خوشبو نے انگڑائی لی ہے

خوشبو نے انگڑائی لی ہے

عبدلمنیب بدلا ہے موسم، خوشبو نے انگڑائی لی ہے ہوا نے پھر سے دل میں اک لہر چلا لی ہے بادل سے بھیگے خواب، آنکھوں میں سمائے ہیں بارش کی

سخن میں خوشبو

عبدلمنیب سخن میں خوشبو، جذبوں کی بات ہوتی ہے یہ دل کی حالت کی کچھ خاص بات ہوتی ہے کبھی غموں کا سفر، کبھی خوشی کا نش ہر ایک لفظ

محبت اک خواب سی

عبدلمنیب محبت ایک خواب سی، جو دل میں جاگتی ہے خوابوں کی طرح یہ، دھیرے دھیرے بانٹتی ہے اک پل کی خوشبو ہے، جو ہردم مہکتی ہے دل کی گلیوں

عشقیہ اظہار

مرشد تم گواہ رہنا۔۔اک روز قلبی صداقتیں اور سچی پکار بر آئے گیاور تماپنے دل کے مخملی پردوں کے پیچھے چھپے عشقیہ اظہار میں عار محسوس نہیں کرو گی۔۔عالم ارواح

وہ پیکر جمال تم ہو

ایک مرد جب کسی عورت کا عشق اوڑھ لے تو پھر کشا ہوتا ہے میری زندگی ، میری جاناں سنو۔۔ عشقیہ اظہار کو ارتکاب جرم سمجھنے والوں کے گوش گزار

اداس

نہ کچھ بنا کے ہوئے اور نہ کچھ گنوا کے ہوئے اُداس جب بھی ہوئے تیرے پاس آ کے ہوئے شہزاد سلیم

مسلسل سفر ہے

~غالب برہان وانی قیام ہے کسی شعلہ بدن کی بانہوں میںاور اُس کے بعد مسلسل سفر ہے میرے لئے عجیب دربدری کا شکار ہوں وانیکوئی بھی در ہے کہیں اور

ترکِ محبت

~غالب برہان وانی بھلے ہی جسم کو زخموں سے بھر دیا جائےارادہ ترکِ محبت کا کیوں کیا جائے شریکِ جرم نہیں ہوں مگر یہ ڈر ہے مجھےکہ ہمنوائی میں مجھ