نکلتی ہی نہیں

نکلتی ہی نہیں

اتنا سب لکھ کر دل کی بھڑاس نکلتی ہی نہیںدل مر چکا کب کا میت ہے کہ مجھ سے نکلتی نہیں میں کیوں خوابوں کے سہارے جیوںایک نیند ہے جسکی
میں مستقبل تو نہیں

میں مستقبل تو نہیں

میں مستقبل تو نہیںمگر تیرا حال جانتا ہوں حال بھی ایسا کہکمال جانتا ہوں مجھے علم ہے تیری سحر و شب کامیں تیری ہجرت کے وہ ایام جانتا ہوں تیری
مَصرُوف وَفا تھا

مَصرُوف وَفا تھا

مَصرُوف وَفا تھا خود سے مِلتا نہیں تھا میںوہ سَانحے ہُوئے پھر ہِلتا نہیں تھا میں بس کُن کہا ِکسی نے اور میں عَیاں ہوااِک بھید کی طَرح تھا کُھلتا
محبت گر انتہا کی ہے

محبت گر انتہا کی ہے

محبت گر انتہا کی ہے تو نفرت کا پیمانہ نہ ناپہم پر نازل ہوا ہے تو ہم ہی سہیں گے یہ عزاب میری محبت جھوٹی تیری نفرت سچی ارےے واہ…!بتاؤ
سنتی ہے نا وہ کچھ سناتی ہے

سنتی ہے نا وہ کچھ سناتی ہے

سنتی ہے نا وہ کچھ سناتی ہےیہی بات ہم دونوں کو لڑاتی ہے کبھی نام تک نہیں لیتی میراکبھی مجھے چھوکر بھی چلی جاتی ہے کوئی بات نہ کرو اس
ایک دن دیپک جلا بیٹھا

ایک دن دیپک جلا بیٹھا

ایک دن دیپک جلا بیٹھا تیری یادوں کااب چینج کر رونے سے کیا ہوگا حالت میری ایسی کی تیرے ہجر نےاب تیرے ہونے سے بھی کیا ہوگا میں تنہا بیٹھا
جی لیتے اگر محبت نہ کرتے

جی لیتے اگر محبت نہ کرتے

اس افسانے کا کبھی زکر نہ کرتےجی لیتے اگر محبت نہ کرتے تمہاری نظروں کے چند سوال تھےکیسے ممکن تھا کہ اب ہم سنبھلتے دھڑکنیں ہماری رکنے کو تھیںاور تمہارے
محبت کا ہونا بھی ضروری

محبت کا ہونا بھی ضروری

اک دن محبت کا ہونا بھی ضروری ہےجیسے دنیا کا دنیا ہونا بھی ضروری ہے میں کیسے کہ دوں کہ مجھے محبت نہیں ہوئیہاں مگر اک دن محبت نے مجھے
مجبور ہوں

مجبور ہوں

عادت سے مجبور ہوںلکھنا مجھے آتا نہیںلکھتا پھر بھی روز ہوںکہہ نہیں پاتا جو بات میںلکھتا ہوں وہ کاغذ پہپھر اسے بھی پھاڑ دیتا ہوںدرد نہ ہو جائے عیاں آنکھوں