میری آنکھیں سفید ہونے کے بجاۓ سنہری ہوگئیں مطلب مجھے ہر حالت میں جانا پڑے گا سائرہ زمین پہ لوٹ رہی تھی
سائرہ نے ایک بہت بڑی چیخ ماری اور کھڑی ہوگئی
بلا رہے ہیں نہ مجھے وہ لوگ تو آج ہی ان سب کا قصہ تمام کردوں گیں آج سب کا حساب لوں گیں میں آج میرا میرے شوہر میرے بچوں سب کا انتقام لوں گیں میں ایک ہی وار میں سب کو ختم کردوں گیں میں تم لوگوں نے ایک ڈائن کو نہیں روائن کو للکارا ہے اور اس کا حساب تو تمھیں دینا ہی پڑے گا آرہی ہوں میں تمھاری موت بن کر
شاہ صاحب کے مرید بھی اب دھن بجانا شروع ہوگئے تھے
تبھی حریم کی نظر رفعت پر پڑی رفعت کو جیسے چکر آرہے تھے رفعت گرنے والی تھی کہ حریم نے آگے بڑھ کے رفعت کو تھام لیا سب رفعت کی طرف متوجہ ہوۓ
کیا ہوا امی
علیان نے پوچھا
کچھ نہیں تھوڑی کمزوری سی ہورہی ہے دیر رات تک جاگتی رہی تھی میں پانی پینے جاتی ہوں
رفعت نے کہا
چلیے امی میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں حریم نے کہا
نہیں بیٹا تم رکو اسی حصار میں سے باہر نہ نکلنا میں آتی ہوں
رفعت مسکرا کر کچن کی طرف چلی گئی
شاہ صاحب کے عین سامنے دھواں سا ہواں اور
دیکھتے ہی دیکھتے دھواں ایک عورت میں تبدیل ہوگیا
سائرہ
فائزہ منہ سے بے اختیار نکلا
سب ایک بار اسے دیکھ کر ڈر گئے
سارہ اور عائشہ حریم سے چمٹ گئی جبکہ کنول فائزہ کو
بھابی یہ اتنی خوب۔۔۔خوبصورت یہ ڈائن ت۔۔تو نہیں لگ رہی
عائشہ مشکل سے بولی
سائرہ کی چوٹی اب لہرانے لگی اس کے ناخن لمبے نوکیلے ہوگئے پاؤں الٹے ہوگئے
لل لو بن گئی ڈائن
سارہ بولی
حریم نے سارہ اور عائشہ کا ہاتھ مضبوطی پکڑ لیا
رک جاؤ شاہ
سائرہ نے اونچی آواز میں کہا مگر شاہ صاحب اپنی دھن اور تیز بجاتا جارہے تھے
میں نے کہا رک جاؤ
سائرہ چلائی مگر شاہ صاحب تو جیسے کچھ سن نہ رہے ہو اچانک سے سائرہ کی چوٹی کو آگ لگ گئی سائرہ نے اپنے دونوں ہاتھ زور سے کان پہ دبا لیے اور زمین گر گئی سائرہ چلانا چارہی تھی پر اس کی آواز گلے سے باہر نہیں آرہی تھی سائرہ درد سے تڑپنے لگی
یہ امی کہاں رہ گئیں ابھی تک آئیں کیوں نہیں
حریم نے اس طرف دیکھا جس طرف رفعت گئی تھی
پاپا یہ شاہ صاحب رک کیوں نہیں رہے وہ کتنی تکلیف میں ہے
علیان نے انور سے دھیمے سے کہا
بیٹا وہ ڈائن ہے تمھیں نظر نہیں آرہا اور شاہ صاحب اسے ختم کردیں گیں آج
انور نے بھی دھیمی آواز میں کہا
تبھی سائرہ نے سارہ کو دیکھا ایک لمحے کے لیے جیسے وہ اپنا درد بھول گئی اس کی آنکھوں میں ایک چمک آگئی
بھابھی یہ مجھے کیوں دیکھ رہی ہے اور اس کے بالوں کو آگ لگی تو جل کیوں نہیں رہے
سارہ نے حریم سے سرگوشی کی
تبھی شاہ صاحب کے عین سامنے سائرہ کے پیچھے دھواں سا اٹھا اور ایک دھماکہ جیسی خوفناک آواز ہوئی پورا گھر جیسے ہل سا گیا سب گرتے گرتے بچے سارہ عائشہ اور کنول زور سے چلائیں یہ کیا ہوا مما کنول فائزہ سے ڈر کے چمٹ گئی
اب سائرہ کے پیچھے ایک اور عورت کھڑی تھی سب اسے دیکھ کر حیران رہ گئے
اس نے کالی ساڑھی پہن رکھی تھی مگر ایک بڑی چادر سے چہرے پہ بہت بڑا گھونگھٹ تھا وہ اپنا چہرا چھپا رہی تھی اس کے ناخن بھی سارہ کی طرح بہت نوکیلے تھے مگر وہ بہت میلے کچیلے اور ان پہ خون لگا ہوا تھا اس ڈائن کے پاؤں بھی الٹے تھے
یہ دھن بجانا بند کر بڈھے
وہ ڈائن بھاری مگر بہت خوفناک آواز میں بولی جیسے اس نے اپنی آواز بدلی
شاہ صاحب دھن بجاتے جارہے تھے
تو نے سنا نہیں کیا میں نے کیا کہا روک اسے روک اسے مجھے سائرہ سمجھنے کی بھول مت کرنا
ڈائن نے دھمکی دی تھی
شاہ صاحب نے کچھ نے سن اس ڈائن نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس کا بازو لمبا ہونے لگا اگلے لمحے ڈائن کا ہاتھ شاہ صاحب کے گلے پہ تھا دھن شاہ صاحب کے ہاتھوں سے نیچے گرگئی
مگر ان کے مرید دھن بجاتے جارہے تھے ڈائن نے اپنا سر ہلایا اس کی چادر سے ایک لمبی کالی چوٹی لہراتی ہوئی باہر آئی اور اگلے لمحے میں سارے مرید ایک ساتھ اس کی چوٹی میں جکڑے تھے
جیسے انھیں چوٹی سے نہیں ایک رسی سے باندھ دیا گیا ہو ڈائن نے ہاتھ اوپر کیا اس کا بازو اور لبا ہوگیا اور شاہ صاحب کو فضا میں اٹھا لیا جیسے وہ گوشت کے بجاۓ روئی سے بنے ہوں نہیں نہیں فائزہ اونچی آواز میں بولی
چھوڑ دو شاہ صاحب کو سب ایک ساتھ ڈر کے بولے تھے
سائرہ کی چوٹی پہ لگی آگ بجھنے لگی
ڈائن نے شاہ صاحب کو بہت اونچا اٹھایا وہ کچھ پڑھنے کی کوشش کررہے تھے مگر ڈاین ان کا گلا زور سے دبایا گھر کے سارے افراد کے چہروں پہ ڈر کا سایہ بیٹھا تھا ڈائن کا بازو اور لمبا ہوتا جارہا تھا
تمھاری دشمنی ہم سے ہمیں ختم کرو نہ شاہ صاحب نے تمھارا کیا بگاڑا ہے
انور نے اونچی آواز میں کہا
چھوڑ دوں لو چھوڑ دیا ڈائن نے کہا اور اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا شاہ صاحب اگلے لمحے زمین پہ گرے اور ان کا سر ان کے اپنے صندوق سے ٹکرایا اور وہ بےہوش ہوگئے
نہیں سب ایک ساتھ چلاۓ ڈائن نے سر ہلایا اور اس کی چوٹی لہراتی بیرونی گیٹ کے پاس گئی تینوں اس کی چوٹی سے گرے باہر کی طرف بھاگے
اب ڈائن واپس مڑی اس کی نظر سبھی افراد پہ تھی سب کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے سب پسینے سے شرابور ہوچکے تھے
کک کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے یہ سائن اس حصار کے اندر نہیں آپاۓ گی
انور نے زمین پر بنے حصار کی طرف اشارہ کیا
تم لوگوں کو کیا لگتا ہے یہ معمولی سا دائرہ مجھے روکے گا ایک ڈائن کو
ڈائن نے قہقہہ لگا کر کہا
ہاہاہا
ڈائن نے اپنی چوٹی کی طرف دیکھا اس کی چوٹی اڑتی ہوئی سارہ کی طرف گئی
نہیںںںں
سارہ زور سے چلائی
مگر اگلے لمحے ڈائن درد سے چلائی اس کی چوٹی پوری طاقت سے کھینچ لی ہو جیسے کسی نے سائرہ اب کھڑی ہوچکی تھی اور اس نے اپنی چوٹی سے دوسری ڈائن کی چوٹی کو جکڑ کے پوری طاقت سے کھینچا تھا
بب۔۔بے وقوف ڈائن یہ کیا کررہی ہو چھوڑو مجھے
ڈائن درد سے تڑپی تھی
پہلے تم مجھے اپنا یہ چھپا ہوا چہرہ دیکھاؤ اور بتاؤ مجھے میری زندگی میں آگ کیوں لگائی
سائرہ کرخت لہجے میں بولی
کیا بکواس کررہی ہو روائن میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے
ڈائن نے درد سے کہا
میں اچھی طرح جانتی ہوں تم نے ہی اکیس سال پہلے میری ساس اور ذیشان کی جان لی تھی بتا مجھے کیوں کیا تم نے یہ سب سائرہ نے چوٹی کو اور زور سے کھینچا
سائرہ غصے سے دھاڑی
چھوڑ ورنہ اچھا نہیں ہوگا تیرے لیے روائن
ڈائن نے دھمکاتے لہجے میں کہا
کیا ہورہا ہے یہاں سب میرا دماغ ختم ہوجاۓ گا ایسا لگ رہا ہے جیسے سٹارپلس کا کوئی نظر ڈرامہ چل رہا ہے کبھی ڈائن دشمن بن کر وار کر رہی ہے تو کبھی ہمیں سیو کررہی ہے ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ حریم نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما
یہ امی جی کہاں رہ گئیں اتنا شور ہنگامہ سن کر بھی کک کہیں وہ کسی
حریم کے دماغ میں طرح کے خیال آنے لگے
دیکھ روائن اب میرا وار ڈائن نے غصہ سے کہا اور اپنا ایک ہاتھ آگے کیا تو ناخن لمبا ہوگیا اس نے اپنے ناخن سے سائرہ کی چوٹی پہ وار کیا سائرہ نے درد سے چوٹی پیچھے کرلی ڈائن اب آزاد ہوگئی تھی
میں نے تو سوچا تھا ہم دونوں مل کر ان لوگوں کو ختم کریں گیں
مگر اب پہلے مجھے تمھیں ختم کرنا ہوگا روائن ویسے بھی میرا کوئی پرانا حساب چکانا ہے
سائن نے سائرہ کے سامنے کھڑے ہوکر کہا دونوں ڈائنیں آمنے سامنے تھی اور ایک دوسرے کو بھوکی شیرنی کی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں
ڈائن نے غصے سے سائرہ کو دیکھا اور اس پر حملہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنی چوٹی لہرائی مگر سائرہ فضا میں قلابازیاں کھاتے ہوۓ پیچھے ہوگئی
چھپ کر کیا وار کرتی ہے قائل ہمت ہے تو اپنا چہرہ دکھا
سائرہ نے کہا
چہرہ تو تیرا اب میں بگاڑوں گیں
ڈائن نے کہا اس سے پہلے کے سائرہ کچھ سمجھتی ڈائن نے سائرہ کو اپنی چوٹی میں مظبوطی سے جکڑ لیا اور سائرہ کے بالکل قریب آگئی
ڈائن نے دونوں ہاتھ آگے کیے اور پاگلوں کی طرح اپنے نوکیلے ناخنوں سے سائرہ کے چہرے وار کرنے لگی سائرہ کا چہرہ لہولہان ہوچکا تھا سارہ کنول اور عائشہ نے اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں
سائرہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائیں اور پوری قوت سے ڈائن کے پیٹ میں ماری ڈاین چلاتی ہوئی بہت دور جاگری مگر اس نے اپنا گھونگھٹ پکڑ لیا شاید اسے ڈر تھا کہ اس کا چہرہ نظر آجاۓ گا سائرہ نے آنکھیں بند کرکے کھلیں تو اس کے چہرے کے سارے زخم غائب ہوگئے
بھول مت ڈائن میں ایک روائن ہوں یہ چوٹیں یہ وار میرا کیا بگاڑا لیں گیں
سائرہ نے کہا
ڈائن نے اپنا گھونگھٹ ٹھیک کیا سائرہ کو دیکھتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئی
پاپا
علیان نے انور کو اشارے سے کچھ پوچھا انور نے ہاں میں سر ہلایا علیان آہستہ سے ایک طرف چلا گیا کسی کا دھیان اس کی طرف نہ گیا
لگتا ہے یہ ڈائن اپنا چہرہ دیکھانا نہیں چاہتی اس لیے اس نے گھونگھٹ کافی نیچے تک کیا ہوا ہے مجھے اس کے چہرے سے یہ نقاب ہٹانا ہوگا اس کے بعد یہ اپنے ہوش ایک لمحے کے لیے کھو بیٹھے گی اور یہی موقع ہوگا اس پہ وار کرنے کا
سائرہ نے سوچا
ڈائن شاید انتظار میں تھی کہ سائرہ اس پر حملہ کرے گی اگلے لمحے سائرہ دھواں بن کر غائب ہوگئی
بھابھی یہ ڈائنیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھی ہوئیں ہیں موقع اچھا ہم یہاں سے بھاگ جاتے ہیں
عائشہ نے دھیرے سے کہا
نہیں عائشہ وہ ڈائن ہے کہیں بھی آسکتی ہیں
فائزہ نے عائشہ کو کہا
مگر اس حصار میں ہم اب کب تک کھڑے رہیں گیں اور اس ڈائن کی چوٹی پہلے بھی یہاں آنے والی تھی وہ تو بھلا ہو اس دوسری والی کا کہ مجھے بچا لیا
سارہ نے کہا
علیان گیا ہوا ہے کچھ لینے تب تک بس ان ڈائنوں کو الجھا کے رکھنا ہے
انور نے بتایا
علیان کہاں گئے ہیں
حریم نے پوچھا
میں نے اسے اوپر بھیجا ہے تاکہ وہ زم زم زنوبہ کا سلیمانی خنجر اور بندوق لے آۓ
انور نے کہا
مگر پاپا جی امی اتنی دیر سے گئیں ہیں ابھی تک آئیں کیوں نہیں
حریم نے پوچھا
او مائی گاڈ بھائی ہم نے بھابھی کی طرف تو دھیان نہیں دیا
فائزہ نے کہا
کہاں گئی ہو روائن
ڈاین چلائی تو اب کا دھیان اس کی طرف ہوا
میں جانتی ہوں تم یہیں کہیں ہو کیونکہ ایک ڈائن کبھی یوں جنگ درمیان میں چھوڑ کر نہیں بھاگتی سامنے آؤ تم
تبھی سائرہ ڈائن کے عین نیچے نمودار ہوئی اور ہاتھ کرکے پیچھے سے اس کا گھونگھٹ کھینچے ہی لگی تھی کہ تبھی ایک کڑاکے دار دھماکے کی آواز سی ہوئی سائرہ کی پیٹھ میں گولی لگی تھی جو علیان نے چلائی تھی
سائرہ درد سے چلاتے ہوۓ پیچھے گر گئی
ڈائن تیزی سے پیچھے مڑی
اور علیان کے پاس یہ دیکھ کر فوراً پیچھے کی طرف اڑتی ہوئی دیوار پہ چڑھ گئی
انور تیزی سے علیان کی طرف آیا اور اس کے ہاتھ سے زم زم کے پانی کی شیشی لے لی
سائرہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں اور اس کی پیٹھ پہ موجود زخم غائب ہوگیا سائرہ نے بھی سیدھی سامنے کی طرف دیکھتا اور ایک لمحے میں وہ سامنے دیوار پہ چڑھ گئی اب سائرہ اور ڈائن دونوں علیان اور انور کو دیکھ رہی تھیں
سائرہ کی نظروں میں آگ بھڑک رہی تھی انور نے دیر نہ کرتے ہوۓ جلدی سے شیشی کھولی اور پانی سامنے ڈائن کی طرف پھینکا پانی سارا اس کے اوپر گیا وہ چلاتی ہوئی نیچے گر گئی اس کے جسم سے دھوئیں نکلنے لگے وہ تڑپنے لگی جیسے ایک سانپ
سائرہ جلدی سے دھواں بن کر غائب ہوگئی علیان اور انور چاروں طرف نظریں دوڑانے لگے تبھی علیان کے ہاتھ سے بندوق اور خنجر گرگئے سائرہ نے اس اپنی چوٹی میں باندھ لیا تھا اور اپنی چوٹی فضا میں کرلی اور خود بھی زمین سے تین فیٹ اونچی ہوگئی علیان اس کی چوٹی میں تھا
علیان
سب چلائے حریم بھاگتی ہوئی سائرہ کی طرف آئی سائرہ نے اپنے ناخن حریم کی طرف کیے حریم رک گئی
چھوڑ دو علیان کو سائرہ
انور نے اونچی آواز میں کہا
سائرہ نے اپنی چوٹی اور سخت کی علیان نے خود کو چھڑانے کی ناممکن کوشش کی
دیکھو چھوڑو میرے بچے کو تم ایسا کچھ نہیں کرو گی
انور نے کہا
ہمارے بھائی کو چھوڑ دو پلیز
عائشہ اور سارہ روتے ہوۓ کہنے لگی
دیکھو سائرہ ہم لوگ آرام سے بات کرسکتے ہیں پلیز علیان کو چھوڑ دو
فائزہ نے کہا
دیکھیے پلیز علیان کو چھوڑ دیجیے پلیز انھیں چھوڑ دیجیے
حریم نے ہاتھ جوڑے
بالکل اسی طرح بالکل اسی طرح گڑگڑائی میں روئی تھی پر تم لوگ میرے بچوں کو میرے آنکھوں کے سامنے مجھ سے دور لے گئے کتنا روئی تھی تڑپی تھی میں پر کسی کو رحم نہیں آیا آج سب کا حساب ہوگا آج اس بیگ خاندان چراغ مٹے کا آج تم دیکھو گے ڈائن کا انتقام
سائرہ نے چیخ کر کہا
دیکھو سائرہ تم ایسا نہیں کرسکتی
انور نے کہا
میں کیا کرسکتی ہوں یہ تو تم لوگ اب دیکھو گے سائرہ نے اپنا پورا منہ کھولا علیان کے چہرے سے ایک سفید سی روشنی نکلی اور سائرہ کے منہ کے اندر جانے لگی
علیان تو درد سے تڑپنے لگا
چھچ چھوڑ دو مجھے نہیں
حریم سمیت سب کا چہرہ آنسؤں سے تر ہوچکا تھا
تم اس کو نہیں مار سکتی سائرہ یہ ناممکن ہے
انور بولا
کیوں نہیں مار سکتی میں اسے ہاں
سائرہ نے پوچھا تھا
کیونکہ علیان تمھارا بیٹا ہے
سب گونجتی ہوئی آواز کی طرف مڑے جو کہ رفائزہ کی تھی
مم مطلب
حریم نے کہا
کیا بکواس ہے یہ
سائرہ چیختی ہوئی آواز میں بولی
ہاں سائرہ علیان ہی تمھارا بیٹا شایان ہے ہم نے اکیس سال پہلے تمھارے بچوں کو نہیں ختم کیا تھا بلکہ زندہ رکھا تم سے چھپا کر اور ان کا نام کاشان سے علیان رکھ دیا
جھوٹ بول رہی ہو تم اسے بچانا چاہتی ہونا
سائرہ نے ہچکچاتی آواز میں کہا
نہیں سائرہ تمھیں یقین نہیں آرہا تو تم وہ ڈائن بندھن کرو نہ جس سے یہ ثابت ہوجاۓ گا پلیز
فائزہ نے تیز تیز کہا
سائرہ نے اپنی دونوں آنکھیں بند کیں اور کچھ پڑھنے لگی او پھر آنکھیں کھول دیں اگر یہ میرا خون ہوا تو جیسے ہی مجھے چوٹ لگی گی اسے خود بخود لگے گی سائرہ نے اپنا دایاں ناخن اپنے ہاتھ پہ مارا اس کے ہاتھ سے کالا خون بہنے لگا اس نے علیان کی طرف دیکھا تو دنگ رہ گئی کیونکہ خون اس کے ہاتھ سے بھی بہہ رہا تھا
کاشان ہو تم میرے بچے سائرہ نے نیچے دیکھا اور زمین پہ آگئی اور اس نے اپنی چوٹی نیچے کی اور علیان کو چھوڑ دیا
حریم علیان کی طرف دوڑی اور اس سے لپٹ گئی باقی سب بھی علیان کے پاس آئے
سائرہ وہیں پتھر بنے کھڑی تھی
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابو میں کس کا بیٹا ہوں
علیان نے انور سے پوچھا
ہاں بیٹا یہ سچ ہے تم میرے نہیں سائرہ کے بیٹے ہو انور نے نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
سائرہ تیزی سے چلتی ہوئی انور کے قریب آئی اگر میرا بیٹا کاشان زندہ
ہے تو بتاؤ میری بیٹی سا۔۔سارہ کدھر ہے سائرہ نے جلدی سے پوچھا
فائزہ نے اپنا ہاتھ سارہ کی طرف کیا یہ رہی تمھاری بیٹی
مم۔۔۔میری بیٹی سائرہ نے سارہ کو پکڑ کر اسے گلے سے لگا لیا
تت۔ ۔تم میری بچی ہو میری سارہ میری بیٹی زندہ ہے زندہ ہے میری بچی مجھے تمھارے ماتھے پہ یہ نشان دیکھ کر پہلے ہی لگا تھق
جبکہ سارہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں ہو کیا رہا
تبھی دوسری سائن اٹھی اور اس نے اپنی چوٹی سے علیان کو پکڑنا چاہا مگر سارہ نے تیزی سے اس کی چوٹی ہاتھ میں پکڑ کر کھینچی ڈائن چلاتی ہوئی گرگئی اور اس کے چہرے سے گھونگھٹ ہٹ گیا
سب کی نظر جیسے ہی اس کے چہرے پر پڑی سب کے ہوش اڑ گئے کسی کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہورہا تھا اسے دیکھ کر
نن۔۔۔نہیں یہ نہی۔۔نہیں ہوسکتا یہ۔۔میری آنکھوں کا دھوکا ہے بس
امییی۔۔۔۔
عائشہ نے لمبی آواز میں کہا
چاچی آپ
حریم نے دونوں ہاتھ حیرت سے منہ پہ رکھتے ہوۓ کہا
کیونکہ یہ ڈائن کوئی اور نہیں عروسہ تھی
عروسہ تم
فائزہ نے کہا
ہاں میں عروسہ دی ڈائن
نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے یہ۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا چاچی کیسے
علیان خود پر یقین نہ کرتے ہوۓ بولا
او مائی گاڈ ہاؤ اٹس پاسیبل
سارہ کا سر چکرانے لگا عروسہ مامی ڈائن نہیں ہوسکتیں وہ تو اتنی کیوٹ۔۔۔
کنول نے کہا
عروسہ نے اپنی چادر دور پھینک دی
ہاں میں ایک ڈائن ہوں جو دیوار چڑھ سکتی ہے انسان کھاتی اپنے نوکیلے ناخنوں سے دل نکال لیتی ہے جس کا ایک سایہ ایک بار جہاں پر جاۓ وہاں سب کچھ تہس نہس ہوجاتا ہے ایک ڈائن ہوں میں۔اور ایسی سائن ہوں جو نو گھر چھوڑ کر نہیں سیدھا اپنے ہی گھر پر حملہ کرتی ہے
عروسہ کیوں کیا تم نے یہ سب کیوں آئی تھی ہماری زندگی میں
فائزہ نے کہا
میں کوئی پیدائشی طور پہ ڈائن نہیں فائزہ بلکہ مجھے ڈائن بنادیا تم لوگوں نے جب ہم لوگ بہت امیر نہ تھے تو کوئی غریب بھ نہ تھے اتنا اچھا چھوٹا سا کاروبار تھا ہمارا پر وہ سارا بزنس پیسہ انور کے نام تھا میرے اور عاقب کے پاس کیا تھا پھٹی کوٹی تک نہ تھی جبکہ محنت دونوں بھائی کرتے
پھر بھی سب کچھ اس انور کے نام مجھے کچھ لینا ہوتا کچھ چاہیے ہوتا ان کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے اور گھر کی تو ساری ملکیت تو رفعت کے پاس تھی نہ میرے پاس تو اپنے لاکر کی چابیاں تک نہ تھیں
اور پھر جب سائرہ اور ذیشان کی شادی کے بعد سائرہ نے سب کچھ انور اور ذیشان کے نام کردیا اور مجھے اینڈ عاقب کو کیا ملا کچھ بھی نہیں مجھے اور عاقب کو بہت غصہ آیا ہم تب کچھ نہیں کرسکے اس لیے جب رفعت پریگنینٹ ہوئی
تو میں نے اسے ایسی دوائی دودھ میں ملا کے دی کہ اس کا بچہ گر جاۓ اور پھر کبھی دوبارہ کبھی ماں نہ بن پاۓ اور ان دونوں کے مرنے کے بعد سب کچھ ہمارا ہوجاۓ لیکن نہیں عاقب کو تو اپنے بھائی کو مار نہیں سکتا تھا
پھر ایک اماوس کی رات کو میں نے چھت پر دیکھا کہ سائرہ کی دا پندرہ فٹ چوٹی لہرا رہی تھی اور اس کی آنکھیں سفید میں اسے دیکھتے سمجھ گئی کہ یہ ڈاین کیونکہ میں نے ڈائن ک بارے میں بہت سن رکھا تھا اور پھر میرے دماغ میں ایک نیا خیال آیا میں نے ایک کالے جادوگر سے مل کر اسے سائرہ کے بارے میں بتایا
اس نے آنکھوں کا رنگ سن کر سمجھ لیا کہ وہ روائن ہے اور اس نے مجھے بتایا کہ رائن کے پاس ایک رو۔منکا ہوتا ہے جو بھی اس کو حاصل کرکے کھاکے وہ ہزار سال تک جیتا ہے یہ سن کر تو جیسے میری آنکھوں میں چمک آگئی میں ان اس جادوگر کو اتنے پیسے دیے کہ وہ مجھے طاقتور بننے کا کوئی راستہ بتا دے
اس نے مجھے طاقتور تو کیا ایک ڈائن بننے کا ہی طریقہ بتا دیا اور سب کچھ جاننے کے بعد میں نے اس جادوگر بیچارے کی سپاری دلوا کر اسے ہی مروا ڈالا
اس کے بتاۓ گئے طریقے کہ مطابق مجھے روز رات کو دو بجے ایک زندہ معصوم بچے کی گردنے کاٹ کر شیطان کی مورتی کے سامنے قربانی دینی ہے اور اس کا خون پینا ہے
پھر روز رات کو ثاقب کہیں سے مجھے ایک بچہ لادیتا
پہلے پہل مجھے یہ مشکل لگا کیونکہ ایک بچے کا خون پینا مشکل تھا پر کیا کریں لالچ چیز ہی ایسی ہے اور چھ مہینوں کے اندر ہی میں ایک ڈائن بن گئی میں نے ایک چال سوچی ایک رات کو میں نے اپنے ساس سسر کی جان لے لی اور سائرہ کو ڈائن ثابت کردیا اور پھر ذیشان کو مار دیا تاکہ یہ لوگ اسے مار ڈالیں اور ڈائن منکا مجھے مل جاۓ
مگر نہیں اس ڈائن سائرہ نے پہلے ہی منکا اپنے بیٹے کو دےدیا تھا اور یہ بات مجھے اس کا پتھر بننے کے بعد معلوم ہوئی اور پھر مجھے پتا چلا کہ رفعت انور سائرہ کے بچوں ختم نہیں کررہے بلکہ اسے زندہ رکھیں گیں ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا
اور پھر مجھے ایک اور بات معلوم ہوئی کہ رو منکا مجھے تب ہی ملے گا جب علیان بائیس سال کا ہوگا پر اس سے پہلے مجھے اس کی شادی نہیں ہونے دینی اور پھر میں نے علیان کے سپنوں میں اسے ڈرانا شروع کردیا
ایک دن اس بڈھے شاہ کو پتا چل گیا کہ علیان کی شادی سے ڈائن کو فایدہ ہوگا تو رفعت کو اس کی شادی کی جلدی پڑگئی علیان کے لیے لڑکی بھی آگئی ثنا پر میں نے موقع دیکھ کر اسے ختم کردیا اور پھر اس غار میں جاکر بابے کو بھی ختم کردیا لیکن آخری وقت پہ یہ حریم آگئی
اور تم لوگوں نے اس علیان کی شادی کروا دی اور اس وجہ سے جو سائرہ پچیس سال بعد آنے والی تھی وہ ایکسویں سال واپس آگئی اور اب مجھے وہ رو۔منکا ہر حالت میں چاہیے
فائزہ آگے بڑھی اور ایک زور دار تمانچہ عروسہ کے منہ پہ ماردیا
لعنت ہے تجھ پر کمینی لعنت ہے تجھ پر تم تو انسان ہوکے ڈائن سے بھی بری نکلی تھو
فائزہ کی اس بات پر عروسہ کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا اس نے غصے سے زور سے فائزہ کا گلے سے پکڑ لیا
امیی
کنول چلائی
سائرہ نے اپنا سر ہلایا اور اپنی چوٹی زور سے عروسہ کے بازو پہ ماری عروسہ نے ہاتھ پیچھے کرلیا فائزہ کھانستے ہوئے بھاگ کر پیچھے آئی
اسے تو میں دیکھتی ہوں میرا سب کچھ کھا گئی تو چھوڑوں گیں نہیں میں تمھیں
سائرہ آگے بڑھتے ہوۓ انور کو اشارہ کیا اور خود عوراہ کے پاس جاکر اس کی گردن سے پکڑ اسے فضا میں بلند کرکے پوری قوت سے زمین پر پٹخ دیا
عروسہ بھی تیزی سے کھڑی ہوگئی اور اپنی چوٹی سے سائرہ کو پکڑنے کی کوشش کی مگر سائرہ نے ہوا میں بہت اونچا جمپ لےلیا
تبھی عروسہ کی پیٹھ میں انور نے زور سے سلیمانی خنجر گھونپ دیا
آآآآآ
عروسہ کی چیخوں سے پورا گھر گونج اٹھا
عروسہ دھڑم سے پیچھے گری اور خنجر اس کے اندر پیوست ہوگیا
یی۔۔یہ۔۔اچ۔۔اچھ۔۔۔اچھا نہیں کیا تت۔۔۔تم لوگوں نے م۔۔میں نہیں۔۔مارسکتی تبھی عروسہ نے اپنی دائیں آنکھ میں زور سے ناخن مارا سب کا یہ منظر دیکھ کلیجہ منہ کو گیا پر سائرہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی
میں روائن منکا لوگیں اس سائن کے آنکھ کے وار سے تو روائن سے بھی بڑی ڈائن مر سکتی ہے تو تیرا بیٹا کیا چیز ہے عروسہ نے اپنی آنکھ علیان کی طرف پھینکی مگر تبھی سائرہ تیزی سے علیان اور عروسہ کے درمیان آگئی اور وہ آنکھ سائرہ سے ٹکرائی
نہیںںںں
اپنا وار خالی دیکھ کر عروسہ زور سے چلائی تبھی عروسہ کے پورے جسم کو آگ لگئی وہ چلانے لگی تڑپنے لگی اب کےلئے یہ منظر بہت خوفناک تھا اور دیکھتے دیکھتے عروسہ جل کر راکھ ہوگئی اور اس کی راکھ غائب ہوگئی
تبھی سائرہ بھی زمین گر گئی سب اس کی طرف لپکے
کک کیا ہوا سائرہ
فائزہ نے ہڑبڑاتے ہوۓ کہا
مجھے معاف کردو اب لوگ پلیز مجھے معا۔۔معاف کردینا مم۔۔میرا آخر۔مآخری وق۔۔۔وقت آگیا ہے
انور بھائی مم۔۔میرے بچون کا خیال رکھنا مجھے معاف کردینا
نہیں نہیں سائرہ تم معافی کیوں مانگ رہی ہم نے تمھارے ساتھ بیت غلط کیا ہمیں معاف کردو کچھ نہیں ہوگا تمھیں
فائزہ کے رخسار آنسؤں پٹکنے لگے
علیان سارہ مجھے معاف کردو بس آج ہوے میری ایک خواہش پوری کردو مم۔۔میں برسوں سے تمھارے۔۔منہ سے ماں۔۔۔لفظ۔۔سن۔۔سننے کےلئے تڑپ رہی تھی آ۔۔آج بس میر یہ حسرت پوری کردو
سائرہ مشکل سے الفاظ نکال رہی تھی وہ بہت تکلیف میں تھی اس وقت
ہاں امی آپ میری امی ہو میری امی
سارہ سائرہ سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی علیان کے آنسؤں تمھم نہیں رہے تھے
امی ہمیں معاف کردیں علیان نے کہا
نن۔۔نہیں تم لوگ مم۔۔مجھے معاف کرنا ۔۔۔اور رف۔۔رفعت کچن۔۔۔میں بےہوش پڑ۔۔پڑی ہے اس پر عروسہ ن۔۔نن نے حملہ کیا تھا اسے بچا لینا
حر۔۔حریم
جی جی آنٹی
میر۔۔میرے عل۔۔علیان ک۔۔کا۔۔خی۔۔ال۔۔رکھن۔۔۔
اور سائرہ کی سانسیں دم توڑ گئیں
نہیںںںں نہیںںں سارہ اور رفعت زور زور سے دھاڑیں مار کر رو رہیں تھی جبکہ باقی سب کی حالت بھ کچھ ٹھیک نہیں تھی
ارے شیطان رک جاؤ کہاں بھاگی جارہی ہو تیار ہوجاؤ جلدی سے
حریم اپنی چھ سال کی بیٹی پری کو پکڑنے کی ناکام کوشش کررہی تھی جبکہ وہ ہاتھ آن کا نام نہیں لے رہی تھی
پاپا۔۔۔پاپا آگئے پاپا آگئے
پری علیان کی طرف بھاگتے ہوۓ گئی علیان نے بھی جھک کر اسے اٹھا لیا
ارے کیا ہوا میری پری کو کیوں بھاگ رہی ہے
پاپا دیکھو نہ مجھے مما نیلی فراک پہنانا چاہتی ہیں جبکہ مجھے وہ بالکل پسند نہیں مجھے وہ اپنا بلیک لہنگا ہی پہننا ہے
پری نے منہ بنا کر کہا
ارے کیوں پریشاں کر رہی ہوں میری شہزادی کو حریم
دیکھیے نہ آپ کی شہزادی بھی نہ آپ کی طرف نخریلی ہے کل ضد کرکے وہ وہ فراک لی اور آج نہ پہننے کی صد لگا کر بیٹھی ہے
حریم نے شکایتی لہجے سے کہا
تو کیا ہوگیا جو ہماری پری کا دل کرے گا وہ وہی پہنے گی تم اسے بلیک لہنگا ہی پہنا دو ویسے بھی ہم عالیہ اور ریان ہی امریکہ سے آرہے ہیں نہ کوئی اور تو نہیں
علیان نے مسکراتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے آپ تو ویسے بھی بس میرے بچی کو اپنی طرح بگاڑ ہی رہے ہیں
حریم نے ناک چڑاتے ہوۓ کہا
ارے میری پیارہ وائف ناراضگی چھوڑو اور اسے تیار کردو اب
علیان نے پری کو بیڈ پر بیٹھایا
اوکے جی
حریم نے مسکرا کر کہا
ٹھیک میں بھی چینج کرکے آتا ہوں علیان کمرے سے باہر چلا گیا
حریم نے پری کو تیار کیا ٹھیک پری بیٹا ناؤ یو آر ریڈی آپ یہیں رہو میں پانی پی کے آتی ہوں حریم کمرے سے باہر چلی گئی
پری نے حریم کے باہر جاتے ہی اپنی ٹوائز کپرڈ کے پاس گئی یہ میری فیورٹ ڈال اس کپرڈ کے اوپر کس نے رکھ دی اف اتنی اونچی ہے میں کیسے اتاروں اس کو
پری نے دو٬تین جمپ مارے مگر وہ بہت اونچی جگہ رکھی تھی
اف مجھ سے نہیں ہوگا یہ پری نے آنکھیں بند کرکے ایک لمبا سانس لیا مگر اس آنکھیں کھولتے ہی ان کا رنگ بدل سفید ہوگیا اس کے ناخن لمبے نیلے اور چوٹی بہت بڑی ہوگئی پھر اس کی چوٹی خود ہی اوپر گئی اور اس کی گڑیا کو نیچے لے آئی اور پھر اس کے چوٹی آنکھیں اور ناخن نارمل ہوگئے
پری نے گڑیا اٹھا لی
واہ میرے پاس تو میجک
تبھی حریم واپس آئی
او پری بیٹا آپ نے یہ ڈول اوپر سے کیے اٹھا لی
میجک سے مما
پری نے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا
چلو شیطان تم بھی نا حریم کی نظر پاس پڑے ٹول پر پڑی مگر وہ حقیقت سے انجان تھی
ختم شد


🔥🔥