چیختی خاموشی

چیختی خاموشی

مطلع:چیختی خاموشی بھی اک پیغام دیتی ہےسناٹے کی دیوار کو الزام دیتی ہے اشعار:آنکھوں میں چھپا لیتی ہے طوفان کی شدتلب بند مگر ہر صدا انجام دیتی ہے خاموش لبوں
رادھا

رادھا

Last part طارق خان خون میری رگوں میں ٹھوکریں مارنے لگا۔ سوچ سوچ کر دماغ شل ہوگیا۔ اچانک مجھے خیال آیا ’’کیوں نہ رادھا سے اس مسئلے پر بات کی